حافظ سیف الاسلام مدنی
پکھرایاں (پریس ریلیز): آنے والی 20 دسمبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی کا الیکشن ہونا ہے جس کی تیاریاں سبھی پارٹیاں زور و شور سے کر رہی ہیں، الیکشن کی تیاریاں تقریبا مکمل ہو چکی ہیں اور فرقہ پرست طاقتوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، ماحول کو خراب کرنے کی اور ماحول کو بگاڑنے کی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی بعض مقامات پر اپنے امیدواروں کو الیکشن میں اتار رہی ہے اس لیے ووٹرز کو چاہیے کہ جہاں جہاں پر عالی جناب اسد الدین اویسی صاحب نے اپنے امیدوار اتارے ہیں، ان کو واضح اکثریت سے فتح دلائی جائے اور کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے۔ ظاہر سی بات ہے موجودہ ہندوستان میں مسلمان جس سیاسی کنارہ کشی کا شکار ہے اور جن حالات سے دوچار ہے اس کا اندازہ سبھی کو خوب ہے، کوئی پارٹی کوئی نیتا مسلمانوں کا ہمدرد نہیں ہے، مسلمانوں کی آواز کو اٹھانے والا نہیں ہے، ان کے حق کے لیے آگے آنے والا نہیں ہے، ایسے میں جناب اسد الدین اویسی صاحب اور ان کی پارٹی کے لوگ جس بے باکی کے ساتھ مسلمانوں کے حق کی آواز اٹھاتے ہیں ان کو انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں، قانون کی بالادستی کو قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اور دلت اقلیت پچھڑوں کو مین سٹریم میں لا کر ان کو انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں اور زمینی سطح پر کام کرتے ہیں، یہ اپنے آپ میں ہندوستانی سیاست میں بڑی عظیم چیز ہے۔ اس لیے میری مہاراشٹر کے لوگوں سے درخواست ہے کہ جہاں جہاں بھی عالی جناب اسد الدین اویسی صاحب اپنے امیدواروں کو کھڑا کر رہے ہیں، سبھی انصاف پسند لوگ خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں، متحد ہو کر کے انصاف کی خاطر اور اپنے حقوق کو بلند کرنے کی خاطر مجلس کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔
مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار
(1) اورنگ آباد ایسٹ سید امتیاز جلیل
(2)مالیگاؤں مفتی اسماعیل صاحب قاسمی
(3)اورنگ آباد سنٹرل ناصر صدیق
(4) بھیونڈی مغربی ممبئی وارث پٹھان
(5) دھولے فاروق شاہ
(6) شولاپور فاروق شبدی
(7) ورسووا ممبئی رئیس لشکریہ
(8) بائیکلہ ممبئی فیاض احمد
(9) ممبرا ممبئی سیف پٹھان
(10) کرلا ممبئی اسماں شیخ ببیتا کناڈے۔
(11) گوونڈی ممبئی عتیق سر
(12) مرتضیٰ پور مانیکراؤ سروادے۔
(13) معراج مہیش کامبلے
(14) امراوتی عبدالناظم
(15) ناندیڑ جنوبی سید معین
(16) ناگپور کیرتی ڈونگرے
مہاراشٹر کی عوام ان سبھی کو اپنا کیمتی ووٹ دے کر قوم کی ترقی کے کاز میں حصہ دار بنے!
