‎‎ظہیرآباد، 23 مارچ (مشرقی آواز جدید): تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین نے ایک صحافتی بیان میں بتایا تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (TSRTC) کی "مہا لکشمی اسکیم” کا آغاز 9 دسمبر 2023 کو عزت مآب وزیر اعلیٰ شری انوملا ریونت ریڈی کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ریاست میں خواتین، 6 سے 12 سال کی عمر کی لڑکیوں، اور ٹرانس جینڈر افراد کو TSRTC کی منتخب بسوں میں مفت سفر کی سہولت ہے۔ یہ اسکیم ریاستی حکومت کے خواتین کی خود مختاری کے وژن کا ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد محفوظ اور آرام دہ سفری سہولتوں کو یقینی بنانا ہے۔چوں کہ یہ سہولیت صرف پلے ولگو (Palle Velugu)، ایکسپریس، سٹی آرڈینری، اور سٹی میٹرو بسوں میں لاگو ہے۔ اس بسو ں میں مفت سفر کے لیےمسافروں کو اپنی آدھار کارڈ یا کوئی اور سرکاری شناختی ثبوت دکھانا ہوگا تاکہ رہائشی حیثیت اور اہلیت کی تصدیق ہو سکے۔یہ اسکیم خواتین اور ٹرانس جینڈر افراد کو خود مختار بنانے اور ان کے لیے سفری سہولتوں میں بہتری لانے کے مقصد سے متعارف کرائی گئی ہے۔

اس ضمن میں تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین نے TSRTC کو ایک باضابطہ درخواست ارسال کی ہے، جس میں درج ذیل اہم نکات پر زور دیا گیا ہے۔مسافروں کی مقررہ تعداد کی پابندی،بسوں میں نشستوں کی گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار نہ کیا جائے، تاکہ خواتین کے لیے محفوظ اور آرام دہ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔بسوں کی تعداد میں اضافہ اسکیم کے تحت چلنے والی بسوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور خواتین کو سفری مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ خواتین مسافروں کے لیے mAadhaar ایپ، DigiLocker، یا کسی اور سرکاری تسلیم شدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب آدھار کو قانونی شناختی ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے۔
آدھار ایکٹ 2016 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے مطابق، ڈیجیٹل آدھار کارڈ مکمل طور پر قانونی حیثیت رکھتا ہے اور فزیکل آدھار کارڈ کے مساوی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) اور یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، ڈیجیٹل آدھار کو مختلف سرکاری خدمات کے لیے قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔یہ اقدام خاص طور پر خواتین، معذور افراد، اور بزرگ شہریوں کے لیے آسانی فراہم کرے گا، کیوں کہ اکثر افراد کے لیے فزیکل شناختی کارڈ کا ہمہ وقت ساتھ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل آدھار کو تسلیم کرنے سے نہ صرف مسافروں کے لیے آسانی پیدا ہوگی، بلکہ یہ حکومت ہند کے "ڈیجیٹل انڈیا” مشن کے تحت کاغذی کارروائی سے پاک، جدید سفری نظام کی ترویج میں بھی معاون ثابت ہوگا۔یہ درخواست اس مقصد کے تحت کی گئی ہے کہ خواتین، معذور افراد، اور دیگر مستحق طبقات کے لیے سفر کو مزید آسان، محفوظ، اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ TSRTC سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس مطالبے پر جلد کارروائی کرے گا، تاکہ "مہا لکشمی اسکیم” کے تحت مفت سفری سہولتوں کو مزید موثر اور آسان بنایا جا سکے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے