تحریر:- محمد مصطفیٰ کعبی ازہریؔ
فاضل الازھر یونیورسٹی مصر عربیہ
سرہا : بیلہا ضلع سرہا مشرقی نیپال کے خطہ میں علوم کتاب وسنت ، مسلک سلف کی نشرواشاعت اور رد شرک وبدعت کے لیے دینی،علمی اوراخلاقی تعمیر میں جن اساطین دین وعلم اور بزرگان ملت نے بھرپور حصہ لیا اور اپنا خون جگر جلایا ہے ان میں نمایاں نام مولانا محمد شعیب عالم شاکر فیضی مدنی رحمہ اللہ کا بھی ہے، آپ مستند عالم دین ، باکمال معلم ، کہنہ مشق مدرس ومربی ، کامیاب خطیب وواعظ اوراعلی درجہ کے منتظم بھی تھے، اور بے لوث داعی تھے، آپ نے ضلع بارا میں دس سال، مارر ضلع سرہا میں تقریباً دو سال اور بیلہا کی سرزمین میں مسلسل آٹھ برس تک فکری شعور اور منہجی کردار کے ساتھ دعوت دین اور نونہالان امت کی تعلیم وتربیت کے فرائض احسن طریقے سے انجام دیئے ہیں، آئندہ سطور میں آپ کی حیات وخدمات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے ۔
خاندانی پس منظر:مولانا رحمہ اللہ کا خانوادہ ہندوستان سے متصل سرحد [جیے نگر مدھوبنی بہار ضلع سرہا: بستی کے ایک مردم خیز گاؤں ’’بیلہا‘‘سےتعلق رکھتا تھا جو جما عت اہل حدیث کے مولانا شمس الحق سلفی بن مولانا رضاء اللہ سلفی رحمہ اللہ متوفی : 1986ء اور مولانا عین الحق سلفی بن مولانا رضاء اللہ سلفی رحمہ اللہ متوفی : 1982ء کا مسکن تھا ۔ اپنے علاقے میں ایک خاص علم وفضل کا مقام رکھتے تھے والد محترم ”مولانا رضاء اللہ سلفی بلکٹوی رحمہ اللہ“ کی وفات کے بعد ان دونوں بھائیوں کا (صوبہ بہار ہندوستان اور مشرق نیپال کے علاقوں میں خصوصاً مشرق نیپال کے چار اضلاع : سپتری، سرہا، دھنوشا، مہوتری) دعوتی دورہ بکثرت ہوا کرتا تھا، گاؤں گاؤں اور بستی بستی کا دورہ کرتے تھے، واعظ و نصیحت کرتے تھے، لوگوں کے مابین پائے جانے والے نزاعات واختلافات کا حل فرماتے تھے، مدارس و مکاتب قائم کرتے تھے، مساجد بنواتے تھے، امام اور مدرس کا انتظام کرتے تھے ، لوگوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کراتے تھے، لوگوں میں اہل حدیث کی دعوت وتبلیغ فکری بیداری مہیا کرتے تھے، مشرکانہ عقائد ورسومات سے آگاہ کرتے تھے، خصوصاً مشرقی نیپال کے چار اضلاع (سپتری، سرہا، دھنوشا، مہوتری) میں شاید ہی کوئی ایسی بستی ہوگی جہاں مولانا شمس الحق سلفی اور عین الحق سلفی رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ کا دعوتی دورہ نہ ہوا ہوگا ۔
نام ونسب:محمد شعیب عالم فیضی مدنیؔ بن الحاج محمد شاکر۔
ولادت:آپ کی ولادت 1جون 1960ء موافق 6 ذی الحجہ 1379ھ ۔ 19 جیٹھ 2017 بکرمی بروز بدھ کو بیلہا 4 میں ہوئی (حال کلیان پور نگر پالیکا-12 بیلہا) ضلع سرہا نیپال ہے۔
ابتدائی تعلیم:مولانا رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے ہی مکتب ” مدرسہ نجم الہدی السلفیہ” بیلہا 4 (حال کلیان پور نگر پالیکا-12بیلہا) ضلع سرہا، نیپال میں حاصل کی۔
اعلیٰ تعلیم:بعد ازاں "مدرسہ اسلامیہ بھوارہ راگھونگر بہار ہند“ ، دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار ہند اور مدرسہ اصلاح المسلمین ، پٹنہ بہار ہند سے ہوتے ہوئے ہندوستان کے معروف و مشہور ادارہ” جامعہ اسلامیہ فیض عام” مئو ، اترپردیش یوپی ، ہند میں داخلہ لیا، جہاں سے امتیازی نمبرات کے ساتھ عالمیت 1977ء میں اور فضیلت 1979ء کی ڈگری حاصل کی۔ شیخ کی دلی خواہش تھی کہ مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے سعودی جامعات کا رخ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے مولانا رحمہ اللہ کی دعا کو قبول کر لیا اور آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے تشریف لے گئے وہاں کلیہ الشرعیہ سے آپ نے شہادہ بکالوريوس 1404-1405ھ مطابق 1984-1985ء میں حاصل کیے ۔ مزید بیہار بورڈ سے آپنے فضیلت کی ڈگری بھی حاصل کی تھی
عصری تعلیم:مولانا رحمہ اللہ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کیے ہوئے تھے جن میں ملت کالج دربھنگہ سے [ BA) وغیرہ شامل ہیں ۔
اولاد کی تعداد:مولانا محمد شعیب رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی نعمت سے نواز تھا بیٹے کا نام محمد اشتیاق شعیب اور دوسرے مولانا محمد امتیاز سلفی مکی حفظہ اللہ ہیں جو ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے فارغ التحصیل ہیں اور بیٹیاں کے شہناز پروین اور گلناز پروین نام ہیں ، آپ کی سبھی اولاد شادی شدہ ہیں اس کے علاوہ کئ نواسے اور نواسیاں بھی ہیں اور آپ کے کئی ایک پوتے پوتیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے ،اور دولت علم وعمل سے بہرہ ور فرمائے ۔ آمین
بھائیوں اور بہنوں کی تعداد:مولانا رحمہ اللہ کل چھ بھائی اور ایک بہن ہیں جن میں مولانا رحمہ اللہ سب سے بڑے تھے اس کے بعد جناب ماسٹر محمد عمیر شاکر حفظہ اللہ ، شیخ محمد اکمل شاکر سلفی مدنی حفظہ اللہ داعی ومترجم جالیات سکاکا سعودی عرب جو شیخ کی وفات کےبعدان کی جگہ صدر مدرس کی جگہ بحال ہوئے دو سال اس منصب رہکر سعودی چلے گئے ، شیخ محمد اکبر شاکر سلفی مدنی سابق صدر مدرس مدرسہ نجم الہدی السلفیہ بیلہا ضلع سرہا نیپال وحالياً استاذ مدرسہ ہذا، شیخ محمد اجمل شاکر فیضی حفظہ اللہ سابق استاذ مدرسہ نجم الہدی السلفیہ بیلہا ضلع سرہا نیپال(مقیم دوحه قطر) اور سب سے چھوٹے بھائی ماسٹر محمد اختر علی شاکر سابق صدر وناظم مدرسہ نجم الہدی السلفیہ بیلہا ضلع سرہا نیپال وحالياً استاذ مدرسہ ہذا اور بہن بصیرہ خاتون ہیں ۔ مولانا رحمہ اللہ کے علاوہ پانچوں بھائی اور بہن باحیات ہیں۔
مولانا رحمہ اللہ کے تدریسی خدمات:آپ رحمہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بکسوتی ضلع نوادہ کے مدرسہ میں صدر مدرس کے منصب پر فائز رہے اور اس مدرسہ کو بہار بورڈ سے محلق کروایا اس کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مدرسہ سلفیہ کنز العلوم رنگ پور کلیا نیپال میں 1986ء لیکر 1996ء تک مسند تدریس اور عمید المدرسہ کے عہدہ پر فائز رہے ادارہ کو فعال شعبہ یتیم خانہ کو شبانہ روز کی محنت اور جہود سے پروان چڑھایا ۔ چونکہ مولانا شعیب عالم مدنی رحمہ اللہ نے ایک طویل عرصہ یہاں گزارا تھا، علاقہ کے لوگ بلا تفریق مسلم وغیر مسلم سبھی مولانا موصوف سے نہایت ہی عقیدت ومحبت سے پیش آتے اور دلی محبت رکھتے تھے۔
اس کے بعد مولانا رحمہ اللہ نے مدرسہ فیض العلوم السلفیہ مارر ضلع سرہا نیپال میں 1997ء لیکر 1998ء تک تدریسی خدمات انجام دیئے ہیں ۔
بعدہ آپ کو باشندگان بیلہا نے عمید المدرسہ ومدرس مدرسہ نجم الہدی السلفیہ بیلہا ضلع سرہا نیپال کے عہدہ پر فائز کیا اور آپ نے چند ہی سالوں میں مدرسہ کی تعمیری وترقی اور تعلیمی نظام کو آگے بڑھاتے ہوئے ثانویہ تک کی تعلیم جاری کیا ۔ ادارہ بحمد اللہ تعالی تعلیمی وتربیتی ،دعوتی واصلاحی اور تعمیراتی ہر اعتبار سے شاہراہ ترقی پر تیزی کے ساتھ گامزن تھا ، مولانا رحمہ اللہ کے دل ودماغ پر ادارے کو بام عروج وترقی پر لے جانے کی فکر شب و روز مسلط رہتی تھی، وہ مدرسے کو مرحلہ عالمیت تک لے جانے اور بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے الگ مستقل نسواں تعلیمی ادارے کے قیام کا بھی منصوبہ رکھتے تھے اور مدرسہ ہذا تعلیم کی طرف رواں دواں تھا ۔ لیکن مولانا رحمہ اللہ کو اچانک ان کے سر میں ایک جانب ہلکا سوجن آیا درد کا إحساس زیادہ بڑھا اپنے علاقہ میں دوا علاج کے بعد افاقہ نہ ہوا تو مولانا علاج کے لئے دہلی گئے ۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ کو آپریشن کرنا ہوگا اگر آپ تیار ہیں تو آپریشن کیا جائے گا اس کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ آپریشن کے لئے یہاں کچھ تاخیر ہوجائے گی اس لئے آپ سلی گوڑی چلے جائیں اور وہیں آپریشن بھی کروا لیجیے گا اور ایسا ہی ہوا آپ کو سلی گوڑی اسپتال میں آپریشن ہوا ، الحمد للہ آپریشان کامیاب رہا آپ ٹھیک بھی ہوگئے تھے آپکو ہاسپٹل سے صبح ڈسچارج ہونا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا مؤرخہ 12 شعبان 1427ھ کو تقریباً دو بجے شب میں آپکی روح جسد خاکی سے پرواز کر گئی ، بلاشبہ ان کا انتقال ملک وملت اور جماعت کا عظیم خسارہ ہے۔
مشہور اساتذہ مولانا شعیب عالم:حافظ جمشید صاحب رحمہ اللہ، مولانا عین الحق سلفی بھدور بہار ، استاذ الاساتذہ شمس العلماء فضیلۃ الشیخ عبد الحمید فیضی مئو ، مولانا محفوظ الرحمن فیضی مئو ، قاری نثار احمد فیضی رحمہ اللّٰہ مئو، مفتی حبیب الرحمن مئو، اور شیخ عبداللّٰہ ظافر قحطانی اور ڈاکٹر راشد ریاض سعودی وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ اور آپ نے مختلف عرب علمائے کرام سے بھی استفادہ حاصل کیا ہے، جن میں شیخ ربیع بن ھادی المدخلی، شیخ عبید الجابری ، اور شیخ عبد اللّٰہ البخاری وغیرہ بھی ہے ۔ آپ نے علامہ محدث عصر الالبانی ، امام ابن باز ، امام ابن عثیمین اور ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہما اللّٰہ کی کتب اور دوروس و محاضرات میں شریک ہو کر شرف تلمیذ کا مقام حاصل کیا ہے۔ مزید آپ محدث عصر امام الالبانی، امام ابن باز اور ابن عثیمین رحمہما اللّٰہ کے فتاؤں کی آوڈیوں سے کافی استفادہ کیا ہے۔
مشہور تلامذہ مولانا شعیب عالم مدنی:شيخ مولانا کرم اللہ منصور مدنی کلیا ضلع بارا، مولانا امان اللہ منصور مدنی کلیا ضلع بارا، ، مولانا ضمیر صاحب سراجی مجھولیا ، مولانا کمال الدین صاحب بہوری ، مولانا جلال الدین شہید صاحب جیت پور ، مولانا شہاب الدین شہید صاحب جیت پور، مولانا ثناء اللہ منصور سلفی کلیا ضلع بارا، مولانا عبدالرحمن ریاضی کلیا ضلع بارا،، مولانا بشیر الدین ہارون تیمی، مولانا ابواللیث شیخ بھولا کلیا ضلع بارا، مولانا عنایت اللہ کلیا ضلع بارا، مولانا عبداللطیف کلیا ضلع بارا، مولانا ابراہیم سلمہ ازہری ، مولانا قمرالحق انصاری سلفی ، مولانا نثارالحق سلفی ، مولانا عبد الکریم شرف الدین ازہری ، ڈاکٹر قمر الحق انصاری ، مولانا شبیر احمد بشیر احمد مدنی سکٹا ، مولانا شفیع احمد بشیر احمد سکٹا، مولانا قرۃ العين بيلوا، مولانا رئيس الأعظم جھجھری، مولانا نورالہدی السلفي انڈیا ( گھوڑپکڑی غالبا) مولانا ادریس بھڑبھڑوا ، مولانا رضوان ریاضی صاحب بھڑ چھڑوا، مولانا عبدالقيوم بسنت پور ، مولانا ابو ہریرہ بشنت پور، مولانا محمد امتیاز سلفی رنگ پور کلیا، ضلع بارا، مولانا محمد امتیاز شعیب سلفی مکی بیلہاسرہا، مولانا محمد سمیل اختر جمشید سلفی ریاضی بیلہاسرہا اور اس کے علاوہ مشرقی اور مغربی چمپارن بہار کے طلباء کثیر تعداد میں آپ کے شاگرد رہ چکے ہیں ۔
عقیدہ ومنہج:مولانا رحمہ اللہ خالص اہل حدیث مذھب کے متبع تھے اور سلف صالحین کے عقیدہ و منہج کے مطابق ہی ان کا عقیدہ و منہج تھا-
مولانا رحمہ اللہ کے اخلاق و عادات:آپ نہایت بااخلاق، نرم خو اور سنجیدہ طبعیت کے حامل تھے، سبھوں سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، بڑوں کا ادب واحترام اور چھوٹوں پر شفقت الفت ومحبت کرتے تھے، دوسروں کی خدمت اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے شیخ رحمہ اللہ بفضل اللہ فرائض وسنن کا نہایت پابندی سے اہتمام کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام حسنات اور دینی، دعوتی، تعلیمی، اور سماجی ورفاہی خدمات کو قبول فرمائے اور بشری لغزشوں کو نیکیوں سے بدل کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔ آمین
مولانا رحمہ اللہ کے دعوتی خدمات:آپ رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ ، قرآن وسنت کی تعلیم وتشریح میں گزاری، اور تقریر وخطابت کے ذریعہ دین حق کی اشاعت وترجمانی میں بسر کی، آپ کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ کتاب وسنت کی خوشبوؤں سے معطر ہوا ، اور شرک وبدعات اور محدثات وخرافات وغیرہ ہرقسم کی دینی واعتقادی بگاڑسے بڑی حد تک محفوظ وپاک ہوا ۔ اسی طرح ملک نیپال کے مختلف اداروں سے منسلک رہ کر دعوت وتبلیغ کے میدان میں ہمیشہ سرگرم رہے ۔ مدارس کے ساتھ ساتھ آپ کا جماعتی تنظیموں سے بڑا گہرا رابطہ تھا ۔
خدمات مرکزی جمعیت اہل اہل حدیث نیپال:مولانا رحمہ اللہ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے دستور مولانا عبدالخالق سلفی جدوکہا نیپال سابق سرپرست، امیر وناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے کہنے پر اور انکی نگرانی میں تیار کیا اور جب بھوری بیرگنج میں جمعیت کی میٹنگ ہوئی تو اس میں مولانا رحمہ اللہ کے تحریر کردہ دستور پیش کیا گیا جس پر تمام شرکاء میٹنگ نے باتفاق رائے پاس کیا تھا اور اس دستور پر عملدرآمد کرتے ہوئے جمعیت کو آگے بڑھایا۔
مولانا رحمہ اللہ مختلف عہدوں پر جلوہ افروز ہوئے ہیں:مولانا رحمہ اللہ داعی وزارۃ الشئون الإسلامیۃ سعودی عرب، ، نائب صدر ضلعی جمعیت اہل حدیث سرہا نیپال، صدرالمدرسین ومدرس مدرسہ نجم الہدی السلفیہ بیلہا ضلع سرہا نیپال ، وصدر المدررسین مدرسہ کنز العلوم السلفیہ ، ومدرس مدرسہ فیض العلوم السلفیہ مارر ضلع سرۃا نیپال وغیرہ عہدوں پر فائز رہکر خدمات انجام دیئے ۔
مولانا رحمہ اللہ کے سماجی اور رفاہی خدمات:مولانا رحمہ اللہ کے سماجی خدمات بہت زیادہ ہیں اور اسی طرح آپ نے معاشرہ، سوسائٹی اور سماج میں بے شمار رفاہی خدمات انجام دیئے ہیں جن میں چند کا تذکرہ کرتا ہوں اور یہ ہیں : بناء المساجد والمدارس الاسلامیہ، بناء المبنۃ لتحفيظ القرآن الکريم (للبنين والبنات) ، بناء المبنی للفصول الدراسيۃلمدرسۃ، حفر الآبار، إقامۃ مدرسۃ تقنيۃ ( الخياط والکمبيوتر) ،کفالۃ طلاب العلم المساکين،کفالۃ الأيتام، فالۃ الأرامل والمساکين، فالۃ أسر الفقير،إغاثۃ المطلقات ، تزويج الفتيات الفقيرات ، مساعدۃماليۃ للمصابين من الحريق والفيضانات، إعداد الدعاۃ المعلمين ، مسابقۃحفظ القرآن الکريم والحديث وغیرہ شامل ہیں ۔
مولانا رحمہ اللہ کا سماج میں اثر ورسوخ:مولانا رحمہ اللہ سماج اور سوسائٹی میں ھندو اورمسلم کے درمیان بڑے اثر و رسوخ رکھتے تھے سبھی آپ کی عزت کرتے تھے کیونکہ مولانا ہمیشہ اپنوں اور غیروں کے مابین عدل وانصاف میں حق بجانب رہا کرتے تھے اسی طرح بیلہا کی سرزمین پر جب عزت مآب جناب سری کرشنا شریٹھ (معروف سانے بھائی)منتری وسابق ممبر پارلیمنٹ ۔ اور مولانا کا انتقال چند دنوں کے فاصلے پر ایک ہی ماہ میں ہوا ۔ تو مسلم اور غیر مسلم ان کے انتقال کے بعد ان دونوں پر بڑے افسوس کیا کرتے اور چرچا کیا کرتے تھے کہ آج ہمارے سماج نے دو اہم انمول شخصیت کو سرزمین بیلہا نے کھو دیا ایک کا تعلق مسلم سماج سے ہےتو دوسر ے کا تعلق ہندو سماج سے تھا ان دونوں جیسی شخصیت بہت مشکل ہی سے مل پائے گا یقینا ان کی رحلت سے ہمارے سماج اور ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے ۔
راقم الحروف خطبہ جمعہ، دوروس و محاضرات میں شریک ہو کر شرف تلمیذ کا مقام حاصل کیا ہے:راقم الحروف نے مولانا رحمہ اللہ سے بالمشافہ تعلیم تو حاصل نہیں کیا ہے لیکن مولانا رحمہ اللہ کے دولت خانہ راقم الحروف کے گھر کے درمیان صرف ایک دیوار کا فاصلہ تھا ہمیشہ مولانا کے یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا اور ابھی بھی ہے ۔ مولانا جب کبھی بھی گھر تشریف لاتے تو میں اس کے گھر جاتا اور ہمارے ساتھ دیگر بچوں اور بچیاں ہوا کرتے تھے ۔ اور فی الحال راقم الحروف کا مولانا رحمہ اللہ کے گھر سے جنوب میں 2011 م کے بعد منتقل ہوا ہے جو تقریباً 250 میٹر کے دوری پر واقع ہے۔ راقم الحروف نے مولانا کے خطبہ جمعہ، دوروس و محاضرات میں شریک ہو کر شرف تلمیذ کا مقام حاصل کیا ہے۔ جو قابل ذکر ہیں ۔
مولانا رحمہ اللہ کے وفات:مولانا رحمہ اللہ بروز منگل دو بجے شب میں مؤرخہ 13 شعبان 1427ھ مطابق 6 ستمبر 2006ء ، 21 / 5 / 2063 بکرمی کو اس دنیا سے رخصت ہوکر چلے گئے ۔
نماز جنازہ:مولانا رحمہ اللہ کے نماز جنازہ بیلہا قبرستان میں ادا کی گئی اور آپ کے نماز جنازہ آپ کے تیسرے بھائی فضیلۃ الشیخ محمد اکمل شاکر مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ نے پڑھائی، قرب وجوار اور دور دراز سے بھی تشریف لائے ہوئے ہزاروں کی تعدا جنازہ میں شریک تھے ، قبرستان میں علماء کرام کی ایک معتد بہ تعداد موجود تھی۔
اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی مولانا رحمہ اللہ کی بال بال مغفرت فرمائے، بشری لغزشوں سے درگذر فرمائے، دینی و دعوتی،جماعتی اور تعلیمی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ،ان کو جنت الفردوس کا مکین بنائے، جملہ پسماندگان ومتعلقین کوصبرجمیل کی توفیق بخشے اور ملک ملت اور جمعیت و جماعت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ آمین
