عبدالمبین منصوری
سدھارتھ نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ضلع صدر نشاط علی کی صدارت میں ضلع ہیڈکوارٹر پر واقع مسجد کمیٹی کے ذمہ داروں نے پولیس انتظامیہ کی طرف سے ہیڈکوارٹر پر واقع مساجد سے ہارن، ساؤنڈ اور مائیک مشینوں کو زبردستی ہٹانے کے خلاف احتجاجی خط ضلع مجسٹریٹ راجا گنپتی کو دیا۔
شکایتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہیڈ کوارٹر پر واقع بیشتر مساجد کے لاؤڈ اسپیکر بغیر کسی حکم اور وجہ کے پولیس انتظامیہ نے زبردستی ہٹا دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مفادات کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں۔
بدنیتی پر مبنی مذہبی تفریق کی اس قسم کی غیر آئینی حرکت یعنی یکطرفہ کارروائی گزشتہ سال سے پولس انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ضلع ہیڈ کوارٹر کی پوری مسلم کمیونٹی شدید غم و غصے میں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ہی ضلع کی تمام مساجد کمیٹیوں نے مساجد سے 24 گھنٹوں میں 10 منٹ کی مدت کے لیے دن میں پانچ بار اذان دینے کی اجازت مانگی تھی۔ معزز سپریم کورٹ نے سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے آن لائن اور آف لائن درخواست کے ساتھ حلف نامہ جمع کرایا گیا لیکن تھانے کی پولیس مسجد کمیٹیوں کی طرف سے رپورٹ درج کرنے کے نام پر سہولت فیس کے طور پر 1000 روپے سے لیکر 2000 روپے کی غیر قانونی وصولی کے باوجود بھی آج تک مسجد کمیٹیوں کو نہ تو اجازت نامہ کی کوئی کاپی فراہم کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی رہنما خطوط فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے خلاف ممنوعہ کارروائی کر کے سخت ظلم کیا جا رہا ہے۔
جبکہ اس سلسلے میں گزشتہ سال سے لے کر اب تک متعدد بار ضلعی ہیڈ کوارٹر پر واقع مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داران نے ذاتی طور پر ضلعی انتظامیہ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے چار پانچ مرتبہ ملاقات کیے اور درخواستیں اور میمورنڈم بھی دیے لیکن بارہا رویہ اور تنگ نظری مسلمانوں کے تئیں یہ ذہنیت دکھاتے ہوئے تھانے کی پولیس بار بار مسلمانوں کو تنگ کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ شادی کی تقریب اور دیگر نام نہاد پروگراموں میں دن رات شور مچانے والے آلات کے ذریعے ڈی جے اور بڑی آوازوں کے ذریعے اشتعال انگیز تقاریر کی جاتی ہیں جس پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے کوئی ممانعت یا روک تھام نہیں کی جاتی ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ اس طرح پولس انتظامیہ کے ذریعہ مسلمانوں کو بار بار ہراساں کیا جارہا ہے جو کہ سراسر غیر قانونی عمل ہے۔
شکایتی خط میں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ، پولیس سپرنٹنڈنٹ، سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوگڑھ (صدر) اور دیگر اور متعلقہ تھانے کے خلاف ایک آر ٹی آئی (پبلک انفارمیشن ایکٹ-2005) درج کیا گیا تھا۔ مساجد سے لاؤڈ سپیکر ہٹانے کے حوالے سے معلومات (کل 7 نکات پر) مانگی گئیں کہ اگر ضلعی انتظامیہ یا پولیس انتظامیہ کے پاس اس طرح کا کوئی حکم نامہ معزز ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا اگر اس سلسلے میں ریاستی حکومت یا مرکزی حکومت کے کسی حکم یا حکم نامے کی کاپی ہے تو اسے مسجد کمیٹی کو فراہم کیا جائے مگر ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ نے اس طرح کی کوئی کاپی فراہم نہیں کیے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس انتظامیہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی، جانبدارانہ اور من مانی اور آمرانہ رویہ اپنا رہی ہے۔
مذکورہ بالا کے تسلسل میں ضلع مجسٹریٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مساجد سے ہٹائے گئے لاؤڈ اسپیکر کو احترام کے ساتھ دوبارہ نصب کرنے کا حکم دیتے ہوئے اور ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی طرف سے قبضے میں لیے گئے مساجد کے بند ہارن اور مائیک مشینوں کو فوری طور پر تھانے سے واپسی کرایا جائے اور کرپٹ ذہنیت کے حامل افراد یا پولیس اہلکار جو یکطرفہ طور پر مسلمانوں کو ہراساں کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے افراد کے خلاف سخت ترین اور قانونی کارروائی کی جائے تاکہ اس ملک کے اتحاد، سالمیت اور ہم آہنگی کے ماحول کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر راجا گنپتی نے مسلم وفد کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی حالت میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دی جائیگی۔ انہوں نے فوراً ایس ایچ او سے موبائل سے بات کر مسجدوں کے مائک مشین کو واپس دینے کو کہا اور ایس ڈی ایم سے بھی کہا کہ فوراً اس معاملے میں مناسب کارروائی کریں۔
شکایتی درخواست پیش کرتے وقت نشاط علی ضلع صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، حافظ قطب الدین چشتی، رمضان علی، عبدالمبین منصوری، مولانا ابرار، حافظ اسلام الدین، مولانا کلام الدین، مولانا حیدر علی، مولانا عنایت اللہ، مولانا نیاز احمد، محمد مصطفیٰ، محمد سمیع، محمد کمال، محمد ارمان، محمد احمد، محمد جاوید، محمد علیم، محمد عامر، محمد عارف، محمد اشفاق، اشتیاق احمد، گلزار احمد، عبدالوہاب وغیرہ کافی تعداد میں مسجدوں کے ذمے دار موجود رہے۔
