سدھارتھ نگر: ۳۱ مارچ بروز پیر انتری بازار کے وسیع عید گاہ میں تمام مسلمان مرد و خواتین نے عید الفطر کی نماز ادا فرمائی، امام وخطیب مولانا سعود اختر سلفی نے عید کے پر مسرت موقع پر لوگوں کو عید کی مبارک باد پیش کی اور اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ عید ہمیں صرف روحانی تجدید کا موقع فراہم نہیں کرتی، بلکہ باہمی محبت، اخوت اور بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط کرنے کا بھی درس دیتی ہے۔ اس لیے عیدالفطر کے اس مبارک موقع پر صرف ذاتی خوشیوں کے حصول تک محدود نہ رہیں، بلکہ غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ اس لیے کہ ہمارا دین الفت و محبت اور باہمی ہمدردی کا درس دیتا ہے اور جن سے بھی ہمارے اختلافات ہیں اسے ختم کرکے ایک دوسرے کو گلے لگا لیں۔ ہم نے رمضان المبارک میں صبر، تحمل اور ایثار کی جو تربیت اور ٹریننگ حاصل کی ہے، اسے رمضان المبارک گزر جانے کے بعد بھی عملی جامہ پہنائیں اور اپنے اندر ایثار، صبر اور تحمل کا جذبہ پیدا کریں۔ بزرگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ بزرگ ہیں، قابل احترام ہیں، آپ عبادتوں میں پیش پیش رہیں، آپ کو دیکھ کر آپ کی اولاد بھی اسی نقش قدم پر ان شاء اللہ چلے گی۔ ساتھ میں نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا آپ قوم کے معمار ہیں، آپ کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، لہٰذا آپ اپنے کو منشیات سے دور رکھیں، کیوں کہ مسلم نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ منشیات جیسے مہلک بیماری کا شکار ہے، لہذا آپ اس سے توبہ کریں اور اپنے عاقبت کی فکر کریں۔
اور خواتین اور بچیوں سے کہا میری ماؤں اور پیاری بہنو! اپنے عقیدے کی اصلاح کرو، گھروں کو قرار پکڑو، بلا شرعی ضرورت ادھر ادھر بازاروں کی زینت نہ بنو، کوئی بھی مسئلہ یوٹیوب سے نہ اخذ کرو، کیوں کہ وہاں دین کے نام پر لوگوں کی اپنی دوکانیں چل رہی ہیں اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اپنے علماء سے رجوع کریں یا یوٹیوب پر مستند علماء کے بینات سے مستفید ہوں۔ اور اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کریں، کیوں کہ عورت کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی عزت ہے، لیکن افسوس آج بہت ساری مسلم لڑکیاں اپنے دین سے منحرف ہو کر غیر ادیان میں داخل ہورہی ہیں۔ لہذا آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اچھی ماؤں سے ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
آخیر میں انھوں نے دعا کی کہ اے اللہ! ہماری عبادتوں کو قبول فرمالے اور ہمیں ویسے ہی رکھ جیسے رمضان المبارک کے مہینے میں ہم رہا کرتے تھے، ہمیں نمازوں کے اہتمام کی توفیق دے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے دعائیں کی بالخصوص ان لوگوں کے لیے جو مجبور ہیں، مظلوم ہیں، ساتھ ہی کہا اللہ حرمین شریفین کی حفاظت فرما اور کہا ہمارے ملک ہندوستان کی حفاظت فرما اور جو بھی ہمارے ملک کو توڑنا چاہتے ہیں الله انھیں نیست و نابود کر دے۔ ہمیں امن کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق دے، ہمارے ایمان و اسلام کی حفاظت فرما۔ آمین!

