(مولانا حلیم اللہ قاسمی خطاب کرتے ہوئے)
مدرسہ عربیہ مصباح العلوم برگدوا میں منعقد عظیم الشان اجلاس عام میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا خطاب۔
مہنداول ،سنت کبیرنگر : جمعیۃ علماء ہند ضلع سنت کبیرنگر کے تحت عظیم الشان اجلاس عام مدرسہ عربیہ مصباح العلوم برگدوا نگر پنچایت دھرم سنگھواں میں منعقد ہوا،جس میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مرد و خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گھریلو زندگی میں بھی سنتوں کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے، ہم سنتوں کو صرف مسجدوں تک محدود کرتے چلے جارہے ہیں، جب کہ اگر گھریلو نظام سنتوں کے مطابق چلایا جائے تو گھر سکون و راحت کا گہوارہ بن جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ خواتین جہاں اپنے شوہروں کی نافرمانی اور ان کے برخلاف کام کرتی ہیں جس سے گھروں کا چین و سکون متاثر ہوتا ہے وہیں مرد حضرات بھی اپنی بیویوں کی اچھی چیزوں پر تعریف کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، اور ساتھ ہی مرد حضرات جب باہر رہتے ہیں تو نرم مزاج رہتے ہیں لیکن جب گھر میں داخل ہوتے ہیں تو گرم مزاج ہو جاتے ہیں، لگتا ہے کہ کوئی خونخوار شخص آگیا ہے، جس سے بیوی بچے سبھی سہم جاتے ہیں، جب کہ اللہ کے نبی نے کہا کہ سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لئے بہتر ہو اور میں اپنے اہل خانہ کے لئے بہتر ہوں، اللہ کے نبی اپنی بیوی عائشہ کے جھوٹے برتن سے پانی پیتے تھے، جس کو آج کے سماج میں عیب سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گھریلو زندگی میں سنت پر چلنے سے ہی گھروں کا سکون وچین بحال ہوسکتا ہے،انھوں نے کہاکہ اسلام نے عورتوں کا اس قدر حقوق دیا ہے کہ اگر مرد حضرات پورا کرنے لگیں تو ان کی ازار ڈھیلی پڑ جائے گی، اور ماں کو تین گنا زیادہ حق دیا گیا ہے،کیونکہ ماں جو بچے کے لئے قربانیاں پیش کرتی ہے، وہ باپ سے تین گنا زیادہ ہے، انھوں نے کہا کہ مائیں حمل کے دوران اچھی ،حلال غذا ،زبان کی حفاظت اور نماز کی پابندی کریں ، اگر ماں جھوٹ بولے گی تو اس کا اثر بچے پر پڑے گا، سچ بولے گی تو اس کا بھی اثر بچے پر پڑے گا، اگر نماز پڑھے گی تو اس کا اثر بچے پر پڑے،اسی طرح نماز و ذکر، رزق حلال وغیرہ کا اثر بچہ پر پڑے گا وہیں اگر ماں مکاری، عیاری، لعن طعن ،گالی گلوچ ،ترک نماز وغیرہ کرے گی تو اس کا بھی برا اثر بچہ پر پڑے گا،اسی لئے بچوں کی تربیت ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ انھوں نے مدرسہ کا دورہ کرکے مدرسہ کے حق میں دعائیں کی۔
اس موقع پر مولانا کلیم اللہ قاسمی امام و خطیب مسجد عثمان غنی بھیونڈی، مفتی حفیظ اللہ قاسمی، مولانا عزیز اللہ قاسمی صدر جمعیت علماء ہند ساکی ناکہ، مولانا عبدالقدوس ، مولانا انیس احمد قاسمی، حافظ کمال الدین، ماسٹر ضیاء الدین، مولانا امیر اللہ ندوی، حافظ عرفان، انور حسین سبھاسد، نظام الدین عرف ڈپٹی، چینک، صدام حسین سبھاسد، محمد اللہ، نجم الدین سابق پردھان، حافظ احمد اللہ، جمال اختر، ڈاکٹر کلام، ماسٹر اشتیاق احمد، مولانا سراج احمد، تنویر احمد، حاجی عباس علی، محمد ارشد بی ڈی سی، ذکاء اللہ، محمد زاہد، احسان اللہ، حافظ عبدالوحید، عبدالمجید، معین الدین سابق پردھان، ذاکر علی، انجینئر محمد سیف، اجمل، مولانا جمشید، مولانا محمد یونس، ذوالفقار، مولانا عبد القدوس قاسمی، مولانا انیس احمد قاسمی، حافظ کمال الدین، حافظ عرفان، ماسٹر ضیاء الدین سمیت کثیر تعداد میں مرد و خواتین موجود رہیں۔
آخر میں محمد شاہد قاسمی ناظم اعلی مدرسہ ھذا وجمعیت علماء ہند صدر سانتھا بلاک نے سبھی حاضرین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
