مفتی رحمت اللہ ندوی
استاد حدیث و فقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
اسلام دین فطرت ہے ،اسی لئے اس نے انسانی فطرت کی رعایت کرتے ہوئے نکاح کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ اسے پسند کیا ہےاور اس کی ترغیب دی ہے اور تجرد کی زندگی گزارنے سے منع کیا ہے ،کیوں کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں آدمی کے گناہ میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اور بسا اوقات تو یقین ہوجاتا ہے، نکاح کا اصل مقصد جہاں توالد و تناسل ہے ،وہیں ایک دوسرا اہم مقصد عفت و عصمت کی حفاظت اورفطری طریقہ پر انسان کی نفسانی خواہش اور ضرورت کی تکمیل بھی ہے۔
اسی لئے اسلام نےنکاح کا جو طریقہ مقرر کیا ہے وہ نہایت آسان ،سادہ اور اخراجات و صرفہ کے لحاظ ہے سہل ترین ہے،اسلام کے طریقۂ نکاح کا خلاصہ ہے کہ دو بالغ مرد و عورت ،دو گواہوں کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتہ کو قبول کرلیں ،بس نکاح ہوگیااور وہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے ، نکاح کے بعد مہر اگر مقرر ہے تو وہی واجب ہے ورنہ مہر مثل واجب ہوگا ،لیکن یہ نکاح کے درست ہونے کی شرط نہیں ہے ، اس کے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے ،البتہ مہر کی مقدار اتنی زیادہ نہ ہو جس کی ادائیگی شوہر کے لئے دشوار ہو جائے اور اس کی مالی حیثیت اس کی متحمل نہ ہو ۔
مسجد میں نکاح کرنا بہتر قرار دیا گیا ہے کیوں کہ وہاں فطری طور پر لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اور اسلام نے نکاح میں اعلان اور اظہار کو پسند کیا ہے ،بلکہ زنا اور نکاح کا ایک فرق یہ بھی ہے کہ بدکاری چھپ کرکی جاتی ہے اور نکاح کھلم کھلا کیاجاتا ہے ۔
نکاح کے بعد ولیمہ مسنون ہے ، ولیمہ اپنی حیثیت اور وسعت کے اعتبار سے کرنا چاہئے ،تکلفات اور بے جا اخراجات میں نہیں پڑنا چاہئے،ولیمہ کا یہ طریقہ بھی ثابت ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے کھانا لے کر آئیں اور دولہا کےگھر بیٹھ کر کھالیں ،لیکن موجودہ دور میں تکلفات اور بے جا اخراجات ،اسراف اور فضول خرچی نے نکاح کو مشکل اور بوجھ بنا دیا ہے کہ متوسط طبقہ بھی اس سے جوجھ رہا ہے ،منگنی اور جہیز کی رسومات اور سماج کے غلط رواج نے نکاح جیسے آسان اور معمولی خرچ والے عمل کو بے حد دشوار بنا دیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ معاشرہ میں بدکاری عام اور آسان ہوگئی ہے اور نکاح گراں اور مشکل ہوگیا ہے ،تکلفات اس قدر ہیں کہ لوگ دور دراز سے نکاح میں شرکت کے لئے آتے ہیں ،ایک شہر سے دوسرے شہر باراتیں جاتی ہیں، باراتیوں کی پوری فوج جاتی ہے ،اور کثرت تعداد کا شان وشوکت بگاڑنے اور ڈینگ مارنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ،اور لڑکی والوں کو ان کے لئے پُر تکلف کھانوں کا نظم کرنا پڑتا ہے ، جس میں بے تحاشا خرچ آتا ہے ، پھر تمام دوست واحباب ،اعزہ و اقارب بارات میں شرکت کو اپنا حق جانتے ہیں ،یہ تمام باتیں مزاج شریعت کے قطعاً خلاف ہے اور غیر انسانی وغیر اخلاقی عمل ہونے کے ساتھ بہت ناپسندیدہ اور غلط ہیں ۔
آج کل شادیوں میں جن بے انتہا فضول خرچیوں کا چلن ہوگیا ہے ،ان سے کئی شادیاں ہوسکتی ہیں، جب کہ اکثر جگہوں پر لڑکیوں کی شادیاں صرف اس وجہ سے نہیں ہوپارہی ہیں کہ ان کے غریب والدین اتنی شاہ خرچیوں کا بوجھ نہیں برداشت کرسکتے ہیں ،اور اس کی وجہ سے ان لڑکیوں کی عمر ڈھلتی جارہی ہے پھر یا تو وہ شادی کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہیں یا کوئی غلط راستہ اپنانے پر مجبور ہوجاتی ہیں ،اس بے راہ روی اور بدکاری کے عام ہونے میں ہمارا سماج ہی مجرم ہے ،جو اس خود لعنت میں گرفتار ہے ،اور اس کے خلاف نہ کوئی آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہا ہے،اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل تیار کر رہا ہے ۔
لہٰذا ضرورت ہے کہ جب اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے تو اس کو آسان رکھا اور بنایا جائے ،تاکہ سماج پاکیزہ اور افراد پاک بازیوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
