وصی اللہ مدنی 

——————-

اسلام میں مسلمانوں کے لیے صرف دو عیدیں ہیں:

(1) عید الفطر (2) عیدالاضحی

 یہ دونوں عیدین اللہ کے شعار اور علامتوں میں سے ہیں، جن کا احیاء کرنا اور ان کے مقاصد کا ادراک ضروری ہے۔

صحیح قول کے مطابق عیدین کی نماز سنت مؤکدہ ہے ویسے علامہ ابن تیمیہ وغیرہ نے اسے فرض عین قرار دیا ہے۔ (الإختيارات الفقهية)

درج ذیل سطور میں انتہائی اختصار کے ساتھ عیدین کے احکام و مسائل اور آداب کے علاوہ بعض بدعی و منکر اعمال ذکر کیے جارہے ہیں، جن کا لحاظ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے۔

(1) شوال کا چاند دیکھتے ہی عید رات اور یوم عید کی صبح کو تکبیرات کے بار بار پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

(2) عید الفطر میں تکبیر کا وقت عید رات شروع ہوکر نماز سے فارغ ہونے تک باقی رہتا ہے۔

(3) عیدالاضحی میں تکبیر یکم ذی الحجہ سے شروع ہوکر آخر ایام تشریق کا سورج غروب ہونے تک رہتا ہے۔

(4) تکبیر کے کلمات یہ ہیں:

* "الله أكبر،الله أكبر، لاإله إلا الله والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد۔” (مصنف إبن أبى شيبة)

* "الله أكبر كبيرا والحمدلله كثيرا، سبحان الله بكرة وأصيلا۔” (مسندالشافعى)

(5) اہلِ علم کے اقوال میں سے راجح قول یہ ہے کہ نمازِ عیدین ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ہے۔

(6) غسل کرنا۔ (مؤطاإمام مالک )

(7) عمدہ لباس زیب تن کرنا۔ (صحیح بخاری)

(8) خوشبو استعمال کرنا۔

(9) عیدالفطر کے دن گھر سے روانگی سے قبل طاق عدد میں کھجوریں کھانا مسنون ہے۔ (صحیح بخاری: 953)

(10) عید الاضحی کے دن نماز کے بعد کھانا۔

 (سنن ترمذی)

(11) عید گاہ کو پیدل ہی جانا اور وہاں سے پیدل واپس آنا مسنون ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 1295129)

(12) عید گاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے سے واپس آنا۔ (صحیح بخاری)

(13) مرد حضرات کا عیدگاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر کہنا۔ (سلسلة الأحاديث الصحيحة )

(14) عورتوں کا خاموشی کے ساتھ تکبیر کہنا جائز ہے۔ (بخاری تعلیقاً)

(15) تمام عورتوں کو مکمل حجاب کے ساتھ عید گاہ لے جانا۔ (متفق علیہ)

(16)عورتوں اور بچوں کو عید گاہ لے جانا چاہیے۔ (صحیح بخاری)

(17) عدت گزارنے والی عورتوں کو بھی عید گاہ لے جانا جائز ہے۔

(18) نمازِ عیدین کے لیے اذان ہے اور نہ ہی اقامت۔ ( صحیح مسلم: 887)

(19) عیدین کی نماز عیدگاہ اور کسی شرعی عذر کی بنا پر مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے۔

(متفق علیہ)

(20) اگر نمازِ عید مسجد میں ادا کی جائے تو تحيةالمسجد پڑھنا جائز ہے۔ (متفق علیه)

(21) عیدگاہ میں بھی سترے کا اہتمام ضروری ہے۔ (صحیح بخاری)

(22) عیدین کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد کوئی سنت یا نفل نماز نہیں ہے۔ (متفق عليه)

(23) اگر عید جمعہ کے دن پڑجائے تو امام کے علاوہ دوسرے لوگوں کو جمعہ اور ظہر کی نماز میں اختیار ہے چاہیں تو جمعہ کی نماز پڑھیں یا ظہر پڑھیں۔ (سنن ابن ماجہ، سنن أبوداود)

(24) عیدین کے موقع پر شرعی حدود میں رہ کر مسلمانوں کو اپنی مسرت وشادمانی کا اظہار کرنا اور مباح کھیل کود جائز ہے۔ (متفق عليه)

(25) تکبیر تحریمہ کے سوا باقی تکبیرات زوائد میں رفع الیدین کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔ البتہ ابن عمر تکبیرات زوائد کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔ (زادالمعاد: 441/1)

(26) سورج نکلنے کے بعد جب ایک نیزہ بلند ہوجائے تو عیدین کی نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے جو زوال تک باقی رہتا ہے، عیدالفطر کی نماز میں کچھ تاخیر اور عید الاضحی کی نماز میں جلدی کرنا مسنون وافضل ہے۔ (سنن أبوداود، سنن ابن ماجہ)

 (27) نماز عیدین پڑھنے کا طریقہ:

عیدین کی نماز دو رکعت مشروع ہے۔ جو عام جہری نمازوں کی طرح ادا کی جاتی ہے۔

  پہلی رکعت

      تکبیر تحریمہ (الله أكبر) کہہ کر سینے پر ہاتھ باندھ لیں، اس کے بعد آہستہ دعائے ثناء پڑھیں، پھر معمولی معمولی وقفہ سے بلند آواز سے سات زائد تکبیریں(الله أكبر) کہیں، جہری سورہ فاتحہ اور اس کے بعد سورہ *ق* یا سورہ *أعلى* یا دوسری سورت جو یاد ہو اس کی تلاوت کریں پھر رکوع و سجدہ کریں۔

  دوسری رکعت

تکبیر (الله أكبر) کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں، پھر معمولی معمولی وقفہ سے بلند آواز سے پانچ زائد تکبیریں (الله أكبر) کہیں، پھر جہراً سورۂ فاتحہ کی قرآت کے بعد سورہ *قمر* یا سورہ *غاشیہ* یا کسی دوسری سورت کی تلاوت کریں، پھر رکوع، سجدہ کرنے کے بعد تشہد میں بیٹھیں، التحيات، درود ابراہیمی اور ماثور دعائیں پڑھنے کے بعد دونوں طرف سلام پھیردیں، اس کے بعد امام حالات وظروف کی رعایت کرتے ہوئے مختصر اور مؤثر خطبہ دے۔ (سنن أبوداود، سنن ترمذی)

(28) عید کا ایک ہی خطبہ ہے۔

(29) عید کے خطبہ کے لیے عیدگاہ میں منبر لے جانے کا ثبوت حدیثوں نہیں ہے۔

(30) عیدین کا خطبہ سننا مسنون ومستحب ہے۔

(31) خطبہ عیدین میں عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ وعظ و نصحیت کرنا چاہیے۔

(32) صحابۂ کرام عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور "تقبل الله منا ومنکم” کہتے تھے۔ (فتح البارى)

(33) اگر کچھ لوگوں کی نمازِ عید فوت ہو جائے تو یہ لوگ باجماعت دو ہی رکعت ادا کرلیں اور اگر تنہا کسی ایک شخص کی نماز عید چھوٹی ہےتو وہ تنہا دو رکعت پڑھ لے۔ (صحیح بخاری)

(34) نمازِ عیدین سے پہلے یا بعد میں زندوں کا قبرستان کی زیارت کرنا اور غیر شرعی اعمال کو انجام دینا بدعت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے