بیدر۔ 10؍ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا کے دنیاسے پرلوک سدھارنے کی اطلاع آج صبح ملی۔جیسے ہی یہ دکھ بھری خبر سوشیل میڈیا کے ذریعہ پھیلنے لگی ، بید رکے صحافیوں کے ذہن میں سوال پید اہواکہ سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا (1999تا2004) نے بیدر ضلع کے لئے کس قدر ترقیاتی کام انجام دئے ہیں ؟اس کے جواب کے لئے انھوں نے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے۔ ایسے موقع پر سیاسی تجزیہ نگار جناب راج شیکھرپاٹل اشٹور نے بتایاکہ بیدر کے لئے کوئی خصوصی کوشش ایس ایم کرشنا نے نہیں کی کیوں کہ وہ کانگریس پارٹی سے وزیراعلیٰ بنے تھے اور ان کی معیاد میں بیدر ضلع کے 6اسمبلی حلقہ جات کی تمام نشستوں پر غیر کانگریسی (بی جے پی 5اور جنتادل یس ۔1) اراکین اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ لہٰذا چار سال تک پڑوسی ضلع گلبرگہ کے ملک ریڈی بیدرضلع انچارج وزیر رہے۔

پانچویں سال بسواراج پاٹل ہمناآباد ایم ایل سی کو کانگریس پارٹی نے وزیربنایا۔وہ پاور منسٹربنائے گئے لیکن کابینی درجہ انہیں حاصل نہیں تھا۔ جناب راج شیکھرپاٹل اشٹور نے بتایاکہ حکومتیں اپنا ریونیو شراب اور Granite کے ذریعہ بڑھاتی ہیں۔ ایس ایم کرشنا نے ان دونوںمیدانوں میں شفافیت لاکر ریونیوکوبڑھایا۔ اسی طرح بنگلور میں آئی ٹی بی ٹی سیکٹر کا آغاز ایس ایم کرشناکے دور میں ہی ہوا اور بنگلور آئی ٹی ہب بنا۔ آئی ٹی بی ٹی کے سبب بنگلور میں انوسٹمنٹ بھی خوب ہوااور نوجوانوں کونوکریاں بھی ملیں۔واضح رہے کہ ایس ایم کرشنا نے اپنی عمر کے آخری وقتوںمیں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔اسی طرح بسواراج پاٹل ہمناآباد بھی بی جے پی میں شامل ہوکر پرلوک سدھارے ۔ بسواراج پاٹل کے تینوں فرزندان سابق وزیر راج شیکھرپاٹل ہمناآباد، ڈاکٹر چندر شیکھرپاٹل اور بھیم راؤ پاٹل کانگریس پارٹی میں ہیں اور بعد کے دو بھائی فی الحال ایم ایل سی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے