
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
کرسمس ہمارے کرسچین بھائیوں کااہم تہوار ہے۔ پورے عالم میں عیسائی احباب (مردو خواتین ، بچے) اور کرسچین ممالک 25؍ڈسمبر کو کرسمس تہوار شاندار پیمانے پرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد میں مناتے ہیں ۔جس کے بارے میں ویکی پیڈیا لکھتاہے:
’’کرسمس، بڑا دن، جشن ولادتِ مسیح عید ولادت ، مسیح اور عید ولادت خداوند ۔ مسیحیت میں ایسٹر کے بعد سب سے اہم تہوار سمجھاجاتاہے۔ اس تہوار کے موقع پر یسوع مسیح کی ولادت کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ گریگوری تقویم کے مطابق 24؍دسمبر کی رات سے کرسمس کی ابتداہوتی ہے اور 25؍دسمبر کی شام کوختم ہوتاہے ۔ جبکہ جولینی تقویم کے پیروکار اہل کلیسا کے ہاں 6؍جنوری کی رات سے شروع ہوکر 7؍جنوری کی شام کو ختم ہوتاہے۔ گوکہ بائبل ولادت مسیح کی تاریخ کے ذکرسے یکسر خاموش ہے تاہم آبائے کلیسیا نے 325ء میں منعقدہ نیقیہ کونسل میں اس تاریخ کو ولادت مسیح کا دِن قرار دیا ۔۔۔۔ کہاجاتاہے کہ مسیحیت سے قبل بھی روم میں 25دسمبر کو آفتاب پرستوں کاتہوار ہواکرتاتھا۔ چنانچہ ولادت مسیح کی حقیقی تاریخ کا علم نہ ہونے کی بناپر آبائے کلیسیا نے یسوع مسیح کو ’’عہد جدید کا سورج‘‘اور ’’دنیا کانور‘‘ خیال کرتے ہوئے اس تہوار کو یومِ ولادت تسلیم کرلیا۔ کرسمس کو ’’عشرہ کرسمس‘‘کا ایک حصہ خیال کیاجاتاہے ۔ عشرہ کرسمس اس عرصہ کوکہتے ہیں جس میں اس یادگار سے جڑے دیگر واقعات مثلاً بشارت ولادت ، ولادت یوحنا اصطباغی اور ختنہ مسیح وغیرہ پیش آئے ۔ چنانچہ اس پورے عرصے میں گرجاگھروں میں ان تمام واقعات کاذکر ہوتاہے‘‘
ویکی پیڈیا میں اور بھی معلومات ملتی ہیں۔ مثلا’’ کرسمس کے موقع پر مذہبی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں۔ خصوصی عبادتیں انجام دی جاتی ہیں۔ نیز خاندانی اور سماجی تقریبات کا اہتمام ہوتاہے ۔ جن میںشجرہ کرسمس کی رسم ، تحائف کا لین دین، سانتا کلاز کی آمد اور عشائے کرسمس قابل ذکرہیں۔ کرسمس کے موقع پر درختوں کوسجانے، ان پر روشنی کرنے ، اور تحفے لٹکانے کی رسم عہدِ وسطی میں جرمنی میں شروع ہوئی ۔ کرسمس کے کارڈ بھیجنے اور سانتاکلاز کو مقبولیت امریکا میں حاصل ہوئی ، کاتھولک کلیسیاؤں اور بعض پروٹسٹنٹ کلیساؤں میں اس تاریخ کی آدھی رات کے وقت عبادت ہوتی ہے ‘‘
اب ہم اردو شعراء اور ان کی شاعری کی طرف آتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں حضرت میرؔ نے جو شعر کہاہے ،سب سے پہلیاس کو پیش کیاجارہاہے ، فرماتے ہیں ؎
اعجاز منہ تکے ہے ترے لب کے کام کا
کیا ذکر ، یاں مسیح علیہ السلام کا
اس شعر کے معنی ومفہوم کے لئے شمس الرحمن فاروقی کی کتابوں سے رجوع کرنا پڑے گا۔ہم کو معذور سمجھاجائے۔ مرز اغالب ؔ کہتے ہیں ؎
مسیح جس سے کرے اخذفیض جاں بخشی
ستم ہے کشتہ ء تیغ جفا کہیں اس کی
چچا غالب کے شعر کی تشریح اکیسویں صدی میں کون کرسکتاہے ؟ اب ہم پاکستان کے معروف شاعر احمد فراز ؔ سے ملتے ہیں۔ احمد فراز ؔ نے بھی مسیح علیہ السلام کے حوالے سے اپنی ایک غزل میں شعر کہاہے ، دیکھئے گااردوکاہماراشاعر کہاں کہاں تک اپناخیال دوڑاتاہے ۔ اور کہتاہے ؎
اب زمیں پر کوئی گوتم نہ محمد نہ مسیح
آسمانوں سے نئے لوگ اُتارے جائیں
واقعی ہم لوگ نہ گوتم جیسے ہوئے ، نہ محمد ﷺ کے ہوئے اور نہ مسیح علیہ السلام جیسی مسیحائی ہمیں نصیب ہوئی۔ ایسے میں احمد فرازؔ اگر ’’نئے لوگ‘‘ اتارنے کی بات کرتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں ؟سیف زلفی کومیں نہیں جانتا، لیکن ان کایہ شعر اچھالگا ؎
پھیلا تھا مسیحِ وقت بن کر
سمٹا توصلیب ہوگیاہے
جناب انشاء اللہ خاں انشاء نے اپنی ایک غزل کے شعر میں عیسائیوں کے عقیدہ ء تثلیث روح القدس ، مریم اور مسیح کاذکر کچھ اس طرح کیاہے کہ قدیم شعراء کی علمیت پر یقین اوربڑھ جاتاہے ؎
روح القدس کی تجھ کو قسم اور مسیح کی
مریم کے تجھ کو عفت دامان کی قسم
نظم ’’محبت ‘‘ میں علامہ اقبال کہتے ہیں ؎
تڑپ بجلی سے پائی، حورسے پاکیزگی پائی
حرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سے
’’التجائے مسافر‘‘ نامی نظم میں علامہ اقبال کہتے ہیں ؎
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دِل کی
مسیح وخضر سے اونچا مقام ہے تیرا
علامہ اقبال کے ’’مسیح وخضر‘‘ کااستعمال مجید امجد نے کچھ اس طرح کیاہے کہ مجید امجد کے شاعر ہونے میں کوئی دورائے نہیں مگر اس شعر میں ملحدانہ بوباس بھی شامل ہوجاتی ہے ،اگر نہیں ہوتی تو میری ناقص فہم کو معاف کیجئے گا، وہ کہتے ہیں ؎
مسیح وخضر کی عمریں نثار ہوں اس پر
وہ ایک لمحہ جو یاروں کے درمیاں گزرے
کہاں مسیح وخضر اور کہاں خود مجید امجداور مجید امجد کے یاروار؟ ،دراصل یارباشی حدسے بڑھ جائے تو تہذیب کی حدوں کو پھلانگتے ہوئے کہیں تک بھی حملہ آورہوسکتی ہیں ۔مخدوم محی الدین اس معاملے میں اپناخیال اس طرح ظاہرکرتے ہیں ؎
مسیح وخضر کی کہنے کو کچھ کمی ہی نہیں
گزر بھی جاکہ تراانتظار کب سے ہے
استاد شیخ ابراھیم ذوق ؔ نے مسیح وخضر کے معاملے میں ایسا نکتہ نکالا ہے کہ پڑھنے والا عش عش کراٹھتاہے ، استاد کہتے ہیں ؎
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے
مسیح وخضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
کیفی ؔاعظمی نے کسی مسیح کو اپنے کلام میں کچھ اس طرح یاد کیاہے ۔ وہ مقطع میں کہتے ہیں ؎
ہواہے حکم کہ کیفی ؔ کو سنگسار کرو
مسیح بیٹھے ہیں چھپ کے کہاں خداجانے
25؍ڈسمبر سرد نہ ہو، ایسا ممکن ہی نہیں ۔سردیوں میں آنے والے عیسائی بھائیوں کے کرسمس تہوار پراردو شعراء نے خود عیسائیوں سے متعلق اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ سے متعلق بے شمار شعر کہے ہیں۔اپنی نظموں اور غزلوں میں ان کاذکر کیاہے ۔لفظ ’’عیسائی‘‘‘کولے کر یہاں چند اشعار کا ذکر کیاجاتاہے ۔ سب سے مشہور شعر ہے ؎
ہندومسلم سکھ عیسائی
آپس میں ہیں بھائی بھائی
اس کی دل لبھانے والی پیروڈی حیدربیابانی نے کی ہے ۔ ملاحظہ کریں ؎
ہندومسلم سکھ عیسائی
مل کر کھائیں یارمٹھائی
مگر اس پیروڈی سے ہٹ کر جس سنجیدگی سے فراغ ؔروہوی نے شعر کہاہے ، وہ قابل داد ہی نہیں ، گر ہ سے باندھ لینے لائق ہے ، کہتے ہیں ؎
ہندومسلم سکھ عیسائی
آدم کی اولاد ہیں بھائی
اسی لفظ عیسائی کے حوالے سے نداؔفاضلی کا ایک تیکھا شعر یوں ہے ؎
کوئی ہند و، کوئی مسلم ، کوئی عیسائی ہے
سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے
اسی انداز کاایک تھوڑا ساکمزور شعرشارب مورانوی نے کہاہے ؎
ہندوملتا ہے ،مسلمان بھی عیسائی بھی
لیکن اِس دور میں انسان تو ملتا ہی نہیں
حامد اللہ افسر نے شاندار بات بتائی ہے۔ مثبت انداز کایہ شعر جناب ِ افسر ہی کی کاوش کانتیجہ ہے۔’’وطن کاراگ‘‘ نظم میں کہتے ہیں ؎
ہندوہیں یامسلم ہیں، یاسکھ ہیں یاعیسائی ہیں
پریم نے سب کو ایک کیاہے ، پریم کے ہم شیدائی ہیں
طرب صدیقی نے اپنی غزل کے اس شعر میںملک کی تہذیب کاسبق دیاہے ؎
ہندو نہ مسلمان ، نہ عیسائی نہ سکھ ہیں
اس ملک کی تہذیب کے مینار ہیں ہم لوگ
زبیر رضوی مرحوم نے اپنے ایک گیت میں کہاہے ؎
ملا، پنڈت، گیتا اور قرآن کے ہیں متوالے
ہندومسلم سکھ عیسائی، دیش کے سب رکھوالے
یہ ہندوستانی پس منظرمیں کہاگیاشعر ہے۔ اور واقعی یہی کچھ ہمیں ہندوستان کی دھرتی پر اور یہاں کی روایات میں ملتاہے۔ جو زبیررضوی کہہ چکے ہیں۔مگر کنورمہندر سنگھ بیدی سحر ؔ کہتے ہیں ؎
سکھ نہ عیسائی ، نہ ہندو نہ مسلمان ہے تو
تیراایمان یہ کہتاہے کہ انسان ہے تو
خیریہ انسان والا معاملہ تو ہے لیکن اکبر الہ آبادی عشق سے کب باز آنے والے ہیں ، کرسمس کے حوالے سے شعر بھی کہاتو کسی CJIیعنی سپریم کورٹ کے اعلیٰ منصف کے کسی گرماگرم فیصلے کی طرح کافی گرماگرم شعر کہا۔ جناب اکبر اِلہ آبادی کہتے ہیں ؎
نگاہ ِ کرم کرسمس میں بھی رہی ہم پر
ہمارے حق میں ڈسمبر بھی ماہ جون ہوا
یہ حضرت اکبرالہ آبادی کی خوش قسمتی ہے ورنہ کون نگاہ ِ کرم ڈالتاہے۔ لوگوں کاحال یہ ہے کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ سفر کرسمس میں کیاجاتاہے تاکہ اپنوں سے ملاقات ہوسکے۔ اس ملاقات پر خوشی بھی ہے غم بھی ۔ گوکہ غم کم ہے لیکن ہے۔ ڈسمبر جیسا سردمہینہ جون جیسے گرم مہینے میں بدلنے کے لئے جیب میں پیسے اور پیشانی پر قسمت کی گہری لکیروں کاہونا ضروری ہے۔ ورنہ کئی بیچارے ہیں جن کاڈسمبر اور جن کی کرسمس بے روح گزرجاتی ہے ۔ وہ کسی کرایہ کی محبوبہ کے ساتھ دنیاگھومتے ہوئے بھی اکیلے ہی ہوتے ہیں۔اب ہمیں یہاں اردو کا تذکرہ کرنا پڑرہاہے کیوں کہ جناب اخترشیرانی تمام مذاہب خصوصاً عیسائیوں کی بھی زبان اردو بتاتے ہوئے کہتے ہیں ؎
ہندو ہو، پارسی ہو، عیسائی ہوکہ مسلم
ہرایک کی زباں ہے ، اردوزباں ہماری
یہی خیال موج ؔفتح گڑھی کاہے، ان کاخیال ہے ؎
ہندومسلم سکھ عیسائی کوئی ہو
سب کی ہی دم ساز ہے اردو زباں
گوپی چند نارنگ شاعر ہوں گے ، یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔ اگر جانتے بھی ہیں تو یہ کہہ کرکہ نظر انداز کردیتے ہیںکہ یہ وہ نقاد گوپی چند نارنگ نہیں ہوسکتے ، کوئی دوسرے ہی ہوں گے۔ بہرحال ان کایہ شعر ملاحظہ کیجئے گا ؎
عیسائی ہوں، ہنود ہوں، مسلم ہوں ، خواہ سکھ
سب نام پہ ہوں صلح کے قرباں ، خداکرے
عرش ملسیانی نے نظم ’’ارض ِ دکن‘‘ میں جوکچھ کہاہے ، اس میں تعریف ہے یا طنز ، دیکھ لیجئے ؎
جنگ کے فن میں قابل ہوتم ، ماہرہو استاد ہوتم
ہندو مسلم سکھ عیسائی ، جینی بودھ اور پارسی
اردو کے حوالے سے اوپر ذکر کردہ موج ؔفتح گڑھی نے ہمارے رویوں پر افسوس کا اظہا رکرتے ہوئے کچھ ایسا بھی کہاہے ؎
ہندوومسلم وعیسائی وسکھ میل سے تھے
آپسی پریم کا،الفت کامزاتھاپہلے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے یہ بات عیسائی بھائیوں میں مشہور ہے کہ وہ بیماروں کو اپنی دعاؤں سے اچھا کردیاکرتے تھے۔اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عیسائی پادری دعا دینے میں مشہور ہیں ۔ یہی چیزشاعرہ محترمہ فاخرہ بتول نے اپنی نظم ’’مسیحا‘‘ میں منظوم کی ہے ، کہتی ہیں ؎
ہراک بیمار کے چہرے پہ رونق تم سے قائم ہے
دعا عیسائی کی تم کو لگ گئی شاید
عیسائی حضرات کی مقدس کتاب کانام بائبل ہے ۔ بائبل کے بارے میں اردو شعراء نے اپنے پاکیزہ جذبات کا اظہارکیاہے ، ملاحظہ کریں ؎
کفیل آذرنظم ’’مشورہ‘‘ میں کہتے ہیں ؎
تم اپنے پیار کو رسواکرونہ روروکر
تمہارا پیار مقدس ہے بائبل کی طرح
ایک اور نظم ’’دوراہے ‘‘ میں بائبل سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں ؎
روؤگی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تک
بائبل میں کب تلک ڈھونڈوگی زخموں کاعلاج
آخر میں یہی کہاجاسکتاہے کہ اردو زبان کے شعراء نے سبھی مذاہب کو اپنا سمجھا، ان مذاہب کے پیغمبروں کی زندگی اوران کے ذریعہ آنے والی مقدس کتابوں کو پڑھا اورمثبت اظہار خیال کیا۔یہ صرف اردو تہذیب کی دین ہے۔ دعاہے کہ رب کریم اُردوزبان وادب کو باقی رکھے ۔ اور اُردوکے ذریعہ سارے انسانوں میں پھیلنے والی بے لوث روحانی محبت ہمیشہ عام ہوتی رہے ۔ آمین ۔
