اکبر الہ بادی
ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
تسطیر
ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ جبر بھی کرتے ہیں تو شکوہ نہیں ہوتا
یاں ملتی ہیں ناکردہ گناہوں کی سزائیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
میم عین لاڈلہ
حوض اسٹریٹ جگتدل
