وصی اللہ مدنی

______________

قبروں کی زیارت اور مُردوں کی مغفرت کے لیے دست دعا دراز کرنا جائز ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جاں نثار صحابہ سے یہ مشروع عمل ثابت ہے۔ اس لیے ہمیں جب بھی موقع ملے، زمان و مکان اور ایام کی تحدید و تخصیص کے بغیر قبروں کے شرعی آداب کا لحاظ کرتے ہوئے زیارت کرنی چاہیے اور فوت شدگان کی مغفرت، بخشش اور ان کی ارتفاع منزلت وبلندی درجات کے لیے خلوص دل سے دعا کرنی چاہیے۔ قبروں کی زیارت سے متعلق ارشادِ نبوی ہے:

"نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا…”(صحيح مسلم)

"میں نے (پہلے) تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا،(اب) تم زیارت کرلیا کرو۔

دوسری روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: «زُورُوا الْقُبُورَ؛ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ» (صحيح/سنن ابن ماجه)

 ’’قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ تمہیں آخرت کی یاد دہانی کراتی ہے۔‘‘

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت مشروع اور اسوہ نبوی ہے۔اس سے دنیا کی بےثباتی کا ادراک،فکر آخرت کا احساس اور ہر ذی روح ومتنفس کو موت کا مزہ چکھنے کا علم یقینی ہوتا ہے۔

لیکن افسوس مسلمانوں کا ایک طبقہ،تقلید پرستی اور ضعاف احادیث پر اعتماد کرتے ہوئے قبروں کو چراغاں کرتے ہیں، قمقموں سے سجاتے ہیں اور عیدین کی دوگانہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد عیدگاہ یا گھر پہنچ کر قبروں کی زیارت کرنے کے لیے نکلتے ہیں اور وہاں پہنچ کر اپنے عقیدے کے مطابق بدعی کام کرتے ہیں۔

نام نہاد مسلمانوں کا یہ عمل شرعاً صحیح نہیں ہے۔ اکابر علمائے کرام اور عرب وعجم کے مفتیان عظام نے زمان و مکان اور مخصوص ایام میں قبروں کی زیارت کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو بدعی ومنکر اعمال میں شمار کیا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہمیں غیر شرعی امور کو انجام دینے سے حتی الامکان دور رہناچاہیے۔ غیر شرعی رسم ورواج اور عادات وتقاليد کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی اور سخت مخالفت کرنی چاہیے۔

افادہ عام کی خاطر، زیر بحث مسئلہ سے متعلق بعض معتبر اہل علم کے آراء واقوال اور فتاؤں کو اس امید کے ساتھ حوالہ قرطاس کیا جارہا ہے، شاید کسی دل میں اتر جائے میری بات

*علامہ محمد ناصر الدین البانی فرماتےہیں:”زندوں کا عید کے دن مردوں کی زیارت کرنا بدعت ہے، کیوں کہ یہ شریعت کی جانب سے مطلق چیز کو مقید کرنا ہے۔شارع حکیم صحیح حدیث میں فرماتے ہیں:

’’كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ أَلَا فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ‘‘(صحيح/سنن أبوداود(3698)، مسندأحمد(23005)، وصححه محققواالمسندوقالواإسناده قوي، مستدرک حاکم(373/1)، المعجم الأوسط(2966)

میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا،پس اب ان کی زیارت کیا کرو، کیوں کہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: ’’فَزُورُوهَا‘‘عام ہے۔ اسے کسی خاص زمان ومکان سے مقید کرنا جائز نہیں، کیوں کہ نص کو مقید یا مطلق کرنا لوگوں کا وظیفہ نہیں، بلکہ یہ تو رب العالمین کا وظیفہ ہے۔ جس کا مکلف اس نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنایا ہے، چناں چہ فرمایا:

﴿وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ﴾

(یہ ذکر ہم نے تمہاری طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دو) [النحل:144]

اگر کوئی مطلق نص مقید ہو تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتادیا اور اگر کوئی عام نص مخصص ہو تو وہ بھی بتادیااور جس کا نہیں بتایا تو نہیں۔اس لیے جب یہ کہا کہ: ’’أَلَا فَزُورُوهَا‘‘ (تو ان کی زیارت کیا کرو) یعنی مطلق ہے پورے سال میں۔اس دن اور کسی اور دن میں کوئی فرق نہیں۔اور نہ ہی کسی وقت سے مقید ہے کہ صبح ہو یا شام، ظہر ہو، دن ورات وغیرہ۔…. ” بتصرف یسیر

*شیخ الحدیث علامہ عبیداللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "عیدین کی دوگانہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد عیدگاہ سے واپسی میں قبرستان جانااور اپنے مُردوں کے لیے دعا کرنا یا گھر واپس آکر قبرستان جانا اور دعا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی بھی صحابی سے منقول ومروی نہیں ہے۔نہ بسند معتبراور نہ بسند غیر معتبر،اس کا موجودہ رواج بالکل بے اصل ہے۔ اس لیے اس کے بدعت شرعی ہونے میں شبہ نہیں ہے۔”

 استاد محترم علامہ عبدالمحسن بن حمد العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں :

"جہاں تک عید کے دن یا پھر جمعہ کے دن قبروں کی زیارت کی بات ہے یا کسی بھی دن کے ساتھ مخصوص کرکے تو یہ جائز نہيں۔جب کہ عید کے دن رشتہ داروں کی زیارت یاان کے پاس جانا ۔۔۔یعنی ان کے لیے دعاء کرنا تو ان باتوں میں کوئی حرج نہیں، لیکن قبرستانوں کو عید کے یا جمعہ کے دن یا کسی بھی مخصوص ومعین دن زیارت کے لیے خاص کرنا تو کسی انسان کو ایسا نہيں کرنا چاہیے۔”

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سنت نبوی کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ مؤمن کو جب بھی فرصت ملے تو قبرستان کی زیارت اور فوت شدگان کے خیر وبھلائی کے لیے پرخلوص دعائیں کرنی چاہیے۔رہی بات عیدین کی نمازسے پہلےیا بعد میں یا جمعہ کے دن صرف قبرستان کی زیارت کی مسنونیت یامُردے کی تخفیف عذاب کا اعتقاد رکھنے کے زعم خیال کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔

هذا ماعندي والله أعلم بالصواب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے