ڈاکٹر جاں نثار معین

یہ زمیں وقف کی، یہ در و دیوار وقف
یہ جو مکتب تھے، تھے سب علم کے آثار وقف
یہ جو مسجد کے منارے تھے، صدا کے راز دار
یہ جو درگاہ کے در تھے، سخاوت کے نثار
یہ جو شفاخانے تھے، راحت کا پیام
یہ جو خیرات کے مراکز تھے، عطا کا اہتمام
مگر اے دیدہ ورو! دیکھ کیا ہو بیٹھا
یہ جو تاریخ کا سرمایہ تھا، کھو بیٹھا
یہ جو قاضی کے قلم سے ہوئی تھی رقم
یہ جو شاہوں نے سنوارے تھے عدل کے قدم
کہیں بیوپار کے ہاتھوں میں زمیں بکنے لگی
کہیں سرکار کے احکام میں توقیر تھمی
یہ وہی وقف کی دولت تھی، جو سلطانوں نے دی
یہ وہی خیر کی میراث تھی، احسانوں نے دی
یہ وہی میر کا مکتب تھا، جہاں روشن تھا علم
یہ وہی خواجہ کی درگاہ تھی، سجدوں کی بہار
یہ وہی نوح کا در تھا، جہاں بیکس کو پناہ
یہ وہی مسجد اکبر تھی، عبادت کی نگاہ
کہیں حسرت کی صدا ہے، کہیں خاموش مکان
کہیں اجڑے ہوئے کتبے، کہیں بوسیدہ نشان
یہ جو حیدر کی زمیں تھی، وہ چراگاہ بنی
یہ جو دہلی کی عمارت تھی، وہ افسانہ بنی
کہیں نوابوں کی زمیں پر ہیں بازاروں کے ہجوم
کہیں مدرسے کے در و بام پہ ویرانی کا ہجوم
کہیں سرکار کے فرمان نے زنجیر چڑھائی
کہیں قانون کے پہروں نے حقیقت مٹائی
یہ جو مسجد کے وضو خانے پہ تالے پڑے
یہ جو درگاہ کی چوکھٹ پہ اندھیرے بڑھے
یہ جو نذرانے کی خوشبو تھی، وہ مٹی میں رچی
یہ جو بخشش کی عبادت تھی، وہ تحریر میں دبی
اے مسلماں! یہ تری عظمت کا آئینہ تھا
تیرے اجداد کی میراث کا زینہ تھا
اس کو برباد نہ کر، پھر سے سنوارا جائے
اس کے اجڑے ہوئے گلشن کو نکھارا جائے
یہ جو دستار ہے، یہ خاک میں گر سکتی ہے
یہ جو ملت ہے، بکھر کر بھی بکھر سکتی ہے
آ کہ ہم پھر سے وہ بنیاد اٹھا سکتے ہیں
آ کہ ہم وقف کی عظمت کو جِلا سکتے ہیں
یہ جو مسجد کے در و بام پہ زخموں کی لکیر
یہ جو مکتب کے دریچوں میں ہے ساکت تنویر
یہ جو بیمار کا بستر ہے، دوا چاہتا ہے
یہ جو یتیموں کی صدا ہے، صدا چاہتا ہے
ہم اگر جاگ گئے، وقت پلٹ جائے گا
ہم اگر ایک ہوئے، دن بدل جائے گا
یہ جو باقی ہے، یہ احسان کی پہچان رہے
یہ جو قائم ہے، یہ اسلام کی شان رہے
زمین وقف کی، ہے نشانِ وفا
یہی ہے عبادت، یہی ہے دعا
مساجد، مدارس، درگاہوں کا نور
چراغانِ الفت، عطا کا سرور
اتر پردیش میں ہیں لاکھوں نشاں
جہاں حق کی رحمت کرے ہے بیاں
بنگال و کرناٹک بھی شاہد ہیں آج
کہ وقفِ مقدس ہے عزت کا تاج
درِ خواجہ معین الدین کی ہے بہار
کہیں تاج مساجد، کہیں ہے مزار
حضرت نظام الدین اولیاء کی رہیں
محبت کے نغمے، عطا کی گھڑیں
مکہ کی مسجد، وہ تاریخ ساز
جہاں بندگی کا ہے اعلیٰ مجاز
حیدر کی سرزمیں، وقفوں کی پہچان
جہاں دین و دنیا کی ہوتی ہے جان
بھوپال کے نوابوں کی بخشش کا رنگ
شیر شاہ کی مسجد میں ہے بانکپن
گلبرگہ کی مٹی میں برکت کے پھول
بندہ نواز کی دعا کے ہیں اصول
ناگپور میں تاج الدین بابا کا نور
جہاں ذکرِ رحمت ہے ہر جا ضرور
مدارس کی عظمت، یہ دیوبند کا فیض
ہے مظاہر العلوم کی رفعت کا راز
مبارک پور کا اشرفیہ درسگاہ
کہاں عظمتوں کا یہ روشن چراغ
اعظم گڑھ کی دانش گہہ ہے کمال
بنارس کی علمی ہے شان بے مثال
خانقاہیں بھی ہیں وقف کی جان
جہاں عشقِ حق کا ہے ہر جا بیان
رحمتِ عالم ہو یا نظامیہ در
یہاں قلبِ مسلم میں ہوتا اثر
مکاتیبِ دین کی یہ روشن قطار
مکتبہ دارالسلام کی ہے بہار
لکھنؤ کا فیض عام ہے جاوداں
جہاں علم کا ہے معطر سماں
شفا خانہ بھی ہیں اس وقف کی دین
اجمل کا طبیہ، ہے حکمت کا زین
دارالشفاء میں ہے یونانی چراغ
یہ وقفِ صداقت، یہ عظمت کا باغ
تغلق کے دوراں میں جو مستحکم تھا
وہ وقفوں کی برکت کا محکم صدا
یتیموں کے مسکن، مسافر کے گھر
یہ وقفِ مقدس کی برکت کا در
ہے لازم کہ ہم اس امانت کو جانیں
یہی ہے جو ملت کے غم کو سہانے
یہ وقفِ مقدس رہے جاوداں
یہی ہے عبادت، یہی ہے اذاں!
جاں نثار آج قلم تیرا گواہی دے دے
یہ جو ماضی تھا ہمارا، اسے راہی دے دے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے