محمد رضوان ندوی
ناظم مدرسہ سیدنا ابوہریرہ نواب گنج ضلع بہرائچ

الیکٹرانک میڈیا اور برقی ذرائع ابلاغ نے تصنیف وتالیف ،تحقیق وتدقیق ،کتب بینی اور مطالعہ کی اہمیت گھٹانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن سچی بات یہی ہے کہ جو اثر و ادراک محسوس کتابوں میں ہے وہ کمپیوٹر ، لیب ٹاپ اور موبائل پر نظر آنے والی کتابوں میں قطعی ندارد ہے ، بدذوقی ، بے حسی اور بے اعتنائی دیکھ کر بہت سے مضمون نگاروں ، قلم کاروں اور تصنیف و تالیف کےتاج داروں اور شہ سواروں نے تھک ہار کر میدان ہی بدل دیا اور کسی دوسرے میدان میں زور آزمائی اور طبع آزمائی کرنے لگے لیکن آج بھی کچھ باحوصلہ ، باکمال اور سراپا عزیمت و استقلال شخصیتیں ہیں جو عدم التفات و لا پرواہی کی تیز و تند پُروائی اور آندھی میں بھی قلم و کتاب لے کر امید کا دیا روشن کررہے ہیںاور پوری ہمت و جوش کے ساتھ لو تیز کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، ایسی ہی کمیاب اور عدیم المثال شخصیات میں ایک ابھرتا ہوا نام سلمان کبیر نگر ی کا ہے ، جنھوںنے اسباب و وسائل کی قلت اور ضروری سامان و پہچان کی کمی کے باوجود متعدد مفید اور کارآمد کتابیں صرف اس فکر کے ساتھ تصنیف کیں کہ راہ کا روڑا اگر میں نہیں دور کروں گا تو شاید دوسرے راہ گیروں کو تکلیف پہونچا دے ، انھوں نے پورے حوصلہ اور لگن کے ساتھ راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے ،انھوں نے اسی فکر کو اپنا شعار بنا لیا کہ؎
ہٹا سکو تو ہٹا دو یہ راہ کے پتھر
تمہارے بعد بھی کوئی یہاں سے گزرے گا
ایسے دور میں جب ہر کوئی صرف موبائل میں اپنی دنیا تلاش کرنے اوراسی میں اپنا گھر بسانے میں لگا ہوا ہے ،مفت میں ملنے والی کتاب کا مطالعہ بھی دشوار اور کار عبث بن گیاہے ، کھانے پینے اور سامان عیش و عشرت کی خریداری میں ہزاروں بے دریغ خرچ کرنے والی قوم چار پانچ روپئے کا اخبار خرید کر پڑھنے کواپنی توہین یا تضییع اوقات سمجھتی ہے ،ایسے حالات میں سلمان کبیر نگری جیسا مرد جفاکش کبھی شعاع حرم ، کبھی توشہ آخرت ، کبھی نئی روشنی لے کر مردہ ذہنوں میں بیداری کی روح پھونکنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی ذخیرہ تجوید لکھ کرسب سے افضل کتاب کوسب سےافضل طریقہ، بہتروبرتر اسلوب و انداز میں پڑھنےکی تلقین کرتا ہے ، کبھی ضلع سنت کبیرنگر کا جغرافیہ لکھ کر اپنی تاریخ ، اپنے خصائص و امتیازات ، اپنی قربانیوں اورکارناموں سے وابستہ رہنے اور کچھ کر گزرنے کا حوصلہ دیتا ہے ، کسی کی محنت،کاوش اور صلاحیت ضائع ہوتے دیکھتا ہے یا قلم کاروں، مضمون نگاروں ، شاعروں اور سخن وروں کی ناقدری نظر سے گزرتی ہے تو تذکرہ شعراء بستی کمشنری لکھنے بیٹھ جاتاہے ، جہاں جہاں کوئی کارآمد چیز ملتی ہے ، نہ دھوپ کی تپش اس کے ارادوں میں بیڑی ڈال پاتی ہے ، نہ سردی کی شدت اس کے قدموںمیں سستی پیدا کر پاتی ہے، بلا تفریق جانے انجانے ہر شخص کے پاس جاکر دستک دیتا ہے کہ قوم کے لئے اگر کوئی نفع بخش تعمیری سرمایہ تمہارے پاس ہو تو لاؤ میں بیمار انسانیت کے علاج کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہوں ، چمن میں بکھرے چھوٹے بڑے ادبی تنکوں کو اکٹھا کرتا ہے ، پھر ایک دن گھونسلہ تیار کرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن اپنی محنت سے اتنا ساما ن و اثاثہ اکٹھا کر لیتا ہے کہ دیکھتے دیکھتے شعر و ادب کا محل بن کر تیار ہوجاتا ہے ، وہ تھکتانہیں ، اکتاتا نہیں ، بہت مرتبہ حوصلہ شکنی کی کوشش ہوتی ہے لیکن صاف اعلان کردیتا ہے کہ
خدا کا شکر ہے سلامت ہے حوصلہ میرا
کوئی بھی روک نہ پائے گا راستہ میرا
حالیہ دنوں میں سلمان کبیر نگری کی دو انمول کتابیں تذکرہ شعراء بستی کمشنری اور جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر منظر عام پر آئیں تو علمی اور ادبی حلقوں سے آفرین آفرین کی صدائیں بلند ہوئیں ، واقعی ان کی محنت اور پیہم کوشش قابل قدر اور لائق تحسین ہے ،ضلع کے بہت سے مکاتب اور اسکولوں نے ان کی کتا ب جغرافیہ ضلع سنت کبیر نگر کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور بہت سے ہوش مند غور و فکر میں ہیں کہ جلد سے جلد راستہ ہموار کیا جائے ، دونوں کتابیں اپنے اپنے موضوع پر ضلع کے لئے بالکل نئی شروعات ہیں ، بہت قیمتی مواد جمع ہوگیا ہے اور مصنف موصوف مزید کے لئے برابر کوشاں و فکر مند ہیں ، تذکرہ شعراء بستی کمشنری کی دوسری جلد بہت ممکن ہے کہ جلد ہی منظر عام پر آجائے ، ایک بہت خاص بات یہ ہے کہ سلمان کبیر نگری کشادہ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر ایک مسلک اورمذہب کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا میدان فراہم کرتے ہیں ، اسی لئے انھوں نے اپنی کتاب تذکرہ شعراء بستی کمشنری میں ذات پات اور اونچ نیچ کا فرق کئے بنا ہر ایک کو اپنے جوہر دکھانے کا بھر پور موقع دیا ہے ،اللہ تعالی ان کی محنت کو قبول فرمائے اور علم و عمل کے میدان میں خوب ترقیات سے نوازے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے