دھندلی دھندلی شام غریباں میرا نصیب
اجلی اجلی صبح بہاراں تیرے نام
اجلی اجلی صبح بہاراں تیرے نام
سہارنپور(احمد رضا): خواتین کی نمائندگی کرنے والی مہذب شاعرہ اور ادیب طلعت سروہا نے ادبی تقریب میں تبسّم ناڈ کر کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی ادبی خدمات ملک کے ادب کی ایک سنہری نظیر ہے ممبئی کی سرزمین سے نکل کر اپنی تخلیقات سے پوری دنیا میں اردو زبان کو تقویت بخشنے والی ادیبہ تبسّم ناڈ کر ایک عظیم الشان شخصیت کی مالک ہیں! گزشتہ شب ممبئی سے سہارنپور تشریف لانے پر ملک کی با وقار شاعرہ افسانہ نگار اور 8 کتابوں کی مصنفہ تبسم منظور ناڈکر کے اعزاز میں پل کمبو ہان واقع الامین اسکول کے خوبصورت ہال میں ایک اعزازی محفلِ ادب آراستہ کی گئی جس میں سامعین صحافی، شہریوں نیز معززین نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔
پروگرام کی صدارت سینئر صحافی احمد رضا نے کی اور پروگرام کی باوقار نظامت نمائندہ شاعر خرم سلطان نے انجام دی۔ پروگرام میں اردو مرکز سہارنپور کے صدر بلال سہارنپوری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ خرم سلطان نے تبسم ناڈکر کی شخصیت اور ان کے مجموعوں کے تعلق سے تفصیل سے گفتگو کی اور سہارنپور میں ان کی موجودگی کو اہلِ سہارنپور کے لئے فخر کا باعث بتایا۔ دانش کمال نے انجمن عروجِ ادب کے 40 سالہ سفر، خدمات اور کارہائے نمایاں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر طلعت سروہا نے گل پوشی کے ساتھ تبسم ناڈکر کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر قدسیہ انجم، احمد رضا، بلال سہارنپوری اور دانش کمال نے انجمن عروجِ ادب کی جانب سے تبسم ناڈکر کو نشانِ اعزاز پیش کیا۔ سینئر صحافی احمد رضا اور ایڈوکیٹ راحل رضا نے پوری اردو دنیا میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ سہارنپور شہر کی نمائندگی کرنے کے لئے انقلابی لہجہ کے شاعر بلال سہارنپوری کو اعزاز سے سرفراز کیا! اس موقع پر دانش کمال اور سلمان تھانوی کو بھی شال پیش کرکے اعزاز کیا گیا۔ پرگرام کا آغاز تبسم ناڈکر کی نعتِ پاک سے ہوا۔ جن شعراء کو پسند کیا گیا، ان کا ایک ایک شعر اس طرح ہے:
نبی کی یاد بسی ہے ہماری دھڑکن میں
نبی کے ذکر کو دل میں سجائے رکھتے ہیں
تبسم ناڈکر
دھندلی دھندلی شام غریباں میرا نصیب
اجلی اجلی صبح بہاراں تیرے نام
دانش کمال
آسماں سے خود زمیں پر لوٹ کر آ جائے گا
جب کسوٹی پر ترا کردار پرکھا جائے گا
ہارون صابر فریدی
ہاتھ میں بندوق اور تیر نہ تلواروں کے ساتھ
میں قلم سے لڑ رہا ہوں جنگ مکّاروں کے ساتھ
بلال سہارنپوری
چند سکّے ہیں جیب میں میری
فخر یہ کہ سب حلال کے ہیں
خرم سلطان
مری فکر کو تو بلندی دے مولی
مرے بخت کو ماہِ کامل عطاکر
تبسم منظور ناڈکر
مرے ظلمت کدے میں بھی کبھی جلوا دکھا اپنا
سنا ہے تجھ کو جلنا اے چراغِ شام آتا ہے
آصف شمسی
دیکھ کر اوروں کو جینے سے بھلا کیا فائدہ
اپنے اندر جھانک لینے سے ہی ہوگا فائدہ
ڈاکٹر قدسیہ انجم
ضرورت مند اپنی فکر کے طالب کو کھو بیٹھا
ہمارا دور بھی اس دور کے غالب کو کھو بیٹھا
فراز احمد فراز
سچ بولنے والوں کی کمی ہو گئی شاید
بستی میں کوئی سولی کوئی دار نہیں ہے
ڈاکٹر ولی دیوبندی
اندازِ انتظار مرا دیکھ شوق سے
لیکن مرے خلوص پہ انگشت مت اٹھا
فیّاض ندیم
کل ملاقات ہو یا نہ ہو ہم نشیں
یہ بھروسہ نہ جا کم سے کم توڑ کر
طاہر امین
مجھے اب اس سے بچھڑنے کا صبر یوں بھی ہے
وہ صرف راہ کا ساتھی تھا عمر بھر کا نہیں
اسلم محسن
جوشِ جنوں میں چاک گریبان کر لیا
بیکار اک کمیص کا نقصان کر لیا
عاصم پیرزادہ
بھٹکتے رہنے کا وحشت میں فائدہ یہ ہوا
تمہارے خواب بھی آنکھوں کے غار سے نکلے
عدیل تابش
بزم میں آپ آگےؑ ہونگے
نور بے نور ہو گیا ہوگا
رونق شیرکوٹی
ان کے علاوہ الیاس علم،طلعت سروہا کے کلام کو پسند کیا گیا مجاہد حسن،اخلاق احمد انیس قریشی،جاوید خاں،مکرم شمسی وغیرہ کی موجودگی نے پروگرام کو رونق بخشی ۔پروگرام کے آخر میں کنوینر دانش کمال نے مہمانانِ کرام کا شکریہ ادا کیا!
