مضمون نگار: شہزاد احمد

ہندوستان کے موجودہ دور میں سیاسی اور سماجی سطح پر اردو زبان و ادب کے ساتھ ہو رہے سوتیلے پن اور مسلمانوں میں انگریزی ادب کے تئیں بڑھتے رجحان نے اردو کو بسترِ مرگ پر ڈال دیا۔ایک وقت تھا جب مسلمانوں میں اپنے بچوں کو اردو پڑھانا لکھانا واجب سمجھا جاتا تھا مگر دیکھتے ہی دیکھتے حالات اتنے بدل گئے کہ اب ہم اپنے بچوں کو اردو پڑھانا عیب سمجھنے لگے۔ پہلے زمانے میں ابتداء سے ہی بچوں کو دینیات اور اردو پڑھانے پر خاص توجہ ہوتی تھی جو اب یہی توجہ بچوں کو انگریزی تعلیم سے آراستہ کرانے پر دی جاتی ہے۔ یہ بھی اردو کے تباہ ہونے کی خاص وجہ ہو سکتی ہے۔

در اصل مسلمانوں نے بھی اردو کو اپنی زبان نہیں سمجھا , ہمیشہ اردو کو ہندوستانی زبان کہتے رہےاور نتائج سے بے خبر رہے, وہیں دوسرے لوگ اردو کو مسلمانوں کی زبان کہتے رہے۔ آزادی سے لیکر اب تک چاہے وہ اتر پردیش کے پہلے وزیر اعلی گوبند بل٘بھ پنت جو اردو کے سخت مخالف تھے , ہندی کے مشہور ادیب اور سیاست داں ڈاکٹر سمپورنا نند جیسی نام چین شخصیتوں سے لیکر آج کے مذہبی آقا و سادھو سنتوں نےاردو کو ہندوستان کی زبان نہیں مانا ہمیشہ اسکو مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھتے رہے۔ اگر مسلمان بھی اردو کو اپنی زبان سمجھ لیتے تو آج اردو وینٹی لیٹر پر سسکیاں نہیں لیتی۔ جبکہ ہمارا مکمل دینی سرمایہ اردو زبان میں محفوظ ہے پھر ہمیں اردو کو اپنی زبان ماننے میں آخر عار کیوں ہے۔ حالانکہ یہ بات سچ ہے کہ اردو ہندوستان کی قدیم اور مقبول ترین زبان ہے مگر سیاسی و سماجی سطح پر مذہبی تعصب کا شکار ہونے کے سبب اسکو مسلمانوں کی زبان کہا جانے لگا۔مذہبی تعصب اور سیاسی مفاد اٹھانے کے لئے اردو کو مٹانے کی سازشیں زوروں پر ہیں۔ سر کاری اسکول اور کالجوں سے اردو صاف ہوتی جا رہی ہے۔اردو کے دانشوروں اور مسلمانوں کی عظیم تاریخ سے متعلق باب,نصاب سے غائب کر دیئے جا رہے ہیں تاکہ نئی نسل کے طلبا و طالبات انکی عظمت اور کارناموں کے علم سے محروم رہیں۔

اگر مسلمانوں نے اس تعصب کے بنیادی پہلو کو نہ سمجھا تو وہ دن دور نہیں جب انکی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ انکی تہذیب اور انکے مادی وجود کو ختم کر کے رکھ دیا جائیگا۔ تاریخ گواہ ہے جب کسی قوم کے وجود کو ختم کرنا ہو, تو سب سے پہلے اسکی زبان و ادب کو ختم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بزرگوں کے تاریخی کارناموں اور مذہبی کتب کا مطالعہ ہی نہ کر سکے۔ سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا دینی سرمایہ اور مسلمانوں کے عظیم کارناموں سے جڑی تاریخی کتابیں اردو زبان میں موجود ہے اس لئے اردو کو ختم کر دیا جائے تو نئی نسل خود اندھی ہوجائیگی۔ اس طرح نہ وہ اپنے دین کو سمجھ سکے گیں اور نہ اپنے اسلاف کی عظیم تاریخ اور انکے کارناموں سے با خبر ہونگے۔

اپنے دینی سرمایہ, بزرگوں کے کارنامے اور مسلمانوں کی عظمت کے تاریخی تذ کرے اور مذہبی کتب جو اردو رسم الخط میں لکھی ہوئی ہیں ان کو بچائے رکھنے کے لئے اردو کو بچانا کتنا ضروری ہے یہ آپ خوب سمجھ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے