اسلاف کے کارناموں پر تنقید کی جاسکتی ہے مگر کیچڑ نہیں اچھالی جاسکتی
عبدالغفار صدیقی
چند دن قبل میرے ایک عزیزاپنے بیٹے کی شادی کا کارڈ دینے آئے ۔ان کی تعلیم بہت معمولی ہے ۔کرانے کی دوکان کرتے ہیں ۔گائوں میں رہتے ہیں ۔مسلک کے اعتبار سے اہل حدیث ہیں ۔کارڈ دینے کے بعد انھوں نے مجھ سے سوال کیا :۔’’ تم بھی معاویہ کو رضی اللہ عنہ کہتے ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا :’’ جی ہاں ،وہ صحابی ہیں اس لیے ان کو رضی اللہ عنہ کہنا ہی چاہیے۔‘‘ یہ سن کر وہ بولے :۔’’ تم نے ان کے کرتوت نہیں دیکھے ۔‘‘ میں نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی اور کہا کہ بھائی صاحب آپ شادی کا کارڈ دینے آئے ہیں ۔اس پر بات کیجیے اور چائے پیجئے ،یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے ۔مگر انھوں نے کہا کہ شادی کارڈ تو میں دے چکا ۔اس جملے کا مطلب یہی تھا کہ ان کی بات کا جواب دیا جائے ۔مجھے ان کی یہ بات بہت ناگوار گذری ۔میں نے ان سے کہا کہ تم کون ہوتے ہو ان کے کرتوت دیکھنے والے ؟تمہیں اس عمل کا کتنا اجر ملے گا ؟تمہاری ضرورت کیا ہے کہ ان کے کرتوت سے آگاہی حاصل کرو۔تم مدرس نہیں ہو کہ طلبہ کو بتانے کی ضرورت ہو ،تم محقق نہیں ہو کہ تمہیں کہیں مقالہ پیش کرنا ہو ،تم واعظ و مصلح قوم نہیں ہو کہ قوم کو آگاہ کرو ۔تم کرانے کی دوکان کرتے ہو۔آخر اس سوال کی ضرورت ہی کیا ہے ۔اس کے بعد میں نے کہا کہ تم اہل حدیث ہو۔مگر تم نے وہ حدیث نہیں پڑھی جس میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرنے اور ان کی برائیاں بیان نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔(” اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن مساویہم”. ترمذی)اس پر بھی انھوں نے اعتراض کردیا کہ چاہے وہ برا آدمی ہو ۔میں نے عرض کیا کہ ہاں ،خواہ کتنا ہی برا آدمی ہو ۔پھر میں ان کو دوسری حدیث سنائی جس میں پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :جو اپنے مسلمان بھائی کے عیوب چھپائے گا اللہ حشر کے دن اس کے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔( ومن ستر مسلماسترہ اللہ یوم القیامۃ۔ترمذی)
مذکورہ واقعہ کوئی نیا نہیں ہے ۔ہم صدیوں سے یہی کام کرتے آرہے ہیں ۔گڑے مردے اکھاڑنا ہماری عادت ہے ،ہمارے نزدیک سب سے بڑی نیکی یہی ہے کہ اپنے اسلاف کی کردار کشی کریں ۔ہمارے ذخیرہ کتب میں ہزاروں کتابیں اس موضوع پر موجود ہیں ۔ہم نے مرحومین کی عبارتوں کو توڑ مروڑ کر اپنے معتقدین کے سامنے پیش کیا ۔ہم نے ان کی تحریروں کو پس منظر سے ہٹ کر دیکھا اور دکھایا ۔اپنے بزرگوں کو معصوم اور دوسروں کے بزرگوں کو خطاکار قرار دیا ۔اسی بنا پر ہمارے درمیان فرقے وجود میں آگئے ۔اپنے مصنفین کی تحریروں پر آنکھ بند کر یقین کیا ،کبھی تحقیق کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی ۔اس ضمن میںہمارا حال اس شخص کا سا ہے جو اپنے گھر کے سامنے بیٹھا رورہا تھا ۔لوگ اس سے پوچھتے ،کیوں رورہے ہو ؟وہاں بھیڑ اکٹھا ہوگئی ۔جب اس سے اصرار کیا گیا کہ رونے کی وجہ بتائے ۔تو اس نے کہا کہ فلاں حضرت فرماگئے ہیں کہ تیری بیوی بیوہ ہوگئی ہے ۔بتائو حضرت کی بات پر روئوں نہ تو اور کیا کروں ؟لوگوں نے کہا ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟تم تو زندہ ،تمہاری بیوی بیوہ کیسے ہوسکتی ہے ؟اس نے کہا کہ حضرت کی بات کیسے جھوٹی ہوسکتی ہے ۔بقول شاعر
شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئے
محترم کی بات کو جھٹلائیں کیا؟
ہم اپنے اسلاف کی بابت اکثر ان موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جن کا کوئی تعلق ہماری موجودہ زندگی میں کامیابی یا ناکامی سے نہیں ہے نہ ان کا تعلق ہمارے ایمان کی کمی و بیشی سے ہے۔مثال کے طور پر حضرت امیر معاویہ ؓ کے کسی فیصلے یا کسی عمل سے ہماری موجودہ زندگی کا کیا تعلق ہے ؟حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کو کتنی حدیثیں یاد تھیں ،اس سے ہمیں کیا لینا دینا ؟(بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ کو صرف سترہ حدیثیں یاد تھیں )امام غزالی ؒ یا امام ابن تیمیہؒ کے نظریات کا ہماری کامیابی یا ناکامی میں کیا دخل ؟عبدالوہاب نجدی ؒ یا سید مودودی ؒ کے افکار و عمل سے ہمارے دین و ایمان سے کیانسبت ؟اگر ہم ان کو خدا نخواستہ غلط سمجھتے ہیں تو ان سے دور رہیں ،ان پر ایمان لانے کا ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا ہے ۔ہمارے دین اور آخرت کا دارومدار قرآن و سنت پر ہے ،اگر قرآن و سنت کے نام پر کوئی بات ہمارے سامنے آئے تو ہمیں اس بات کا پوراحق ہے کہ ہم تحقیق کرلیں کہ یہ بات ان دونوں سرچشموں میں موجود ہے یا نہیں ،اگر جواب اثبات میں ملے تو سر اطاعت خم کردیں ،اگر معلوم ہوجائے کہ شیخ محترم کی بات ان دونوں ہدایت ناموںسے ماخوذ نہیں تو آگے بڑھ جائیں ۔
مسلمان ہونے کے لیے جن امور پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے ،وہ واضح ہیں ،حلال و حرام بھی مفصل طور پر قرآن و حدیث میں بیان کردیے گئے ہیں ۔اخلاقیات و معاملات اور نظام عدل کی تفصیلات و جزئیات بیان کردی گئی ہیں ،آخرت میں اللہ تعالیٰ جن امور کی بابت سوال فرمائیں گے وہ بھی بتا دیے گئے ہیں ۔جنت میں لے جانے والے اعمال اور دوزخ میں لے جانے والے اعمال کی فہرست بھی اللہ و رسول نے بنا کر ہمیں دے دی ہے ۔پھر ہماری ایسی کون سی ضرورت ہے کہ اپنے ان بزرگوں کے متعلق توہین آمیز کلمات کہیں ،جن کے کارناموں کو ہم اچھی طرح جانتے نہیں ،اور جاننے کا کوئی مستند ذریعہ بھی ہمارے پاس نہیں ۔
قرآن مجید میں ہدایت کی گئی کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں تم ان بتوں کے متعلق بدزبانی نہ کرو ۔یعنی کافروں کے معبودوں کو بھی برا نہ کہو۔اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ تم ان کے سامنے جھک جائو یا ان کا احترام کرنے لگو ۔اس کی وجہ بھی بتادی گئی کہ تم انھیں براکہوگے تو وہ تمہارے معبود کو برا کہیں گے ۔
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ-کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمْ-ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ مَّرْجِعُہُمْ فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(الانعام ۔108)اور اُنہیں برابھلا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ زیادتی کرتے ہوئے جہالت کی وجہ سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل کو آراستہ کردیا پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے تو وہ انہیں بتادے گا جووہ کرتے تھے۔
یہ ہدایت بھی ایک سے زائد بار کردی گئی کہ تم جن امور میں اختلاف کرتے ہو ،اس کا فیصلہ اللہ کردے گا کیوں کہ بالآ خر تمہیں اسی کے پاس لوٹ کر آنا ہے ۔میدان محشر میں ،حساب کتاب کے دن سب کچھ واضح ہوجائے گا ۔اللہ جب حساب لینے کے لیے کافی ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی مرحوم کا حساب لینے والے ۔
جو لوگ زندہ ہیں ۔ان کی حد تک ہمارا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ ہم ان سے ملاقات کرکے یا باوثوق ذرائع سے معلومات حاصل کرکے اپنی رائے قائم کریں ،اگر وہ خطا پرہیں تو ان سے دور رہیں ۔اس لیے کہ زندہ انسانوں کے اچھے برے عمل کا ہم پر اثر پڑسکتا ہے ،جولوگ مر کھپ گئے ،جن کی قبریں بھی معدوم ہوگئیں ،جو ہمارے نہ عزیز ہیں نہ رشتہ دار ،جن کا ہم سے نہ استاذی کا رشتہ ہے نہ شاگردی کا ،ان کی بھول اور غلطیوں کا بکھان کرنے سے ہماری نیکیوں کے دفتر میں کوئی اضافہ نہیں ہونے والا ۔
آپ نبی اکرم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو ایک بھی واقعہ نہیں ملے گا ،جس میں آپ نے ابو جہل یا ابو لہب کے لیے توہین آمیز الفاظ زبان مبارک سے نکالے ہوں ۔جب کہ یہ دونوں آپؐ کے اور آپ ؐکے دین کے سب سے بڑے دشمن تھے ۔آپ صحابہ کرام کی سیرت کی ورق گردانی کیجیے اور مجھے ایک بھی ایسا واقعہ بتادیجئے جس میں انھوں نے اپنے سے اختلاف کرنے والے کو مغلظات سے نوازا ہو ۔اختلاف رائے کا اظہار بھی آپ کو ملے گا ،جنگ صفین میں وہ ایک دوسرے کے مقابل بھی نظر آئیں گے مگر باہمی احترام و اکرام کا نور ان کی پیشانیوں سے ٹپکتا ہوا ،آپ محسوس کریں گے ۔یہی حال تابعین و تبع تابعین میں بھی آپ دیکھیں گے ۔کسی فقیہ نے اپنی کسی کتاب میں بھی دوسرے فقہاء کے لیے کوئی نازیبا لفظ استعمال نہیں کیا ۔شاگردوں نے بعض امور میں اپنے استاذ سے اختلاف کیا ،لیکن دلائل اور احترا م کے ساتھ ۔کہتے ہیں کہ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے سامنے کسی نے مولانااحمد رضا خاں ؒ کا ذکر بغیر مولانا کے کردیا تو وہ ناراض ہوگئے ،اور تنبیہ فرمائی کہ ان کا نام احترام سے لو۔
تنقید اور تنقیص کے فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے ۔تنقید یہ ہے کہ ہم کسی کے علمی کارناموں ،یا اس کے منصبی اعمال اور فیصلوں کا اس طرح جائزہ لیں کہ جو اچھائیاں ہیں وہ بھی منظر عام پر آجائیں اور جو کوتاہیاں اور لغزشیں ہیں وہ بھی معلوم ہوجائیں ۔جب کہ تنقیص نام ہے خواہ مخواہ عیب نکالنے کا ،اچھائی میں برائی تلاش کرنے کا ۔پھر تنقید کام ہے ان محقیقن کا جن کا مطالعہ وسیع ہو،جن کا عمل خدا ترسی پر مبنی ہو،جن کی تحقیق برائے اصلاح ہو ،جن کے ذمہ امت کی رہنمائی کا فریضہ ہو ۔ایک عام دوکاندار یا کم علم آدمی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی بھی بزرگ یا علمی شخصیت پر کیچڑ اچھالے کجا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کی شان میں گستاخی کرے ۔ایسا کرکے وہ اپنے نامہ اعمال میں گناہ تو درج کراسکتا ہے کوئی نیکی اسے نہیں مل سکتی ۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر فرد سے الگ الگ حساب لیا جائے گا ۔اس سے کسی ایسے شخص کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا جو اس کی ذمہ داری میں نہ ہو ۔ایک باپ سے اس کی نابالغ اولاد کی بابت سوال ہوگا ،ایک حاکم سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا ۔کل راع مسئول کا یہی مطلب ہے ۔کسی حدیث کے مطابق بھی اپنے سے بڑے کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔اولاد سے باپ کے بارے میں ،شاگردوں سے استاذ کے بارے میںاور رعایا سے حاکم کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے ۔بھول چوک بشریت کا تقاضا ہے ۔نبی اور غیر نبی میں فرق و امتیاز ہی یہ ہے کہ غیر نبی سے خطا کا امکان ہے ۔وہ لوگ جو اہم مناصب پر فائز ہوں ،جن کے ذمہ امور مملکت ہوں ،جنھوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں احکامات صادر کیے ہوں ،سیکڑوں فیصلے کیے ہوں ،اس کا امکان ہے کہ ان سے کوئی بھول ہوگئی ہو ۔مگر اس بھول کا حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے ۔ہم بھارتی مسلمان آج جن مسائل سے دوچار ہیں اور ہمارے سر پر ہندتوا کا جو طوفان منڈرارہا ہے ،اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے حال کو اس طرح سنواریں کہ ہمارا مستقبل روشن اور تابناک ہوجائے ۔
عافیت اسی میں ہے حد میں ہی رہا جائے
بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے

