بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): اقلیتوں کے دن کے موقع پر مومن انصار سبھا نے ایک سیمینار بعنوان "اقلیتی مسلمانوں کے آئینی حقوق اور چیلنجز” مومن انصار سبھا کے قومی صدر محمد اکرم انصاری کی صدارت میں پالکی پیلس، گنگا پرساد روڈ، مولوی گنج میں منعقد کیا۔ اس کے بعد گنگا پرساد روڈ پر بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کا پتلا نذرِ آتش کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ "نفرت مردہ باد، ہندوستان زندہ باد” کے نعرے لگائے گئے جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
محمد اکرم انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج اقلیتوں کا دن منایا جا رہا ہے جس میں تمام اقلیتوں کو اپنے آئینی حقوق کے بارے میں بیدار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ وقت میں تمام سیاسی جماعتیں آئین کو لے کر میدان میں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئین اقلیتی مسلمانوں کو بھی تمام مذاہب کے شہریوں کی طرح اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے، تعلیمی ادارے کھولنے، روزگار حاصل کرنے اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
لیکن یہ دن اور رات کی طرح سچ ہے کہ اقتدار میں آنے والی جماعتوں نے ہمیشہ عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے آئین کو توڑ مروڑ کر استعمال کیا ہے۔ 1950 میں اقتدار سنبھالتے ہی تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو پامال کرتے ہوئے پسماندہ مسلمانوں کو دلت ریزرویشن سے محروم کر دیا گیا۔
آج کی موجودہ صورتحال میں مساجد سے اذان دینے پر پابندی لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے لیے کہا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو اپنی عبادات انجام دینے میں مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ وزیراعلیٰ کے حکم پر ہو رہا ہے، لیکن وزیراعلیٰ کا اس سلسلے میں کوئی حکمنامہ جاری نہیں ہوا۔ اگر ایسا کوئی حکمنامہ ہے تو انتظامیہ کو دکھانا چاہیے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں حکومت کو بدنام کرنے کی سازش تو نہیں ہو رہی۔
جبکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز 30 ڈیسبل سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے بغیر کسی حکم کے لاؤڈ اسپیکر ہٹانا جبر و ظلم کے مترادف ہے جو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
محمد اکرم انصاری نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہمیں آپسی ہم آہنگی اور بھائی چارے پر کام کرنا ہوگا، کیونکہ ہندوستان کا مسلمان وہی ہندوستان کا اصلی باشندہ ہے جسے یہ ملک اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔
سیمینار کے مقرر اور مومن انصار سبھا کے قومی سینئر جنرل سیکریٹری محمد اکرام انصاری نے کہا کہ کسی بھی ملک کے دشمن، وہاں کے عوام کے درمیان اختلافات پیدا کر کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنے کے حربے اپناتے ہیں۔ نفرت اور فرقہ واریت عوام کے درمیان بداعتمادی اور بے یقینی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
لہٰذا، جو لوگ ملک کے لیے جینے مرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، انہیں ایسے پروپیگنڈے سے محتاط رہنا چاہیے۔
اس موقع پر کارگزار صدر نسیم انصاری، قومی سیکریٹری رئیس احمد، صوبائی صدر حافظ رفیق احمد، اتر پردیش نائب صدر منصور جمال، مومن وکالت سبھا کے صوبائی صدر اسرار ایڈوکیٹ علیگ، مومن ادب سبھا کے صوبائی صدر رحمت لکھنوی، مومن ڈاکٹر سبھا کے صوبائی صدر ڈاکٹر آصف کلام، مومن حلوی سبھا کے صوبائی صدر سلیم صدیقی، مومن پٹھان سبھا کے صوبائی صدر قوی خان، مومن راعین سبھا کے صوبائی صدر نصیم راعین، مومن معذور سبھا کے صوبائی صدر معراج انصاری، احمد طاہر، فاروق احمد، اظہار انصاری وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے