سہکاریا بھون میں تقریب، چار سو نمائندوںنے کی شرکت، اپنی پیتھی کے مطابق پریکٹس کرنے پر دیا گیا زور
لکھنؤ (پریس ریلیز): ’’گورنمنٹ آف انڈیا نے الیکٹروہومیو پیتھک پر جی او پاس کر رکھا ہے اور تمام ریاستوں کو الیکٹرو ہومیو پیتھی پر قانون سازی کرنے کی ہدایت بھی دے رکھی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے ہندوستان سے ای ایچ ڈاکٹر اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جد و جہد کو جاری رکھیں۔یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ جب تک قانون سازی نہیں ہوتی ہے تب تک اس کی پریکٹس، ٹریننگ اور ایجوکیشن کو پورے ہندوستان میں کہیں روکا نہیں جاسکتا۔‘ ‘ان خیالات کا اظہار یہاں سہکاریتا بھون میں بورڈ آف الیکٹرو ہومیوپیتھک میڈیسن اترپردیش کے جشن زریں کے موقع پر منعقد پروگرام میں مقررین نے کیا۔ پروگرام کا آغاز دیپ جلاکر اور راشٹر گان سے ہوا۔ نظامت ڈاکٹر پی آردھروسیا نے کی۔ پورے ہندوستان سے الیکٹرو ہومیو پتھی سے وابستہ تقریباً 4 سو نمائندوں نے پروگرام میں شرکت کی جنھیں سرٹیفکیٹ دیئے گئے اور کچھ اہم شخصیات کو شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔ تقریب میں ایک یادگاری مجلہ کا اجرا بھی کیا گیا۔ اس موقع پر پہلگام کے شہیدوں کو دو منٹ خاش رہ کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
بورڈ آف الیکٹرو ہومیو پیتھک میڈیسن اترپردیش کے چیئرمین ڈاکٹر ہاشم ادریسی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ اس پروگرام کا مقصد آپ کو ایک تحریک اور ترغیب دینا ہے تاکہ آپ زندگی کے سفر میں کامیابی سے گامزن ہوسکیں۔ انھوں نے کہا کہ آج بورڈ کا پچاس سالہ جشن ہے جس میں آپ کے سامنے بورڈ کی پچاس سالہ حصولیابیوں کو رکھاجا رہا ہے۔ آپ یہاں سے ایک مقصد لے کر جائیں اور صحت کے شعبے میں پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے پیتھی کو فروغ دیتے ہوئے خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر نریندر کمار نگم نے الیکٹرو ہومیوپیتھی بورڈ کی تشکیل کے پچاس سالہ سفر پہلے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ الیکٹروپیتھی کے فروغ کے لئے ڈاکٹر ہاشم ادریسی کی قیادت میں تشکیل بورڈ آف الیکٹرو ہومیو پیتھی میڈیسن اترپردیش نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے۔ ا نھوں نے بتایا کہ بورڈ کی تشکیل کیسے ہوئی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح ہومیوپیتھی اور الیکٹرو ہومیوپیتھی دو الگ الگ طریقہ علاج ہیں۔انھوں نے بتایا کہ الیکٹرو ہومیوپیتھی اپنے جد و جہد کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس پیتھی کے فروغ و ترقی کے لئے کام کرنے والوںنے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا اور بتدریج کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس پیتھی کے ڈاکٹروں کو پریکٹس پر کوئی پابندی نہیں ے۔مزید سہولیات کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ بورڈ کے تحت متعدد کورسیز چلائے جا رہے ہیں۔
آیوش طریقہ علاج کے فروغ کے لئے مسلسل کوشاں رہنے والے سماجی کارکن محمد خالد ے کہا کہ کسی بھی ادارہ کی پچاسویں سالگرہ منانا فخر کی بات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بورڈ آف الیکٹرو ہومیو پیتھی سماج سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ الیکٹرو ہومیوپیتھی کی بڑی اہمیت ہے لیکن وقت رکتا، نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، اُن پیتھیوں کو بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جو اپنی پیتھی چھوڑ کر ایلو پیتھی میں پریکٹس کرتے تھے۔ اس لئے آپ اپنی پیتھی کے مطابق پریکٹس کیجئے اوراپنی تعلیمی قابلیت معیار کے مطابق بڑھائیے۔
ڈاکٹر آر کے شرما نے کہا کہ 2004 سے پہلے صورت حال یہ تھی کہ جگہ جگہ الیکٹرو ہومیوپیتھی کی ڈگریاں ریوڑی کی طرح تقسیم کی جا رہی تھیں جس کا بہت منفی اثر ہوا اور 2004 میں اخبارات میں خبر چھپی کہ الیکٹرو ہومیوپیتھی کی منظوری ختم کردی گئی ہے۔ اس خبر کے شائع ہوتے ہی اس پیتھی سے جڑے لوگوں میں مایوسی چھاگئی لیکن بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ہاشم ادریسی کی دور اندیشی اور مسلسل کوشش سے 4 جنوری 2012ء سے بورڈ کو کامیابی ملنی شروع ہوئی۔ عدالت نے ایک سمیتی تشکیلِ دے کر اس کی رپورٹ کی بنیاد پر بورڈ آف الیکٹرو ہومیو پیتھی میڈیسن کو منظوری دے دی ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بورڈ چیئرمین نے کبھی اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ الیکٹرو ہومیوپیتھی کو غیرامداد یافتہ منظوری حاصل ہے یعنی اس پیتھی کی تعلیم کے لئے کالج چلا سکتے ہیں اور یہاں کے فارغین پریکٹس کرسکتے ہیں۔ اس حکمنامہ کی کاپی سبھی سی ایم او کے پاس ہے۔
ڈاکٹر موریہ نے کہا کہ میری پرورش ہی الیکٹرو ہومیوپیتھی کے ماحول میں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی افسر پریشان کرے تو کہیے کہ آپ ہمیں نوٹس دیجیے۔ اپنے حق کو پہچانئے، اپنے حق کے لئے لڑیے۔ اپنی پیتھی کے مطابق مریضوں کا علاج کیجئے تو کامیابی یقینی ہے۔ ڈاکٹر رام چندر موریہ کہا کہ الیکٹرو ہومیوپتھی کی ٹریننگ کے بعد اپنی پیتھی کے مطابق پریکٹس نہ کرنا ہی ہماری کمزوری ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کئی برس سے اس پیتھی کے ذریعہ بتھری، پائلس اور اسکن کا علاج کررہا ہوں۔ انھوںنے شرکاء سے کہا کہ وہ احساس کمتری سے باہر نکلیں۔ انھوں نے بتایا کہ الیکٹرو ہومیوپیتھی اٹلی سے آئی ہے لیکن بورڈ کی کوششوں سے اب ہندوستان میں بھی اس کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہیں۔
پردیپ کمار یادو کہا کہ یہ پیتھی بیماری کو جڑ سے ختم کرتی ہے۔ اگر آپ کو پریکٹس کرنا ہے تو بورڈ میں رجسٹریشن کرانا ضروری ہے۔ بہار سے آئے ڈاکٹر پنڈت نے کویتا سناکر چیئرمین کا استقبال کیا۔ انھوں نے کہا کہ بہار کو بھی یوپی سے ہی توانائی مل رہی ہے۔ بہار میں اس پیتھی کے ڈاکٹروں کو پریکٹس میں کوئی دقت نہیں۔ جے پی شکلا نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ الیکٹرو ہومیوپیتھی کو اب ہومیوپیتھی کے طرز پر فروغ دیا جائے۔ ان کے علاوہ ستیہ پال ورما، ڈاکٹر افروز حسین، میمونہ خان، چندر شیکھر پٹیل، ڈاکٹر ٹیک چندر، پرنس، شوریہ سنگھ وغیرہ نے بھی اظہارتاثرات کیا۔ کئی مندوبین نے الیکٹر ہومیو پتھی پر مبنی اپنی کویتائیںبھی سنائیں۔

