وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال
افسوس ہے کہ اس نے میری بات کاٹ دی!
افسوس ہے کہ اس نے میری بات کاٹ دی!
سہارنپور( احمد رضا): ابھرتے ہوئے ہر فن مولا ادیب اور شاعر بلال سہارنپوری کہتے ہیں کہ یہ ہم سب کی بڑی زمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی شیریں زبان اردو زبان کے رعب و جلال اور لہجہ کی حفاظت کے لئے آگے آئیں اردو زبان ہمارے بزرگوں کے کلچر ، ادب اور تہذیب کی لازوال تاریخ ہے اسکو سہی حیثیت میں بچا کر رکھنا بڑی اہم ترین زمہ داری ہے اردو دلوں کو ہی نہی بلکہ ملکوں کو فتح کرنے اور انپر راج کرنے والی جادوئی زبان ہے!
گزشتہ شب باوقار ادبی تنظیم پو ئٹری جنکشن( Poetry Junction) سہارنپور کے زیر اہتمام ایک شام خورشید حیدر مظفر نگری کے نام عنوان سے ترکش دسترخوان سہارنپور میں ایک خوبصورت محفل شعر و سخن آراستہ کی گئی جس کی صدارت کرتے ہوۓ عالمی شہرت یافتہ شاعر طاہر فراز نے کہا کہ گزشتہ 50 سال میں مشاعروں کے تعلق سے بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ہم جب مشاعروں کی دنیا میں آئے تھے تب غزل کا روایتی رنگ برقرار تھا اور ہمارے دیکھتے دیکھتے غزل نے اپنے دامن کو وسیع کیا اور شعراء نے اپنے فکر کے کینوس کو مزید وسعت دی اور یہ غزل کی مقبولیت ہے کہ اس نے ہر عہد کے نشیب و فراز کو اپنے حلقے میں اور اپنی لغت میں محفوظ کیا جو اردو زبان اور اردو شاعری کی ترقی کی خاص وجہ ہے اور یہی سبب ہے کہ آج مشاعرے ہندوستان پاکستان اور برّاعظم کی حدود سے آگے نکل کر امریکہ یوروپ اور عرب کے مختلف ممالک میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر طاہر فراز نے کہا کہ بلال سہارنپوری ، ترکش دسترخوان کے نگراں بالخصوص ڈاکٹر فرمان حسن شہزاد علی اور ڈاکٹر جابر حسن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ادب کے تعلق سے میری صدارت میں اتنی خوبصورت اور باوقار محفل کا انعقاد کیا جو ایک مدت تک یاد رکھی جائے گی پروگرام کا افتتاح ایم ایل اے دیہات آشو ملک اور ایم ایل اے بہٹ عمر علی خان نے کیا پروگرام کی شمع سینئر صحافی شبیر شاد اور چودھری مظفر نے مشترکہ طور پر روشن کی اس پروگرام میں پو ئٹری جنکشن سہارنپور کے جانب سے مظفر نگر کے نمائندہ شاعر خوشید حیدر کو ایک سپاس نامہ اور شال پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر فرمان حسن ڈاکٹر جابر حسن شہزاد علی اور شہر سارنپور کے نمائندہ شاعر بلال سہارنپوری کی جانب سے پیش کیا گیا۔
پروگرام کے ناظم شہر سہارنپور کے نمائندہ شاعر خرم سلطان نے تمام سامعین و شعرا کرام کی خدمت میں خورشید حیدر کے لیے لکھا گیا سپاس نامہ پڑھ کر سنایا اور خورشید حیدر کی ادبی خدمات ، مشاعروں کی کامیابی میں انکی ضرورت اور اور انکے 42 سالہ ادبی سفر پر تفصیل سے گفتگو کی۔
پروگرام 10 بجے شروع ہو کر رات دو بجے صدر محفل طاہر فراز کے کلام کے ساتھ اختتام تک پہنچا۔
اس پروگرام میں سہارنپور اور بیرون سہارنپور کے متعدد شعراء کرام نے شرکت کی اور پروگرام میں اپنا منتخب کلام پیش کر کے محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا منتخب شعراء کے منتخب اشعار بازوق قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے مجھےخوشی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال
افسوس ہے کہ اس نے میری بات کاٹ دی
طاہر فراز رامپوری
غیر پروں پر اڑ سکتے ہو حد سے حد دیواروں تک
امبر تک تو وہ ہی اڑیں گیں جن کے اپنے پر ہونگے
خورشید حیدر مظفر نگری
حادثے بے لباس کر دیں گیں
مٹھیوں میں کپاس رہنے دو
شبّیر شاد
رکشہ چلانے والے نے بچے پڑھا لئے
جو تھے نواب زادے نزاکت میں مر گئے
بلال سہارنپوری
حاصلِ زیست رہی رشکِ کمالات رہی
مرے حصّے میں ترے ہجر کی جو رات رہی
خرّم سلطان
گو لاکھ خوبیاں ہوں مگر اے نوائے ذوق
اپنی زباں کا جو نہیں وہ آدمی نہیں
ثمریاب ثمر
اپنی پلکوں کو مجھے دیکھ کے نم رکھا ہے
آج پھر اس نے محبت کا بھرم رکھا ہے
کاشف رضا
سبھی نے دیکھی ہے لڑکی بڑے گھرانے کی
کہ کسی نے چال چلن کی طرف نہیں دیکھا
ڈاکٹر امجد عظیم
ہمارے خون کی قیمت نہ پوچھو
اسی سے راجدھانی چل رہی ہے
حمزہ بلال
اس نے میری حیات کو ایسی اچھال دی
مشکل میری حیات کی ساری نکال دی
رحمان رضا
سفر سبھی کا ہے میدانِ حشر کی جانب
جہاں نتیجے سب اپنے عمل کے دیکھیں گے
علی شان
اس پر وقار تقریب میں سید سلمان،امجد علی ایڈوکیٹ،محمد آصف،بنٹی،موسیٰ شمسی،سلمان تھانوی مہتاب علی وغیرہ معززین موجود تھے !
