
راج شیکھرپاٹل اشٹور
9448128346
قاضی ارشدعلی، ضلع بیدر کے ایک چھوٹے سے قصبے بھالکی میں قاضیوں کے گھرانے میں پیدا ہوئے، ساری تعلیم بھالکی میں حاصل کی، انھوں نے سائنس سے گریجویشن کیاتھا۔ اپنے کالج کے زمانے سے ہی اردو شاعری، صحافت اور عمومی طور پر سماجی زندگی میں دلچسپی رکھتے تھے، صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز اس وقت کے بیدر کے مشہورہندی روزنامہ ”دمن” کے رپورٹر کے طور پر کیا جس کے مدیر آنجہانی وشواناتھ پاٹل ہکیال تھے۔ اردو شاعری کے ان کے شوق نے انھیں بائیں بازو کے نظریے سے متاثر کیا ہو گا جسے اسٹیبلشمنٹ مخالف کہا جا سکتا ہے۔
ایمرجنسی کا دور1975 کے بعد کرناٹک میں پہلی غیر کانگریسی حکومت 1983 میں( جنتا پارٹی) برسراقتدار آئی، ضلع بیدر کے بہت سے نوجوان لیڈروں جیسے آنجہانی بی نارائن راؤ، آنجہانی کلیان راؤ مولکیری، گندھروا سینا، بشیر الدین ہالہیپرگہ اور دیگر کا ظہور ہوا، جو اس وقت ہمارے ضلع کی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔اس وقت تک ہمارے ضلع پر کانگریس پارٹی کاقبضہ تھا۔
تب قاضی ارشد علی بھالکی سے بیدر منتقل ہوئے اور صحافت میں ایک مکمل کیریئر کا آغاز کرنے کے لیے ہندی روزنامہ ”بیدر کی آواز” کے نام سے شروع کیا جو آج تک ہمارے ضلع کا مشہور اخبار ہے، یہ وہ دور تھا جب وہ جنتا پارٹی کے رکن بنے جو بعد میں جنتا دل بن گئی، انہوں نے اس تحریک کی حمایت اپنی موثر تحریر کے ذریعہ کی۔ بعدازاں وہ پارٹی کے حوالے سے ضلع کاجانا پہچانا نام بن گئے ۔پھر وہ آنجہانی ویجناتھ پاٹل چنچولی سابق وزیر سمیت (انہیں جنتا دل کا ٹکٹ دیا تھا) کئی ریاستی رہنماؤں کے رابطے میں آئے جنہوں نے ایک بار تعلقہ چنچولی سے اسمبلی الیکشن لڑنے کے لیے نامزد کیا تھا جسے قاضی صاحب نے مسترد کر دیا، قاضی صاحب آنجہانی وزیر اعظم وی پی سنگھ کے بڑے حامی اور ہمدرد تھے، انہوں نے منڈل کمیشن کی رپورٹ لکھ کر اپنے قارئین کو متاثر کیا۔
کرناٹک میں جنتا دل حکومت کی واپسی:۔ سال 1994-95 میں جنتا دل حکومت کرناٹک میں اقتدار میں آئی۔ پہلے دیوے گوڈاوزیر اعلیٰ بنے لیکن جب وہ وزیر اعظم نامزد ہوئے تو جے ایچ پٹیل برسراقتدار آئے۔اِدھر ضلع بیدر کی سیاست میں جھگڑا شروع ہوا، قاضی ارشد علی بی ڈی اے چیئرمین بننا چاہتے تھے، معاملات ان کے خلاف ہو گئے، پھر ضلع انچارج وزیر بسواراج پاٹل اٹورکی سفارش پر حفیظ چندا مرحوم کو بی ڈی اے چیئرمین نامزد کردیا گیا۔ قاضی ارشد علی نے جنتا دل کی قیادت کے ساتھ غلط طریقے سے کندھے ملایاتھا، نتیجتاً انھوں نے جنتا دل چھوڑ دی اور 1999 کے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کے عام انتخابات کے موقع پر کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پہلی بار بسواکلیان میں اٹور کی شکست کا سبب بن گئے جنہوں نے 1983 سے 1999 تک مسلسل چار مرتبہ اس حلقے کی نمائندگی کی تھی۔
سال 1999 سے کانگریس پارٹی میں نئی شروعات:۔ کانگریس پارٹی کرناٹک میں ایس ایم کرشنا کی قیادت میں1999ء کو برسراقتدار آئی لیکن ہمارے ضلع بیدر کی تمام چھ اسمبلی نشستیں اور واحد پارلیمانی نشست اپوزیشن کے پاس چلی گئیں۔ اس طرح پہلی بار بیدر ضلع سے کانگریس پارٹی کا مکمل صفایا ہوگیا۔
ضلع کانگریس کے سربراہ کو ہٹانے کی تحریک:۔ آنجہانی بسواراج پاٹل ہمنا آباد سابق وزیر ضلع کانگریس کے صدر تھے، ان کی برطرفی کے لیے تحریک شروع ہوئی۔ قاضی ارشد علی اس تحریک کے Chief architectتھے جنہوں نے ضلع کانگریس کا صدر بننے میں بسوراج بڑلا کا ساتھ دیا۔ طویل جدوجہد کے لئے دھرنا، کانگریس دفتر کے سامنے احتجاج وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوا، کہا جاتا ہے کہ اس تحریک کو آنجہانی دھرم سنگھ جو PWD کے وزیرتھے، کا آشیرواد حاصل تھا۔
2004 کے عام انتخابات:۔ ایک بار پھر 1999 کی طرح 2004 میں بھی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کے بیک وقت انتخابات ہوئے، جس سے ہمارے ضلع میں کانگریس پارٹی کی 1999 کے عام انتخابات کی کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم صرف واحد تسلی کانگریس کے ٹکٹ پر اوراد اسمبلی سیٹ سے گرپادپا ناگمارپلی کی جیت تھی۔
2004 ء کانگریس پارٹی کے لیے کڑا وقت:۔ سال 2004ء کو مرکز میں این ڈی اے حکومت شکست فاش سے دوچار ہوئی، اوریو پی اے حکومت برسراقتدار آئی۔ کانگریس مین ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے ۔یہاں کرناٹک میں کانگریس پارٹی کی کولیشن حکومت دھرم سنگھ کی قیادت میں جونیئر پارٹنر جنتادل کے ساتھ بنی۔یہ سال ریاستی کانگریس پارٹی کے لئے کڑاوقت تھا۔
ارشد علی کا سنہرا دور:۔ بی جے پی کے رامچندر ویرپا بیدر سے لگاتار پانچویں بار ایم پی بننے کے بعد بمشکل چھ ماہ گزرے ہوں گے کہ رامچندر ویرپا نے 90 سال کی عمر میں آخری سانس لی، جس کی وجہ سے بیدر پارلیمانی حلقہ میں ضمنی انتخاب منعقد کرناپڑا۔ قاضی ارشد علی نے ضمنی پارلیمانی انتخابات میں نرسنگ راؤ سوریہ ونشی کو کانگریس کا ٹکٹ دلانے میں اہم کردار ادا کیا، باوجود اس کے کہ رامچندر ویرپا کے ہاتھوں نرسنگ راؤ سوریہ ونشی پہلے شکست کھاچکے تھے۔قاضی صاحب نے چیف منسٹر دھرم سنگھ کو اس بات کے لئے راضی کرلیاکہ سوریہ ونشی ایک غیر متنازعہ شخص ہیں ۔ ٹکٹ ملا اور ان کی جیت کو معمولی فرق سے یقینی بنایا۔اس ضمنی پارلیمانی انتخابات کے فوراً بعد، بی ایس یدیورپا اور ایم پی پرکاش کے ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہونے کے بعد کونسل کے لیے استعفیٰ دینے سے ریاستی قانون ساز کونسل کی 2نشستوں کے لیے انتخابات کی ضرورت پڑ گئی، کانگریس-جنتادل کولیشن حکومت نے دو نشستوں پر ارشد علی (کانگریس کے نامزد امیدوار)اور وٹھل ہیرور(جنتادل کے نامزد امیدوار) کی شکل میں دو نشستیںقانون ساز کونسل میں بلامقابلہ حاصل کیں جس کی مدت کار 2006 میں ختم ہوئی۔
دھرم سنگھ 2004 اور 2006 میں اقتدار کی ڈرائیونگ سیٹ پر:۔ آنجہانی چیف منسٹر دھرم سنگھ جنہوں نے قاضی ارشد علی کو 2004 میں ایم ایل سی بننے میں مدد کی تھی ۔ جب 2006 میںوہ اپوزیشن لیڈر تھے تو ارشد علی کو 2012 تک چھ سال کی مدت کے لیے دوبارہ ایم ایل سی نامزد کیا ۔
کھٹے میٹھے تعلقات:۔ قاضی ارشد علی کے کانگریس پارٹی میں بہت سے لوگوں کے ساتھ کھٹے میٹھے تعلقات تھے جن میں دھرم سنگھ، بسواراج پاٹل ہمنا آباد، گروپادپا ناگمارپلی اور دیگر شامل ہیں۔ قاضی صاحب نے 2008 میں بیدر اسمبلی سیٹ جو کہ اقلیتی سیٹ سمجھی جاتی ہے، سے آنجہانی ناگمارپلی کی امیدواری کی مخالفت کی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ بیدر سے کانگریس کا ٹکٹ حاصل کرنے میں ناگمارپلی کو دھرم سنگھ کاآشیرواد حاصل تھا۔ ارشد علی نے بار بار کونسل میں ڈی سی سی بینک اور نارنجہ شوگر فیکٹری کا معاملہ اٹھایا ، جس کو سلجھانے کیلئے دونوں کی موت کے سبب کوئی مہلت نہیںملی ۔یہ ایشو آج بھی زندہ ہے۔قاضی صاحب نے آنجہانی بسواراج پاٹل ہمنا آباد کے مقامی اداروں سے تیسری بار قانون ساز کونسل کے لیے امیدوار بنائے جانے کی مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے مسٹر ہمنا آباد نے 2010 میں مسلسل تیسری بار کونسل کے لیے منتخب ہونے کے لیے کانگریس پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور وہ بی جے پی سے کامیاب ہوئے۔
2012 میں کونسل کی مدت کا اختتام:۔ قاضی ارشد علی 2012 میں ایم ایل سی کے طور پر ریٹائر ہوئے تاہم انہوں نے آنجہانی دھرم سنگھ کی آشیر باد حاصل کی جو 2014 تک بیدر سے ایم پی رہے۔ ارشد علی کو 2013 کے انتخابات کے دوران ڈسٹرکٹ کانگریس کا عبوری صدر بنایاگیا۔ اس کے بعد ایشور کھنڈرے کو فوری طور پر ہٹا کرقاضی صاحب کو ضلع صدر نامزد کردیاگیا۔ دھرم سنگھ نے کانگریس حکومت کے دوران 2015ء میں قاضی صاحب کی بی ڈی اے چیرمین بننے کی خواہش بھی پوری کردی ۔
ماضی اور حال:۔ ماضی اور حال میں ضلع سطح پر ابھرنے والے ہر لیڈر کو اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی سربراہی کی خواہش ہوتی ہے، کیا یہ رئیل اسٹیٹ میں پیسے کی وجہ سے ہے یا کسی اور وجہ سے؟
قاضی صاحب سے میرا رشتہ:۔ ہم دونوں کارشتہ بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کی طرح، استاد اور طالب علم کی طرح یا ایک دوسرے کے حامی کی طرح تھا۔ ہم بہت سے معاملات پر اختلاف کرتے تھے لیکن ایک دوسرے کے لئے بہت زیادہ احترام بھی اپنے دل میں رکھتے تھے،قاضی ارشد علی کو اپنے بعد بسواراج جابشٹی کے ضلع کانگریس صدر بننے پرتکلیف تھی ، کیوں کہ ان کا کانگریس پارٹی کے نظریہ کا کوئی پس منظر نہیں تھا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ گزشتہ 8 سال سے اس عہدے پر ہیں۔ زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے پارٹی نے انہیں(بسواراج جابشٹی کو) گزشتہ سال بی ڈی اے کا چیئرمین بھی بنا دیاہے۔ جنہوں نے کانگریس صدر آنجہانی چندرکانت سندول(جن سنگھ ایم ایل اے) کا ریکارڈ توڑا ہے۔جو ضلع میں طویل عرصے تک پارٹی کی سربراہی کرتے رہے لیکن کانگریس کا نظریاتی پس منظر نہیں رکھتے تھے۔
تاریخ:۔ یہ تاریخ ہے کہ ضلع کانگریس کے سابق صدور آنجہانی مانک راؤ پھولیکر جو ایم ایل سی اور ایم ایل اے تھے، آنجہانی بسوراج پاٹل ہمنا آباد سابق وزیر جو چار دفعہ ایم ایل اے، تین بار ایم ایل سی رہے، بسواراج بُڑلا (اعلیٰ سیاسی روابط رکھنے والے) اور ایشور کھنڈرے موجودہ ضلع انچارج وزیر سبھی کو ان کی میعاد کے تین سال سے بھی کم عرصے میں غیر رسمی طور پرضلع کانگریس کی صدارت سے ہٹا دیا گیا تھا۔
آخرمیں :۔ چونکہ قاضی ارشد علی پچھلے 2-3 سال سے زیادہ تر گھرپررہتے تھے، میں ان سے وقتاً فوقتاً ملنے جایاکرتا تھا، ہم ماضی کے واقعات وغیرہ پر گفتگو کرتے تھے، انہوں نے (ایک دن ) مجھ سے میرے کانگریس پارٹی چھوڑنے اور بعد میںبی جے پی میں شامل ہونے کے بارے میں سوال کیا، تومیں نے بشیر بدر کا یہ شعر پڑھ کر انہیں جواب دیا ؎
میں نے دریا سے سیکھی ہے پانی کی یہ پردہ داری
اوپر اوپر ہنستے رہنا ، گہرائی میں رولینا

