محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ شرفِ قبولیت  
نماز ہورہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں۔ پھراذان ہوتی ہے ، اس کو سن لیتے ہیں۔ پھر نماز بھی باجماعت ہوتی ہے لیکن اس سے ہماری غفلت جاری وساری ہے۔ 80-85سالہ زندگی میں -70سال سے نماز دیکھی ہی جارہی ہے۔ باقی 15-20سال ہی البتہ نماز پڑھی گئی ہے۔ وہ بھی اللہ قبول کرے گا یانہیں ، پتہ نہیں
۲۔ دونام 
دِل نے دوست نہیں پکڑ ے اور ہاتھوںنے پیسے نہیں پکڑے ۔ہردو اِدھر آیا اُدھر گزرگیا۔دنیا غرض مند تھی یہ بے غرض ۔ اورپھر مالیہ کے لئے تجوری کادُکھ اس نے پال نہیں رکھاتھا۔
جو کچھ زندگی میں بوجوہ باقی رہ گیاتھا ، وہ ربِ کائنات اور اس کے آخری پیغمبر ﷺکا اسم ِ گرامی تھا۔ ان دونام کے بیانرتلے وہ انسانوں سے ٹوٹ کر
محبت کرتاتھا۔
 ۳۔ اماں جانی کا قول 
’’ضرورت پڑنے پر کتوں سے دوستی کرلینا مگر خوش فہمی میں رہنے والوں سے نزدیکیاں نہ بنانا۔دراصل خوش فہمیاں ذلالت پسندافراد کی سیج ہواکرتی ہیں۔ وہ اسی پرحیاسے عاری زندگی گزاردیتے ہیں ‘‘ اماں جانی نے یہ بات ایسے کہی تھی جیسے ان کاکوئی فرمان ہو مگر زندگی کے تجربات نے بتلادیاکہ اماں جانی نے جو کچھ کہاتھا، درست کہا تھا۔
۴۔ نام اپنا 
میں نے کہا’’اپنانام لکھنے ، سننے اوربولنے میں بڑالطف آتاہے،میری زندگی کا ہردن کیاجانے والا سب سے بڑاتجربہ ہے یہ ‘‘
انھوں نے ایک نگاہ میری طرف کی اور کہا’’جس سے عشق ہوجائے ، جس سے دل لگ جائے ، جس کے احسانات زندگی پرہوں ، اس کانام ، اس کاتصور، اس کی صدااور ادا سبھی کچھ لطف دیاکرتے ہیں ‘‘
انھوں نے توقف کیااور پھر کہا’’کبھی کبھی آسمان کو دیکھ لیاکر وکہ لامحدود اونچائیوں کی زعم میں وہ نہیں رہتا۔ وہ ہم پر مہربان ضرور ہے۔یہ اسلئے کہہ رہاہوں کہ، مجھے لگ رہا ہے ، تم اپنے سے آگے دیکھ نہیں پاتے ہو، باوقار اور ملنسا روہی ہوتاہے جو اپنی جگہ دوسروں کورکھ پاتاہے‘‘
میں شرمندہ سا ہوکر رہ گیا۔خود کو ایک تصوراتی چپت لگائی اور نصیحت کی کہ بڑوں کے سامنے بکواس سے پرہیز کرناچاہیے مگر خوشی اس بات کی تھی کہ آج کچھ سیکھنے کو ملا۔
۵۔ چربی شدہ لڈو
مندر کے پرساد کے لڈو میں گائے کی چربی ملادینے کامعاملہ زوروں پر ہے ۔مختلف سیاست دان مختلف باتیں کہہ رہے ہیں۔ بڑے بڑے یوٹیوبر اپنے اپنے چینل پر اس بات کو لے کر کافی اہم تبصرے کررہے ہیں۔ دوسری طرف دانشور سوچ رہے ہیں کہ ان سیاست دانوں نے قبل از آزادی والا ماحول ملک میں پیدا کردیاہے۔ مندر اور مسجد میں بالترتیب گائے اور سورکاگوشت پھینکنے کاسلسلہ شاید کارگر نہیں رہا۔ اب پرساد کے لڈو میں گائے کی چربی ملانے کامعاملہ سامنے آیاہے۔ ایک مسلم دانشور نے اٹھ کر کہا’’کیا آپ کو نہیں لگتاکہ کہیں نہ کہیں سے کل کلاں کویہ مسئلہ سامنے آئے گاکہ فلاں درگاہ میں گدھے یاخنزیر کاگوشت پکا کر کھلایاجاتاہے ‘‘ دوتین دانشوروں نے موصوف کے نکتہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا’’شاید آپ کو نہیں پتہ کہ درگاہوں کے لنگر میں گوشت نہیں پکتا ، اسلئے وہاں کوئی مسئلہ کھڑا ہوایسا نہیں ہوسکتا‘‘ موصوف اڑگئے ، کہاکہ ’’ہمارے اِدھر کی درگاہوں کے لنگر میں گوشت شامل ہوتاہے‘‘ بات کچھ زیادہ ہی بحث کی نظر ہوگئی ۔تب دیگر دانشور ان کو کافی کوششیںکرنی پڑیں، تب کہیں جاکر معاملہ ٹھنڈا ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے