محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ اقدام محبت کے
بھگت سنگھ جینتی کے موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر فریدہ آپاکہہ رہی تھیں ’’خبریں دیکھ ،سن کر یاپڑھ کر ایسا محسوس ہوتاہے جیسے دنیا میں ہر طرف بے چینی اور بے اطمینانی ہے ۔ تشدد ہے ۔قتل وغارت گری ہے۔ محبت کہیں نہیں ہے ‘‘
طالبات چوں کہ ڈگری کالج کی تھیں، سیانی تھیں، حالات کوسمجھتی تھیں ، اخبار پڑھ لیتی تھیں ۔موبائل پرخبریں دیکھنے کے طرف بھی کچھ طالبات کا رجحان تھا۔ اس لئے طالبات نے فریدہ آپا اسسٹنٹ پروفیسر کی بات پراثبات میں سرہلادِیا۔ فریدہ آپا نے پوچھا ’’اس مسئلہ کاحل کیاہوسکتاہے ؟‘‘
کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ فریدہ آپا نے نوشین مانسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’تم بتاؤ‘‘ نوشین مانسی آہستہ سے نشست سے اٹھنے لگی۔کچھ فکرمندنظر آرہی تھی ۔ بہرحال جواب تودیناتھا، اس نے کہا’’میم ، دنیا کو محبت کی ضرورت ہے ۔ جو کوئی محبت بھرا قدم اٹھائے گا، وہ کامیاب ہوگا‘‘
فریدہ آپا نے ملیحہ شاکت کو جواب دینے کے لئے نشست سے اٹھایا۔ ملیحہ شاکت نے کہا’’میم، نوشین مانسی کی بات سے مجھے اتفاق ہے ،محبت بھرے اقدامات ہی سے دنیا سے بے چینی ، بے اطمینانی اور تشدد دور ہوسکتاہے ، قتل وغارت گری پرروک لگ سکتی ہے‘‘
فریدہ آپا نے محبت بھرے اقدامات کی مثال دینے کے لئے اپنی ہی ہم نام فریدہ عالمہ کو زحمت دی ۔ فریدہ عالمہ نے کہا’’فریدہ باجی ، میں سمجھتی ہوں کہ دنیا میں محبت بھرے اقدامات کی مثال سرورِ کونین ، رحمت للعالمین اور آقائے دوجہاں کے اقدامات سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں ہوگی۔ اگر پیارے نبی  ﷺ کی طرح کے اقدامات مختلف ممالک کے قائدین پوری دنیا میں اٹھاتے ہیں تو یہ بے چین ، یہ نفرت کی حامی دنیا محبت میں ڈوب جائے گی۔ اور انسان تشدد اور مایوسی سے باز آجائے گا‘‘
فریدہ عالمہ کے جواب پر تمام طالبات نے تالیاں بجائیں۔ اسسٹنٹ پروفیسر فریدہ آپا نے بھی اس جواب پر اپنی پسندیدگی کی مہر لگاتے ہوئے ہاتھ اٹھاکرفریدہ عالمہ کو شاباشی دینے لگیں ۔
۲۔ نمایاں نسبی 
اس کی ہربات اور اس کاہر موقف درست۔ ایسی ہی زندگی تھی اس کی۔ کبھی کبھی تو ایسالگتاہے کہ انسانی سمندر میں وہ کسی مجسمہ کی طرح بلندی پر کھڑا ہونا چاہتاہے۔ اسی لئے اپنی ہربات کو درست کہہ کروہ ہردفعہ سب سے علیحدہ اور نمایاں ہوجاتاہے۔
۳۔ استاد کی آمد 
’’نثر لکھتے لکھتے ، نظم کہنا آسان نہیں ہوتا‘‘ قدوس کیف ؔ نے کہا۔ مرزا دبیر شہپرؔ بولے ’’نظم کہتے کہتے، نثر لکھنا بھی آسان نہیں ہوتا‘‘۔
جناب کیفؔ نے جناب شہپرؔ کو گھور کردیکھا۔ پھر استفسار کیا ’’کہیں تم میری نقل تونہیں کررہے ہو؟ ‘‘ مرزا شہپرؔ نے بھی انہیں گھورتے ہوئے کہا ’’کہیں تم میری سچ بات پر ناگواری تو محسوس نہیں کررہے ؟‘‘ اتنے میں استاد غالب صنمؔ تشریف لے آئے تو دونوں اپنا اپنا جھگڑا چھوڑ کر استادغالب صنم ؔ کے استقبال میں بچھ بچھ گئے۔ کہانی اس لئے ختم ہوگئی کہ دونوں شعراء کاجھگڑا ختم ہوگیاتھا۔
اس کہانی سے پتہ چلتاہے کہ ہر میدان میں استادکی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر استاد نہ ہوتو لڑائی، جھگڑا اور توتو میں میں کا ہونا لازمی ہے۔
۴۔ سمجھ دار قاتل 
اس سے صاف صاف کہہ دیا گیا’’کہانی میں جگہ جگہ جھول ہے ، کوئی اور خریدار ڈھونڈ لیں ‘‘ کہانی کار روپڑا ۔ اس نے کہا’’سر، میں جھول ہٹادیتاہوں، پلیز ، یہ کہانی خرید لیں ‘‘
پروڈیوسر اور اس کے دوست دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔اور پھر اس کی آنکھوں میںآئے آنسوؤں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا’’ہم پانچ ہزار روپئے اس کہانی کی قیمت دے سکتے ہیں ‘‘
دوگھنٹوں کے اندراندر بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ مشہور فلم پروڈیوسر کاچاقو گود کر قتل ، پروڈیوسر کادوست بھی زخمی ، قاتل فرار ہونے میں کامیاب، پولیس قاتل کی تلاش میں نکل پڑی ہے ‘‘
وہ ایک سنسان سے جگہ سے موبائل پربات کررہاتھا۔’’باس ، کام ہوگیاہے،پروڈیوسر کادانہ پانی ختم، میرے باقی دولاکھ مجھے پے ٹی ایم کئے جائیں‘‘ جواب آیا ’’ابھی پے ٹی ایم کردیتاہوں، لیکن تم اگر پکڑے گئے تو پولیس کے ذریعہ جیل میں تمہارا کام تمام کردوں گاسمجھے ‘‘ وہ بولا’’سمجھ گیاباس ‘‘
۵۔ غلامی پسند قانون
موسم تبدیل ہورہاتھا۔ ہرتین چار گھنٹے میں بدلتاہوا موسم بجائے سردی کی آمد کے گرماکی آمد کی خبر دے رہاتھا۔ ایسے میں مرکزی حکومت نے اعلان کیاکہ ’’قوانین بدلے جارہے ہیں، جوکوئی ان قوانین پر نہیں چلے گا، وہ اپنابوریہ بسترگول سمجھے ‘‘
آنے والے ماہ کی پہلی تاریخ سے قانون بدلے جارہے تھے۔ کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آرہاتھاکہ آنے والے قوانین کیاہوں گے ۔ سبھی بے چین تھے ، اور ایسے میں کوئی منادی لگارہاتھا’’دوستو، تمہاری پریشانی ہم سمجھتے ہیں ، دنیوی قانون بدلتے ہی رہتے ہیں مگر اُخروی قانون ہمیشہ ایک ہی رہتاہے۔ اس میں نیکی اور بدی کے پیمانے یکساں نہیں ہوتے ۔ تول میں ڈنڈی نہیں ماری جاتی ۔کالا سفید یا سفید کالانہیں ہوجاتا۔ شراب کو شراب اور سود کو سود ہی کہاجاتاہے ۔ لہٰذا اُخروی قانون کو دنیا میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے ‘‘
نئے قانون کی آمد میں غلطاں وپیچاں کیاکہہ سکتے تھے ؟عوام کی توسمجھ میں ہی نہیں آیا ۔ انہیں تو لگاکہ مرکزی حکومت ہویا ریاستی حکومت یاپھر گرام پنچایت کے منتخب عوامی نمائندے، سبھی ہمارے آقابن گئے ہیں۔ اور ہمیں غلام بناکر رکھاجارہاہے ‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے