ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی بارہ بنکی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسرائیل نے لبنان کی سرحدوں پر محاصرہ آرائی شروع کر دی ہے جو دُنیا کے لئے عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہوگی، ایسا محسوس ہوتا ہے۔ اسرائیل کے آرمی چیف نے بتایا ہے کہ ہم دو بریگیڈ فوج کو اِس خطّے میں اتارنے جارہے ہیں جو گراؤنڈ آپریشن کو انجام دے گی۔ اسرائیل نے اِس آپریشن کے لئے اپنی سب سے اچھی فوجی صلاحیت رکھنے والے ٹاپ لیول کے ہنر مند اور باصلاحیت فوجی کمانڈوز کو لبنانی سرحدوں پر بھیجا ہے، یاد رہے اس سے قبل بھی اسرائیل نے غزہ پر حملے کے لئے اپنی سب سے بہترین گولانی بریگیڈ کے فوجی اہلکاروں کو یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ یہ گولانی بریگیڈ ایک ہفتہ میں حماس کو ختم کر کے واپس آجائے گی لیکِن ایسا نہیں ہو سکا، ایک سال کے بعد بھی اسرائیل وہیں پر ہے جہاں سے اُس نے شروع کیا تھا۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں ضرور تبدیل ہو گئی ہیں، معصوم بچے اور خواتین مارے گئے ہیں۔ اِس لڑائی میں 41000 سے زیادہ لوگ شہید ہوئے ہیں 100000سے ذیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں لیکِن نتیجہ جس کا تس ہے۔ گولانی بریگیڈ تقریباً تقریباً ختم ہو گئی ہے، حماس کے لوگ بھی بہت مارے گئے ہیں مگر اب تک فتح حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیل نے  اپنی اِس شرمندگی کو چھپانے کی غرض سے اب لبنان کو نشانہ بنایا ہے۔ فضائی حملے کے بعد اب گراؤنڈ آپریشن کی تیاری بھی پوری کر لی ہے۔ فوج کو سرحدوں پر مقرّر کیا جا چکا ہے صِرف اشارے کی دیر ہے کہ اسرائیلی فوج کے بہترین کمانڈرز لبنان کے اندر گھس کر حملوں کو انجام دیں گے۔ فضائی حملوں میں 558 لبنانی شہید اور 1606 افراد زخمی ہوئے ہیں ایسی خبریں آرہی ہیں۔ اسرائیل کی افواج ہوائی حملوں میں ماہر ہیں اِس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے مگر وہ گوریلا کاروائیاں نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ گوریلا وار کی کاروائیوں کو برداشت کر سکتی ہے کیوں کہ حزب اللّہ کو اپنی سرنگوں کا اور پہاڑوں میں بنے ہوئے راستوں کا پورا علم ہے جبکہ اسرائیل کی فوج ایک مہاجر کی مانند اُس زمین پر موجود ہوگی۔ اِس نظریہ کو بھی اپنے ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ لبنان اکیلا نہیں ہے، یمن کی فوجیں شام میں داخل ہو چکی ہیں اِس طرح کی خبریں وہاں سے آرہی ہیں کہ شام اور عراق کے علاوہ بحرین، کویت، مصر، اُردن، تُرکی اور افغانستان سے بھی جنگجو تنظیمیں لبنان میں آسکتی ہیں جِس سے وہاں پر اسرائیل کو زبردست ٹکر مل سکتی ہے کیونکہ مُسلم ملک بھلے ہی اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوں مگر وہاں کی عوام کا دل فلسطین کے لئے دھڑکتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسرائیل کا زوال اب یقین میں بدل سکتا ہے۔ یہ جنگ جتنی زیادہ لمبی ہوتی جائیگی اسرائیل اتنا ہی کمزور ہوتا جائیگا یہ سچ ہے کہ امریکا اِسے بلین اور ٹریلین ڈالر کی امداد پہنچانے کیلئے آگے آجاتا ہے مگر ہمیشہ کوئی کِسی کو نہیں دے سکے گا کیوں کہ یہ پیسہ امریکی عوام کے دیئے ہوئے ٹیکس کا پیسہ ہے، یہ امریکی عوام کے لئے ہے نہ کہ اسرائیل کی ضد پر برباد کرنے کے لئے ہے؟

حماس اور حزب اللّہ دونوں کا ہدف ایک ہی ہے مگر زمینی حقیقت الگ الگ ہیں، حماس کو کہیں سے امداد نہیں آسکتی تھی کیونکہ وہ اسرائیلی حصار میں زندگی بسر کر رہا ہے مگر لبنان میں ایسا نہیں ہے، اُس کی سرحدیں اور بھی ملکوں سے ملتی ہیں اُس کی مدد کرنے والے وہاں سے بھی آسکتے ہیں جب کہ حماس کے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ اُس کی مدد صِرف اور صِرف فیلیڈلفیہ کاریڈور کی طرف سے ہی ہو سکتی تھی جہاں اسرائیل نے اپنی فوج کے اہلکار بٹھا دیئے ہیں۔ اِس لئے باہر سے امداد پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے مگر لبنان کی بات الگ ہے۔ لبنان کو فتح کرنا اسرائیل کے بس کی بات نہیں ہے، لبنان کے لئے روس اور ایران کے علاوہ چین بھی فضائی مدد کر سکتا ہے۔ فائٹرز کے بارے میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ کہاں کہاں سے لڑاکے آسکتے ہیں یہ صِرف ایک تجزیہ ہے ضروری نہیں ہے کہ حرف بحرف دُرست ثابت ہو۔ مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک لبنان کی جنگ نہیں چاہیں گے اور جلد ہی کوئی پرپوزل بھیجیں گے کہ اس جنگ کو جلد ختم کیا جائے کیونکہ اُنہیں بھی علم ہے کہ یہ حماس نہیں ہے یہاں اسرائیل تباہ ہو جائے گا جبکہ حماس کی جنگ بندی کے لئے کوئی آگے نہیں آئیگا کیوں؟

کیونکہ وہاں اسرائیل کا نقصان کم ہے جبکہ لبنان میں اسرائیل کی تباہی یقینی ہے۔ حزب اللّہ کے سامنے اسرائیل کیا چیز ہے، امریکا خود اتحادی افواج کے ساتھ آکر دیکھ لے اُنہیں خود اندازہ ہو جائے گا وہ بھی یہاں سے مار کھا کر خالی ہاتھ ہی واپس جائیں گے۔ امریکا لاکھ طاقتور صحیح صِرف سویلین کا قتل اور اُن کی بربادی کر سکتے ہیں اس سے زیادہ کُچھ نہیں، جنگیں ہمّت اور حوصلوں سے لڑی جاتی ہیں اور جیتی جاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے