مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی
استاذتفسیر و ادب دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

شکر و امتنان کے جذبات کہ رمضان کا مہینہ ایک مرتبہ پھر نصیب ہوا ۔ اللہ کی فرمانبرداری والے جس طرز ِ حیات کا نام اسلام ہے ، اس کے بنیادی ارکان میں کلمہ شہادت ، نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج ہیں ،ان ارکان میں روزہ ہر مسلمان عاقل و بالغ مرد عورت پر فرض ہے ، جو اُ س کی فرضیت کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں رہتا ، اور جو بلا عذر اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گنہگا ر ہوتا ہے، مشہور ہے : لِکُلِّ شَیْئٍ زَکَاۃٌ وَزَکَاۃُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ (ہر چیز کی زکاۃ ہوتی ہے ، اور جسم کی زکاۃ روزہ ہے )
حضرات !روزے کے تین رکن ہیں : روزہ کی نیت کرنا ، روزے رکھنے کا زمانہ ہونایعنی رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنا،اور روزہ توڑنے والی چیزوں سے اجتناب کرنا۔ روزہ توڑنے والی چیزوں میں دوچیزیں ہیں: ایک تو یہ کہ جن سے منع کیا گیا ہے یعنی کھانا ، پینا اور نفسانی خواہشا ت پوری کرنا ، ان سے روزہ دار بچے ، دوسرے روحانی طور پر جن گناہوں سے منع کیا گیا ہے جیسے لغو بات ، غیبت ، جھوٹ، ان سے انسان دور رہے، اس سے معلوم ہوا کہ صرف کھانے پینے اور نفسانی خواہشات ہی سے نہیں رکنا چاہئے، بلکہ اعضاء و جوارح کا روزہ رکھنا چاہئے ، ان کا روزہ یہی ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات کے مطابق استعمال کیا جائے ،اسی لئے بعض مفسرین نے کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کی تفسیر میں یہ نکتہ لکھا ہے : تمہارے جسم کے ایک ایک عضو اور ایک ایک اَنگ پر روزہ فرض کیا گیا ہے،اس لئے اس مہینے میں کوئی کام روزہ کی روح کے خلاف نہیں ہونا چاہئے ۔
حضرات !سابقہ مذاہب میں بھی روزے کا تصور ملتا ہے ، ہندو مذہب میں برت کے نام سے روزہ تھا ، یہودی مذہب میں اگر کوئی خطرہ در پیش ہوتا تو روزہ رکھا جاتا ، نیز حوادث اور واقعات کے لحاظ سے روزہ یہودی شریعت میں بھی پایا جاتا ہے ، محرم کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دی تھی ، اس لئے یہودی اس دن روزہ رکھتے تھے، حضرت موسی علیہ السلام نے طور پر جانے سے پہلے چالیس دن کا روزہ رکھا تھا، عیسائی مذہب میں بھی روزہ کا تصور ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کہا کہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے ، سابقہ مذاہب میں جو روزے تھے وہ وقفہ وقفہ سے تھے، مسلسل نہیں تھے ،اسلام نے پورے ایک مہینہ کے مسلسل روزے فرض کئے ، کیونکہ اس سے قوت ِ بہیمیہ پر اثر پڑتا ہے اور انسان کے اندر ملکوتی صفات طاقت ور ہوتی ہیں۔
حضرات ! روزہ اور قرآن کا ایک دوسرے سے گہرا ربط ہے ، دونوں کو ایک دوسرے کا لازم ملزوم قراردیا گیا ہے ، جس طرح روزہ کو طلوع صبح صادق سے جوڑ دیا گیا ، اسی طرح وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہو ا ، اور وہ ساری انسانیت کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہوا ، روزہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ، اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ رمضان میں تلاو ت کا بہت زیادہ اہتمام کر تے تھے ، یہ مہینہ ہر قسم کی برکتوں کا جامع ہے ، انسان کو سال بھر میں جوبرکتیں ملتی ہیں ، وہ اس کے مقابلہ میں ایسی ہیں ،جیسے سمندر کے مقابلہ میں قطرہ ، اس مہینہ میں جمعیت باطنی پورے سال جمعیت باطنی کا ذریعہ ہے ، اور اس میں پریشان خاطری پورے سال کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کا مشہور جملہ ہے : انسان کو اس مہینہ میں اگر اعمال صالحہ کی تو فیق مل جائے تو یہ توفیق سال بھر رہے گی ، اور اگر یہ مہینہ بے دلی ، فکر و تردد میں گذرا تو پورا سال اسی حال میں گذرنے کا اندیشہ ہے ۔
حضرات ! روزہ کی فرضیت سنہ۲ ہجری میں ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو رمضان کے روزے رکھے ، قرآن کریم میں’’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوُا‘‘سے خطاب کیا گیا ہے، تاکہ ذہن تیار ہوجائے ، پھر بتایا گیا کہ کوئی نیا حکم نہیں دیا جارہا ہے ، بلکہ پرانا ہی حکم ہے ،پھر بتایا گیا کہ گنتی کے چند دن ہیں ، جو چند دنوں میں ختم ہو جائیں گے ۔
حضرات ! ہر چیز کی ایک خصوصیت ہوتی ہے ، اور یہ خصوصیت کبھی اس کے نام سے ہی ظاہر ہو جاتی ہے ، لیکن چونکہ یہ مہینہ گناہوں کو جھلسا دیتا ہے ، اور اس طرح جلا دیتاہے ، جس طرح لکڑی کو آگ جلا دیتی ہے ، اسی وجہ سے اس کا نام رمضان پڑا، روزہ کو رمضان کے ساتھ اس وجہ سے خاص کیا گیا ہے ، کیونکہ اس میں ساری آسمانی کتابیں اتاری گئی ہیں ، اور قرآن بھی لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اسی ماہ میں اتارا گیا ،اس لئے اس میں روزے فرض کئے گئے ، اور رمضان اور قرآن دونوں قیامت کے دن روزہ دار کے لئے سفارش کریں گے ۔
حضرات ! روزہ کا مقصد تقوی پیدا کرنا ہے ، اسلام میں ہر عبادت کا ایک مقصد ہے ، نماز کا مقصد برائیوں اور بے حیائیوں سے روکنا ہے ، زکاۃ کا مقصد دل کو مال کی محبت سے پاک کرنا اور مال کو بھی پاک کرنا ہے ، حج کا مقصد گناہوں سے پاک و صاف کرنا ہے ، اس طرح روزہ کا مقصد اللہ کا ڈر ، لحاظ اور تقوی پیدا کرنا ہے ، اسی لئے کہا گیا ہے : لعلکم تتقون، امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا کہ تقوی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! کیا آپ کانٹے دار راستے سے کبھی گذرے ہیں ؟ حضرت عمر ؓ نے کہا : ہاں، گذرا ہوں ، پوچھا کہ اس وقت کیا کیا ؟ کہا : اپنے دامن کو سمیٹ لیا اور گذر گئے، حضرت ابی ؓ نے کہا : یہی تقوی ہے ، دنیا میں انسان ایسی زندگی گذارے کہ حرام کے قریب بھی نہ ہو ، اور گناہوں سے دور رہے تو یہی تقوی اور خوف خدا ہے ۔
حضرات ! روزہ ایک مخفی عبادت ہے ، نماز ظاہری عبادت ہے ، زکاۃ ظاہری عبادت ہے ، حج ظاہری عبادت ہے ، لیکن روزہ ایک چھپی ہوئی عبادت ہے ، اگر انسان کے اندر اللہ کا ڈر نہ ہوتو اس کا پتہ نہیں چل سکے گا ، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اس کے انعام کے متعلق فرمایا : الصَّوْمُ لِیْ وَ أَنَا أَجْزِیْ بِہِ (صحیح بخاری کتاب التوحید: ۷۵۳۸) ( روزہ میرے لئے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا )
حضرات !بزرگوں سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا معلوم کہ ہماری عبادتیں قبول ہوتی ہیں یا نہیں ، تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ایک کام کے بعد دوسرے کام کی توفیق مل جائے تو پہلا عمل قبول ہوگیا، صحیح مسلم کی روایت بھی ہے : اَلصَلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ، وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مِنَ الْخَطَایَا، إِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ(پانچوں نمازیں اور جمعہ اور رمضان گناہوں کو دور کرنے والے ہیں بشرطیکہ گناہ کبیرہ سے دور رہا جائے )
دوسری بات یہ ہے کہ روزہ رکھ کر انسان کے دل میںنرمی ، اخلاق میں تبدیلی اور سرگرمیوں میں فرق آئے تو گویا وہ روزہ مقبول ہے ، اور اگر اس کے بر عکس مزاج میں کبر وغرور ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری عبادت قبول نہیں ہو رہی ہے ۔
رمضان اور روزے کے فضائل ہم نے سنے ، اب کچھ آداب اور احکام بھی یاد رکھیں ، تاکہ رمضان کے روزے صحیح طور پر ادا ہوں ، طبرانی کی روایت ہے : فَاتَّقُوْا شَہْرَ رَمَضَانَ، فَإِنَّ الْحَسَنَاتِ تُضَاعَفُ فِیْہِ مَا لاَ تُضَاعَفُ فِیْمَا سِوَاہُ، کَذَا السَّیِّئَاتُ (رمضان کا اہتمام کرو ، کیونکہ اس میں نیکیاں اس قدر بڑھادی جاتی ہیں ، جس قدر دوسرے مہینوں میں نہیں بڑھائی جاتی ہیں ، اسی طرح برائیوں کی سزا دو چند کردی جاتی ہے )
حضرات ! رمضان کا روزہ رکھنا ہر بالغ ،مرد ،عورت پر فرض ہے ، بلاعذر ِ شرعی اگر روزہ چھوڑدے اور پوری زندگی بھی روزہ رکھے تو بھی اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔
اس لئے گھر کا سربراہ نگرانی کرے کہ اُ ن کے متعلقین میں کوئی روزہ نہیں چھوڑرہا ہے، آج کل غریب طبقہ کے افراد روزہ نہیں رکھتے اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رکشا چلاتے ہیں ، اس لئے مشکل ہوتا ہے ، اس سلسلے میں ہم کو فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
پورے ماہ تراویح پڑھنا عبادت ہے ، اور قرآن سننا مستقل عبادت ہے ، آج کل ہوتا یہ ہے کہ پانچ دن میں قرآن سن لیا اور گھر بیٹھ گئے ، یہ بہت خطرہ کی بات ہے ۔
ہمارا مذہب باہمی ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے ، ایک دوسرے کا خیا ل رکھنا اس کی فطرت میں ہے ، اس لئے ان کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہئے ۔
ہمارے معاشرہ میں ہمارے ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں ، اب ہم دو بجے سے لاؤڈ اسپیکر میں نعت ،قوالی ، نظمیں ترانے وغیرہ پڑھنا شروع کردیں تو اس سے خلل واقع ہوتا ہے ، اور یہ ایذا ء ہے ، اور ایذاء پہونچانا حرام ہے ۔
فقہاء نے لکھا ہے کہ انسان تہجد پڑھے اور زور زور سے تلاوت کرے تو یہ بھی ناجائز ہے ، اورآج کل جتنے بھی جھگڑے ہوتے ہیں ،اسی وجہ سے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جذبات کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔
حضرات : سحری اور افطار بھی روزہ کے بنیادی تقاضوں میں ہے،سحری کھانا سنت ہے ، اس میں تاخیر ہو نی چاہئے ، اہل کتاب اور ہمارے روزوں میں سحری کا فرق ہے ،اور سحری کھاناباعث برکت و تقویت ہے، اور افطار میں جلدی کرنا بھی مسنون ہے ، احتیاطاً تاخیر کی الگ بات ہے ، لیکن حد سے زیادہ تاخیر کرنا یہ اللہ کے مقررکردہ حکم کو نہ ماننا ہے ، رمضان میں چار چیزوں کی کثرت ہونی چاہئے : (۱) جنت کی طلب (۱)جہنم سے پناہ (۳) لاالہ الااللہ کی کثرت (۴) اور استغفار
رمضان کے روزوں کی کوتاہیوں کے ازالے اور عید کی خوشی میں غریبوں اور فقیروں کو شریک کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر فرمایا ہے ، یہ مال کا نہیں، جسم و جان کا صدقہ ہے ، اس لئے مسلمانوں کے ہر جسم پر فرض ہے ، خواہ مرد ہو یا عورت ، چھوٹے بچے ہوں یا بڑے ، امیر ہوں یا غریب ، ہر ایک پر صدقۂ فطر واجب ہے، قرآن میں اس کا ثبوت ’’ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی‘‘سے ملتا ہے ، خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت اسی موقع پر اتری ہے ، جس طرح نماز میں غلطی ہو تو سجدہ سہو ہوتا ہے ، اسی طرح صدقہ فطر روزہ کی غلطیوں کو دور کرنے کے لئے ہے: طُھْــرَۃٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ ، وَطُعْمَۃٌ لِلْمَسَاکِیْنِ (سنن ابوداؤد، کتاب الزکاۃ: ۱۶۱۱) صدقہ فطر واجب ہے اس پر جس پر زکوۃ واجب ہے صاحبِ نصاب پر، صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گیہوں ہے ، نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے ، اگر نماز کے بعد ادا کیا تو عام صدقہ کا ثواب ملے گا ۔
حضرات !سارے اعمال کرنے کے بعد یہ احسا س تازہ ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاںقابلیت اصل نہیں، قبولیت اصل ہے ، اور قبولیت دعا ، تقویٰ ، اور اخلاص سے آتی ہے ۔اعمال کی قبولیت کے بنیادی شرائط یہ ہیں : جو عمل کیا جارہا ہے وہ شریعت کے موافق ہو ، انسان کو پاکیزہ غذا کا اہتمام ہو ،اس کے اندر اخلاص ہو، ریا کاری نہ ہو ، پابندی ہو، ترک عمل نہ ہو ، حضرت ابراہیم ؑ نے قبولیت کی دعا مانگی : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ،حضرت عمران ؑ کی بیوی نے دعا مانگی : رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطَنِیْ مُحَرَّراً فَتَقَبَّلَ مِنِّیْاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سکھلایا : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً، وَرِزْقاً وَاسِعاً، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً۔‘اللہ تعالیٰ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں سے ہم سب کو مالا مال فرمائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے