آپ کی وفات سے سلفی علماء کی فہرست میں بڑا خلا جس کی تکمیل ناممکن : نظام الدین فیضی

 

ھارون انصاری

کاٹھمانڈو: ڈاکٹر فرید ابن کرم حسین سلفی علاقہ سدھارتھ نگر کے معروف گاؤں بھٹ پرا سے تعلق رکھتے تھے، آپ بھٹ پرا میں پیدا ہوئے اور وہیں مدفون ہیں، ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ میں حاصل کی بعد ازاں وہ جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس کا رخ کئے وہاں انہوں نے سند فضیلت حاصل کی، آپ دوران طالبعلمی سے متحرک فعال اور جدت پسند شخصیت کے مالک تھے، آپ خاندانی طور پر بہت مضبوط تھے اس لئے دست خیر دراز رہتا تھا جس کا احاطہ ان شاءاللہ ضرور ذیل کی باتوں میں آئے گا۔

آپ کو لوگ ڈاکٹر بابو کہہ کر پکارتے تھے، آپ سلفی عالم دین تھے اور علماء سے بے پناہ محبت ،عقیدت اور ربط وضبط رکھتے تھے، انہوں نے زندگی کے ایک ایک لمحے کو ممبر و محراب سے جوڑے رکھا۔ تعلیم و تعلم کو زندگی کا شیوہ بنایا، قلم و قرطاس سے لوگوں کا رشتہ استوار کیا، ناخواندگی شرح میں اضافہ کے خاطر سعی پیہم کی، ابتدائی دنوں میں آپ گاؤں کے مدرسہ معھد مفتاح العلوم کے بانی بابا خلیل الرحمن سے جڑے اور وہیں سے تعلیمی سفر کا آغاز کیا۔ معا گھر پر گاؤں کے بچوں کے پڑھنے کا انتظام کیا، رفتہ رفتہ اسکول انٹر کالج کی شکل اختیار کرگیا۔ موضع کھکھرا ،سدھارتھنگر میں آپ کا قائم کردہ اسکول آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔

عوامی خدمات: ان کی صحت وتندرستی کا خاص خیال رکھتے تھے جس کے لئے آپ نے سلفیہ ہاسپٹل سوہانس بازار میں قائم کیا، آپ کو سلف اور ادارہ سلفیہ اور سلفی علماء سے بڑا لگاؤ تھا، یا یہ کہہ لیں انہوں نے اپنی زندگی میں جو بھی کام کیا اس میں لفظ سلفیہ کو جوڑے رکھا اور امید کرتے ہیں کہ ان کے اخوان اور ورثاء ان کی ایماء کی قدر کرتے ہوئے اس کو بعینہ قائم و دائم رکھیں گے۔ آپ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آپ جس جگہ بیٹھ جاتے وہ ایک انجمن کی شکل اختیار کرلیتا، آپ خوش اخلاق شمائل حمیدہ کے مالک تھے جو ایک بار مل لیتا یا مل لیتے وہ از خود الگ نہیں کر پاتے تھے، بات ہی بات میں دعوت و تبلیغ اور ائمہ کرام سلف صالحین صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے نادر واقعات سناکر مجلس کو گرما دیتے تھے، آپ سے آپ کی زندگی میں جو شخص ایک بار مل لیا وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ کچھ احباب کو ان کے آخری عمر تک ملتے جلتے دیکھا گیا اور محبت و الفت میں ہر مرتبہ نیاپن رہتا تھا ایسا ملتے جیسے کی برسوں بعد ملے ہوں۔

آپ ایک اچھے مربی ،داعی ہونے کے ساتھ معالج بھی تھے، ھندی اخبارات میں آپ کچھ نہ کچھ اپنے نشاطات دیا کرتے تھے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کو خصوصیت کے ساتھ جلسوں ،کانفرنسوں میں خطاب کے لئے بلایا جاتا تھا اور مدلل خطاب بھی کرتے تھے۔

زندگی کا سب سے پہلا سفر:

ڈاکٹر فرید احمد سلفی دوست و احباب سے کہہ کر دوحہ کے لئے روانہ ہوئے، یہاں ائیرپورٹ پہنچنے تک رابطہ افضال احمد سلفی سے تھا، چنانچہ ائیر پورٹ پر پہنچے اور راقم محمد ھارون انصاری سے رابطہ ہوا، یہ سن کر کہ آپ دوحہ کی سرزمین پر آچکے ہیں فورا ائیر لے لئے عزیزم صلاح الدین سراجی کے ہمراہ روانہ ہوئے، انہوں نے سفر کی تلخی کو یوں بیان کیا کہ ” اگر آپ نے فون نہ اٹھایا ہوتا اور نہ آئے ہوتے تو ہم ٹکٹ بنوا کر لوٹنے والے تھے” مگر اب میری خوشی کی انتہا نہیں۔ آپ دوحہ قطر میں چند دنوں قیام کئے گھومے ٹہلے ولیجیو، کورنیش، جامع مسجد عبدالوہاب رحمہ اللہ میں نماز جمرہ ادا کئے اور عید قبل گھر لوٹ آئے، دوسرا سفر انہوں نے مملکت توحید مکہ مکرمہ کا کیا جب عمرہ کی غرض سے پہنچے۔ آپ کے پہنچنے سے وہاں کے متعارفین میں خوشی کی لہر دوڑی اور لوگوں نے عمرہ کی تکمیل کے بعد خوب اکرام کی اور تاریخی مقامات کا سیر کروایا۔

آپ مستقل سلفیہ انٹر کالج میں مشغول ہونے کے ساتھ ساتھ رفاہی کاموں میں بھی مشغول رہے، آپ بغرض خطاب بحیثیت خطیب دور دراز کا سفر بھی کیا کرتے تھے۔ ابتدائی دنوں میں راقم ہی ان کے ویڈیو کو اپلوڈ اور ایڈیٹنگ کیا کرتا تھا اور اکثر ڈیزائن کا کام حسب استطاعت کر دیا کرتا تھا۔ آپ بہت متحرک فعال تھے اور ایک پکار پر رات کی تاریکی کا خیال نہ کرکے لبیک کہتے تھے۔ آپ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے جو آج ہمارے مابین نہیں رہے، آپ مہلک مرض میں مبتلاء تھے تقریبا 8ماہ موت و زندگی کی جنگ لڑ کر ہار گئے اور بتاریخ 8 دسمبر 2024 کو شام ساڑھے دس بجے مالک حقیقی سے جاملے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔

مرنے والے میں بڑی خوبیاں تھیں ایسی خوبی کبھی کبھار سیکڑوں میں سے ایک میں پائی جاتی ہے ، آپ کے جنازے کی نماز میں ایک اندازہ کے مطابق پانچ ہزار لوگوں سے متجاوز تھی۔ اللہ غریق رحمت کرے ، جنت الفردوس کا مکین بنائے، بشری لغزشوں کو درگزر فرمائے آمین۔

محمدھارون محمد یعقوب انصاری

nepalurdutimes@gmail.com

 

ڈاکٹر فرید احمد سلفی نابغار اور علمی دعوتی شخصیت تھی، امت کا آپ کی وفات کا غم ہے، یوں تو ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور موت ایک ایسا دروازہ جس میں ہر کسی کو داخل ہونا ہے ، پر کچھ ایسی منکسر المزاج شخصیتیں ہوتی ہیں جن کی داغ مفارقت سے امت کو زبردست خسارہ ہوتاہے، آپ نیک طبیعت کے مالک تھے دعوت واصلاح زندگی کا مقصد تھا ، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر کی بشری لغزشوں کو درگزر فرمائے لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے آمین

نظام الدین محمد یعقوب فیضی

 

آہ ڈاکٹر فرید احمد بن کرم حسین السلفی رحمہ اللہ متوفی 8/12/2024

ڈاکٹر فرید احمد سلفی رحمہ اللہ اب ہمارے درمیان نا رہے ڈاکٹر موصوف سلفیہ انٹرکالج اور سلفیہ ہاسپٹل کے بانی تھے کم عمری میں آپ کی وفات ہوئی آپ رحمہ اللہ تقریبا 44 سال کی عمر پائی اس کم عمری میں آپ نے وہ کارہائے نمایاں انجام دی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوپاتی ہے آپ گوناگوں خصوصیات کے حامل تھے آپ داعی و خطیب ، سیاسی و سماجی ہر میدان کے شہسوار تھے چھوٹے و بڑے ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے جو کوئی مشورہ طلب کرتا آپ بہترین مشورے دیتے آپ کے اندر اپنے مادر علمی جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس کی محبت اس قدر تھی کہ آپ نے جو ادارہ اور ہاسپٹل بنایا اسے سلفیہ کا نام دیا آپ رحمہ اللہ تقریبا نو مہینے سے مریض تھے مہلک بیماری نے آپ کو بہت ہی کمزور بنادیا تھا بالآخر 9/12/2024 کو دارالفناء سے دارالبقاء کو کوچ کرگئے إنا لله و انا اليه راجعون اللهم أغفر له و ارحمه و ادخله الجنة آمين يارب العالمين۔

اللہ تعالیٰ آپ کے بیوی و بچوں اور جملہ اہل خانہ اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا کرے آمین

لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير.

شریک غم

تبارک علی السلفي

شیوگڑھیا روپندیہی نیپال

 

📜خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

إناللہ وإنا إلیه راجعون۔

آہ برادرم ڈاکٹر فرید احمد سلفی رحمہ اللہ!

آج بتاريخ 8/12/2024 بروز اتوار رات تقریبا 11 بجے شب آپ ہم سب سے جدا ہوگئے

اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔آمین

الحمد للہ برادر فاضل رحمہ اللہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔

آپ کی شخصیت ایسی تھی کہ جس سے بھی ملتے اسکے دل میں اپنی محبت چھوڑجاتے کہ وہ دوبارہ آپ سے ملنے کا متمنی رہتا اور جب ملتا تو اسے ایسا احساس ہوتا گویا کہ آپ سے ان کی برسوں سے ملاقات اور دوستی ہو، سیاست میں جہاں بہت اچھی دلچسپی اور پکڑ تھی وہیں اس کا بہترین استعمال بھی کرتے تھے، ساتھ ہی دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں ہمیشہ ایک دوسرے کی رہنمائی اور حسب استطاعت بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتے اور خطاب ایسا کرتے کہ لوگوں کے دلوں کو اس طرح جیت لیتے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے کاش آپ کا خطاب مزید اور جاری رہتا، قوم وملت کی ترقی کے لئے جہاں سلفیہ پبلک اسکول قائم کئے تو بیماروں کے لئے سلفیہ ہاسپٹل کا بھی انتظام کیا، نوجوانوں کی ورزش اور ہمت افزائی کے لئے وقتا فوقتا کبڈی اور کرکٹ وکشتی وغیرہ کا بھی اہتمام کرتے اور کھلاڑیوں کی بہترین تشجیع کرتے، محتاجوں کی ریکھ دیکھ اور حسب استطاعت انکی مدد کے لئے اپنا دامن ہمیشہ وسیع رکھتے، مدارس ومراکز سے اس قدر محبت تھی کہ انکے وجود اور ترقی کولےکر ہمیشہ لوگوں کو اپنے مفید مشوروں سے نوازتے اور حسب استطاعت مالی تعاون بھی پیش کیا کرتے، نیز قوم وملت کی ترجمانی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے آپ صحافت کا بھی فریضہ بحسن وخوبی انجام دیتے تھے، جب کبھی کسی منتظم یا مہتمم سے ملتے تو انھیں اچھی رہنمائی اور دعاؤں سے نوازتے،علماء سے اس قدر محبت رکھتے کہ موقع عنایت ہوتے ہی انکی مہمان نوازی اور ان سے علمی فائدہ اٹھانے میں بڑی لگن سے کام لیتے۔۔۔

اللہ آپ کی کمیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور جملہ عبادات اور قوم وملت کے لئے پیش کی گئیں جملہ خدمات جلیلہ کو اللہ شرف قبولیت سے نوازے، جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے

اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازے۔ آمین.

ضیاءالدین جلال الدین ریاضی

پرنسپل :- مرکز التعلیم والدعوة الإسلامية

تنہوا ، لمبنی نیپال

 

📜ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے ۔

قوم و ملت کا ایک عظیم سرمایہ نہ رہا۔

عزیز دوست ڈاکٹر فرید احمد سلفی کا ایک طویل علالت کے بعد تقریبا 8 دسمبر کے 11 بجے رات کو ان کے گھر بھٹپرا میں انتقال ہوگیا، إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم أغفر له و ارحمه و ادخله الجنة والهم اهله و ذويه الصبر والسلوان آمين يارب العالمين۔

آج ہی میں برادرم مکرم جناب مولانا تبارک علی سلفی اور مولانا حبیب اللہ دہلوی کے ساتھ عیادت کے لیے گیا تھا دیکھ کر بیحد دکھ ہوا کافی تشویش ناک حالت میں تھے ، کافی کمزور ہوچکے تھے کمزوری اتنی تھی کہ اگر یہ کہا جائے کہ بیماری سے لڑتے ہوئے آپ جسم کا 80%حصہ ختم کر چکے تھے تو شاید کم ہی ہوگا، لیکن اس کے باوجود ملنے جلنے والوں کو ہمیشہ ہنستے ہنساتے اور ہمیشہ کی طرح سماجی و رفاہی کاموں سے جڑے رہے ، فون کرنے پر جواب دیتے تو اپنے اسی انداز میں بات کرتے کہ اگر کوئی سامنے سے نہ دیکھتا تو وہ جان بھی نہ پاتا کہ آپ بیمار یا اتنی کمزوری یا کس حالت میں ہیں ،

جب کہ اصل حالت تو وہ خود یا پھر اللہ ہی جانتا تھا کیونکہ اس موذی مرض نے آپ کو اندر اندر بالکل ختم کردیا تھا،

اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے آمین ڈاکٹر صاحب کافی متحرک و فعال تھے ، سلفیہ انٹرکالج ،سلفیہ ہاسپٹل کے بانی مبانی تھے ، آپ ایک بہترین خطیب منجھے ہوئے سیاسی لیڈر اور بھی بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے ،

ویسے میں بذات خود نام تو سنتا تھا اجلاس عام کے اخبارات میں نام دیکھ کر جانتا تھا لیکن میری شخصی ملاقات کبھی نہ تھی ، برادر فاضل مولانا محمد ہارون فیضی و افضال احمد سلفی کے ساتھ کبھی کبھار اپنے قطر میں قیام کے وقت سنتا تھا تو ملنے کی چاہت ہوتی تھی آخر کار وہ وقت اللہ نے لادیا جب آپ 7 رمضان 1435ھ مطابق 4 جولائی 2014م کو تقریبا بعد نماز عشاء قطر پہونچے اور انہیں لانے کے لئے میں و برادرم محمد ہارون فیضی اپنے گاڑی لینڈکروزر سے انہیں لینے حمد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہونچا آپ باہر تشریف لائے اسی وقت آپ سے بالمشافہ پہلی بار ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایسی رہی کہ آخری دم تک آنا جانا ملنا بات چیت کرنا برقرار رہا، ہم لوگ جب آپ کو لیکر ایئرپورٹ سے نکلے تو راستہ میں میں نے شیخ ہارون و ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کرکے کہا کہ کہیں چائے لی جائے آپ نے فورا ہنستے ہوئے کہا کہ جی جی بالکل چائے پی جائے لہذا میں نے گاڑی ٹی ٹائم کے دکان پر روکی اور چائے کا آرڈر کیا اور جب کچھ دیر میں ویٹر چائے لیکر آیا اور دیکر چلا گیا تو میں گاڑی لیکر چلنے لگا پھر آپ نے فورا ہم دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں سنتا تھا کہ قطر میں چلتی گاڑی میں لوگ چائے پیتے ہیں اور میری دلی خواہش تھی آج الحمدللہ وہ پوری ہوگئی، لہذا آپ پورا رمضان قطر میں رہے اور عید والے دن شام میں برادرم افضال احمد سلفی کے ساتھ گھر کے لئے روانہ ہوئے جبکہ ہم لوگوں کی دلی خواہش تھی کہ آپ کچھ دن اور رکیں آپ رکنا بھی چاہتے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ والدہ سے اجازت لیلوں لہذا والدہ نے پہلے اپنی کمزوری اور پیرانہ سالی کے بات کو سامنے رکھا اور آخر میں اجازت دی تو آپ نے رکنا مناسب نہ سمجھا اور گھر کے لئے یہ کہتے ہوئے رخت سفر باندھا کہ عید کا اعلان ہوچکا ہے آپ لوگ تیاری بھی کرچکے ہیں میں عید کا پکوان کھابھی چکا ہوں اب میں چلتا ہوں تو شیخ ہارون فیضی نے از راہ مذاق کہا کہ ڈاکٹر صاحب سیونئی بھابھی کے لئے بھی لیتے جائیں تو آپ نے ہنستے ہوئے اپنے انداز میں کہا کہ صحیح کہلا بھیا آپ لوگ دیدیں تو مجھے کہیں سر پر لے جانا ہے لیکن میری امی کے لئے دینا لہذا آپ لائے اور امی کو کھلانے کے بعد ہم سب کو خبر بھی کیا۔

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں جانے والے میں۔

آپ بہت خلیق و ملنسار تھے جس سے بھی ملتے اسے اپنا گرویدہ بنالیتے مادر علمی مرکز التعلیم والدعوہ الاسلامیہ تنہوا کے نشاطات میں برابر شرکت کرنے کی کوشش کرتے آپ کو جب بھی کسی پروگرام کے لئے مدعو کیا جاتا تو فورا تیار ہوجاتے حتی کہ اس راستہ سے جب بھی جانا ہوتا تو مدرسہ پر چند منٹ ہی کے لئے جاتے لیکن ضرور جاتے ، 2017 میں جب باشندگان تنہوا نے کئی سالوں کے بعد ایک اجلاس کرنے کا پلان بنایا جس میں ہند و نیپال کے مشہور و معروف خطباء کرام نے شرکت کی جبکہ ایک طرف کرسی صدارت پر فضیلة الشیخ جناب مولانا شمیم احمد ندوی ناظم جامعہ سراج العلوم السلفيہ جلوہ افروز تھے تو دوسرے طرف خطباء کی لسٹ میں شیخ عبدالشکور اثری و شیخ عبدالمنان سلفی رحمہم اللہ و دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھیں اس اجلاس کے نظامت کی ذمہ داری آپ ہی کے کندھے پر تھی جسے آپ نے الحمدللہ بحسن وخوبی مکمل کیا اور اجلاس کے اختتام کا اعلان کرنے کے بعد ہی وہاں سے نکلے، ایسے ہی آج سے تقریبا دو سال قبل رمضان سے دو دن پہلے کچھ نوجوانوں نے مل کر ایک پروگرام کو ترتیب دیا آپ قبل مغرب ہی پہونچ لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے پروگرام نہ ہوسکا پھر لوگوں سے باہم مشورہ کرکے اسے دوسرے دن کے لئے ملتوی کیا گیا اتفاق سے دوسرے دن بھی موسم خراب رہا لہذا اس کو رمضان بعد کے لئے ملتوی کیا گیا پروگرام عید بعد ہوا آپ کو پہلے ہی بتایا گیا تھا تو الحمدللہ آپ مغرب کے بعد ہی پہونچ گئے ، اتفاق سے شیخ عبدالغفار سلفی کو پہونچنے میں تھوڑی دیر ہوگئی اور بارڈر بند ہونے کا وقت ہوگیا تو میں نے آپ سے کہا کہ چلیں تھوڑا انڈین پولس والوں سے بات کرکے کچھ راستہ نکالا جائے آپ فورا تیار ہوگئے جبکہ آپ کی تقریر کی باری جلد ہی آنے والی تھی پر بھی آپ فورا میرے ساتھ نکل گئے اور وہاں ککرہوا پہونچ کر انڈین پولس والوں سے بات کی جبکہ بارڈر بند ہوچکا تھا لہذا ہم لوگ انڈیا میں بھی گئے اور مہمانوں کو ساتھ لیکر آئے پھر اجلاس میں پہونچنے کے بعد آپ نے کہا کہ میں تقریر نہیں کرونگا خطباء بہت ہیں یہ تو ہمارا گھر ہے میں کبھی بھی کرلونگا لیکن میں نے جب آپ سے اصرار کیا کہ نہیں آپ کو اگر تقریر نہیں تو کم از کم دس منٹ تاثر ہی پیش کرنا ہے تب آپ تیار ہوئے اور چند منٹ میں اپنا تاثر پیش کرکے مائک ناظم کے حوالہ کردیا ۔

دعاء ہیکہ اللہ تعالیٰ اہل و عیال اعزء و اقرباء کو صبر جمیل عطا کرے و جماعت کو آپ بہترین نعم البدل عطاء کرے آمین۔

شریک غم :-

صلاح الدین جلال الدین سراجی

تنہوا لمبنی نیپال

 

📜ڈاکٹر صاحب کی وفات ملت و جماعت کے حق میں ایک عظیم خسارہ ہے. ان کی خدمات جماعت کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں. اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، تمام اہل و عیال اور وابستگان کو صبر جمیل عطا فرمائے. آمین( عتیق الرحمن رحمانی)

📜حوصلوں کی بلند اڈان والے ڈاکٹر فرید احمد سلفی کی وفات سے یقینا دل رنجور ھے ۔آپ بیک وقت کئی خوبیوں وخصوصیات کے حامل فرد فرید تھے۔آپ کسی بھی مجلس کی ایک انجمن ھوا کرتے تھے۔ آپ کومجھ سے بھی کئ بارشیخ عتیق الرحمن رحمانی حفظہ اللہ کی معیت میں انسیت کا موقع ملااور میں نے آپ کے اخلاق ورفاقت ومحبت کو بھت اعلی وارفع پایا۔اللہ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے اور کروٹ کروٹ بل جنت عطا فرمائے۔اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے خصوصا آپ کی دو بچیاں جن کو میں نےپڑھایا ھے اور آپ کی بیوی و بچوں کو مصیبت کی اس گھڑی میں صبر دے آمین یارب العالمین۔( عبدالمنان خان ندوی)

📜بقلوب مؤمنة بقضاء الله وقدره وببالغ الحزن والأسى، تلقينا قبل قليل نبأ وفاة صديقنا الحبيب و أخينا الكبير د. فريد أحمد السلفي خريج الجامعة السلفية ببنارس الهند ومدير مستشفى السلفية و مدرسة كرم حسين السلفية ، بمديرية سدهارت نغر، ولاية اترابراديش، الهند

ان العين لتدمع و ان القلب ليحزن و انا على فراقك لمحزونون و لا نقول الا ما يرضي ربنا "إنا لله وإنا إليه راجعون”

كان شخصية بارزة، ورجلا نشيطا سياسيا ودعويا، في منطقته ، وخطيبا بارعا مفوها، موفور الحظ من ذلاقة اللسان وقوة البيان فكان يستدعى للمشاركة في الحفلات الدينية التي كانت تعقد في مختلف قرى الهند والنيبال.

اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واغسله بالماء والثلج والبرد، ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله دارا خيرا من داره، وأهلا خيرا من أهله، وزوجا خيرا من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار.(هلال النيبالي)

📜میری ڈاکٹر صاحب سے کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی، صرف سالوں پہلے ایک دو بار چیٹنگ کے ذریعہ مختصر بات ہوئی تھی۔۔۔۔ مگر ان کے کار خیر کو دیکھ کر ہمیشہ ان سے ملاقات کی آرزو رہی مگر آرزو ، آرزو ہی رہ گئی۔۔۔

ہر کسی کے دنیا سے جانے پر اتنی تکلیف نہیں ہوتی مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ گر چہ ان سے ملاقات نہیں ہوتی مگر ان کا سماج و معاشرے کے لئے کام کو دیکھ کر ان سے اللہ کے لئے محبت ہو جاتی ہے۔اور ان کے دنیا سے رخصت ہونے پر دل غموں سے بھر جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

خیر اللہ رب العالمین ڈاکٹر صاحب کی بشری لغزشوں کو درگزر فرما کر جنت الفردوس کا مکین بنائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ( عبدالبصیر سراجی)

 

 

📜ڈاکٹر فرید احمد سلفی خلیق وملنسار اورہنس مکھ تھے، سماجی و رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔

اللہ تعالی ان کی نیکیوں اور طاعات وعبادات کو شرفِ قبولیتِ سے نوازے اوربشری لغزشوں کو در گذر کرتے ہوئے جنت الفردوس کامکین بنائے اور تمام لواحقین و پسماندگان اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائے۔ ( محمد طارق)

📜رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

 

کچھ دوست صرف دوست نہیں، آپ کے دست و بازو ہوتے ہیں، ڈاکٹر فرید سلفی کو بلا تکلف اور بلا مبالغہ اگر میں اپنا داہنا ہاتھ کہوں تو بیجا نہ ہوگا، اگر آپ کا داہنا ہاتھ آپ سے جدا کر دیا جائے تو کیسا محسوس کریں گے آپ؟ آاااااہ! یہ خبر میں کیسے دوں کہ میرے یار، میرے دوست، میرے دست و بازو کی حیثیت رکھنے والے میرے رفیق ڈاکٹر فرید سلفی اچانک مجھے داغ مفارقت دے گئے.

آااہ میرے بھائی فرید! آپ کو "حفظہ اللہ” کی جگہ "رحمہ اللہ” لکھتے ہوئے کلیجا منہ کو آتا ہے، ہاتھ کانپتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آج کی رات غموں کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا جس نے میرا دل ایسا نڈھال کیا ہیکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے مفقود ہو چکی ہو

ع سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ چھیڑوں داستاں کیسے

ڈاکٹر فرید سلفی رحمہ اللہ میرے ہر دکھ سکھ میں میرے شریک تھے، جب بھی مجھ پر کوئی پریشانی آئی وہ ایک مخلص دوست ثابت ہؤے، زمانے کی مخالفتوں نے مجھے توڑنا اور میرے وجود کو بکھیرنا چاہا تو ڈاکٹر فرید نے میرے ٹوٹے ہوئے وجود کو حوصلہ دیا اور اسے بکھرنے سے بچایا، وہ میرے کس قدر اور کب کب کام آئے یہ لمبی داستاں ہے جسے بیان کرنے کے لیے آج کی یہ مختصر سی پوسٹ ناکافی ہے، کبھی فرصت سے سن لینا بڑی ہے داستاں میری.

مجھے ڈاکٹر فرید سلفی کی جان لیوا بیماری کی خبر ملی تو بے چین ہو گیا اور وقت نکال کر ان سے ملاقات کے لئے گڑگاؤں گیا لیکن ہائے رے قسمت، شاید اپنے جگری یار سے آخری ملاقات مقدر میں نہ تھی، فون پہ بات ہوئی تھی کہ گڑگاؤں ہی میں ایڈمٹ ہیں لیکن ایک دن تاخیر سے پہنچا اور جب پہنچا تو پتہ چلا کہ گھر والے اب آخری خدمت کے لیے انہیں گھر لے گئے ہیں، سوچا وقت نکال کر گھر جاکر ملاقات کروں گا مگر نہیں پتہ تھا کہ مجھ سے پہلے موت کا فرشتہ پہنچے گا اور میرا یار داعی اجل کو لبیک کہہ دے گا انا لله وانا اليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم امين يارب العالمين.

جنازے کی نماز ان کے آبائی گاؤں بھٹ پرا میں کل ظہر کے بعد ایک بجے ہوگی إن شاء اللہ، اللہ تعالٰی ڈاکٹر رحمہ اللہ کے درجات کو بلند کرے، ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین.

(محمد جرجیس انصاری ، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی)

One thought on “سلفی عالم دین بیباک خطیب ڈاکٹر فرید احمد سلفی پر علماء کرام کے تعزیتی پیغام”
  1. عبدالمنان ندوی۔استاذ ادب عربی مرکز الإمام احمد بن حنبل الاسلامی تولہوا نیپال نے کہا:

    ماشاء اللہ تبارک الرحمن۔جناب چیف ایڈیٹر روزنامہ مشرقی آواز جدید نوگڈھ محترم ومکرم جناب عبدالقیوم صاحب فلاحی کو ڈھیر ساری مبارکباد ودیا کی آپ نے میری ڈاکٹر فرید سلفی رحمہ اللہ کے تعلق سے جذباتی تحریر کو اپنے روزنامہ مین جگہ دئے ھین۔اللہ آپ کو بھترین بدلہ عطا فرمائے آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے