از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم: دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)

 

دنیاوی کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے، لیکن حقیقی کامیابی وہی ہے جو ہمیں دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی کامیاب بنائے۔ مال و دولت، شہرت اور عہدے عارضی ہیں، لیکن اچھے اخلاق، عمدہ کردار، اور اللہ کی رضا دائمی کامیابی کی کنجیاں ہیں۔ کیونکہ انسانی کامیابی کا اصل معیار دنیاوی مال ودولت کا حصول نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق، عمدہ کردار اور اللہ ورسول(جل جلالہ/ﷺ) کی اطاعت وفرماں برداری میں پوشیدہ ہے-یہ اصول ہمیں رسول اللہ ﷺ کی مبارک تعلیمات میں نظر آتے ہیں جو انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہیں-نبی کریم ﷺ کی مبارک تعلیمات نے انسان کو وہ رہنما اصول عطا کیے ہیں، جو اسے جنت تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایک عظیم الشان حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة: اصدقوا إذا حدثتم، وأوفوا إذا وعدتم، وأدوا إذا اؤتمنتم، واحفظوا فروجكم، وغضوا أبصاركم، وكفوا أيديكم۔”

(مسنداحمد:22949،شعب الایمان للبیھقی:4936)

"مجھے چھ باتوں کی ضمانت دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دوں گا: جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، جب تمہیں امانت دی جائے تو اسے ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو ظلم و زیادتی سے روکو۔”

یہ حدیث شریف انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی کامیابی کا مکمل نقشہ پیش کرنے کے ساتھ ہمیں زندگی کے ان سنہری اصولوں کی یاددہانی کراتی ہے جو نہ صرف دنیاوی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ ہیں بلکہ اخروی کامیابی کے ضامن بھی ہیں ۔ آئیے ان چھ اصولوں کو تفصیل سے سمجھیں اور ان کی اہمیت پر غور کریں۔

 

1. سچائی، کامیابی کی پہلی سیڑھی:

سچائی ایمان کا جوہر اور اسلام نیز ہر اچھے کردار کی بنیاد ہے۔سچ بولنا نہ صرف اخلاقی فریضہ ہے بلکہ معاشرتی اعتماد، امن اور محبت کا ذریعہ ہے-اس کے برخلاف جھوٹ ہرفتنے وفساد کی جڑ ہے، ایک مسلمان کا سب سے نمایاں وصف اس کا سچ بولنا ہے۔ جھوٹ نہ صرف معاشرتی فساد کا سبب بنتا ہے بلکہ اللہ کی ناراضگی کا بھی ذریعہ ہے اور سچائی اللہ تعالیٰ کی رضا اور بندوں کی محبت کا سبب بنتی ہے – رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت تک پہنچاتی ہے۔”

(صحیح بخاری:6094، صحیح مسلم:2607)

سچ بولنے والا شخص دوسروں کے دلوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں عزت و احترام کا مقام حاصل کرتا ہے۔

 

2. وعدہ پورا کرنا، اعتماد کی بنیاد:

وعدہ پورا کرنا نہ صرف ایک اہم اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ ایک مومن کے کردار کی پہچان یہ ہے کہ وہ کبھی وعدہ خلافی نہ کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تاکیدی طور پر فرمایا:”اور وعدہ پورا کرو، بے شک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”(سورۃ بنی اسرائیل: 34)

وعدہ خلافی نہ صرف دنیا میں بے وقعتی کا سبب بنتی ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت پکڑ کا موجب بن سکتی ہے اور اس سے انسان کا وقاربھی مجروح ہوتا ہے اس لیے وعدہ خلافی سے بہرحال بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ایک مومن کی بڑی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ وعدہ خلافی نہ کرے، نبی کریم ﷺ نے وعدہ خلافی کو منافقت کی علامت قرار دیاہے جیساکہ ارشاد نبوی ہے:”منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے” (صحیح بخاری: 33،صحیح مسلم:59)

 

3. امانت داری، ایمان کا زیور:

امانت داری ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب اور بندوں کے درمیان محبوب بناتی ہے۔اور یہ ایک ایسی عظیم صفت ہے جو مومن کی پہچان اور ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس شخص میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔” (مسند احمد)

امانت چاہے مال کی ہو، ذمہ داری کی ہو یا کسی راز کی، اسے ادا کرنا ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔

 

4. شرمگاہ کی حفاظت، پاکیزگی کا ضامن:

اسلام انسان کو عفت و حیا کا درس دیتا ہے۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت نہ صرف گناہوں سے بچاتی ہے بلکہ انسان کو روحانی بلندی عطا کرتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہی لوگ کامیاب ہیں۔”(سورۃ المؤمنون: 5-7)

پاکیزگی اور عفت معاشرتی برائیوں سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہے۔

 

5. نگاہوں کی حفاظت، دل کی پاکیزگی کا ذریعہ:

غلط نظریں انسان کے دل کو گناہوں کی آلودگی میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:”مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔”

(سورۃ النور: 30)

یہ آیت کریمہ نہ صرف گناہوں سے بچنے کا بچنے کادرس دیتی ہے بلکہ معاشرتی برائیوں کے خاتمے کی ضمانت بھی ہے-

نگاہوں کی حفاظت دل کو سکون، روح کو پاکیزگی، اور زندگی کو فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

 

6. ہاتھوں کو ظلم سے روکنا، عدل و انصاف کی بنیاد:

ظلم و زیادتی نہ صرف دوسروں کے حقوق تلف کرتی ہیں بلکہ انسان کے دل کی سیاہی کا مظہر بھی ہیں اور یہ معاشرے کو بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔”(صحیح بخاری:2447، صحیح مسلم:2579)

عدل و انصاف وہ اصول ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور معاشرے میں امن و سکون کا قیام ممکن بناتا ہے۔

 

حاصل کلام یہ ہے کہ مذکورہ حدیث شریف میں بیان کردہ یہ چھ اصول زندگی کے ہر پہلو کو سنوارنے کا ذریعہ ہیں۔ اگر ہم ان کو اپنی زندگی میں شامل کریں، تو نہ صرف دنیاوی مسائل کا حل ممکن ہے بلکہ آخرت میں جنت کی ضمانت بھی یقینی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تعلیمات کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و اقدار کا آئینہ بنائیں۔

یاد رکھیں، جنت کا حصول مشکل نہیں، بس اپنے کردار کو سنوارنا اور اپنے اعمال کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ یہی حقیقی کامیابی کا راز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے