ظہیرآباد یکم/مئی (مشرقی آواز جدید): ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی، تعلیمی اور فلاحی ترقی کا ایک اہم ذریعہ "وقف” ہے۔ وقف جائیدادیں ایک مقدس امانت سمجھی جاتی ہیں، جو کسی خاص دینی یا فلاحی مقصد کے لیے مختص کی جاتی ہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں حکومت کی طرف سے وقف قوانین میں ترامیم اور مداخلت کے باعث مسلمانوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہےان خیالات کا اظہار کو کنوینر مقامی کمیٹی ڈاکٹر جان نثار نے جماعت اسلامی کے دفتر اسلامک سنٹر لطیف روڈ ظہیرآباد میں کیا اور کہا کہ "بتی گل احتجاج” اسی تشویش کا عملی مظہر ہے، جس کے تحت 30 اپریل 2025 کو ایک مؤثر احتجاجی مہم "وقف اور دستور بچاؤ تحریک” کے تحت چلائی گئی، جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے منعقد ہوئی۔وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کیا ہے؟یہ مجوزہ قانون حکومت ہند کی طرف سے وقف جائیدادوں کے انتظام و انصرام میں ریاستی کنٹرول کو مزید سخت اور مرکزی حکومت کے اختیارات کو وسعت دینے کے لیے لایا جا رہا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت وقف بورڈز کی خودمختاری محدود کی جا رہی ہے۔
حکومت کو کسی بھی وقف جائیداد کو ’عوامی مفاد‘ کے نام پر اپنے قبضے میں لینے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔وقف کی تعریف، قیام، اور تحفظ کے روایتی اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔یہ تمام شقیں آئینی حقوق، مذہبی آزادی (آرٹیکل 25 تا 30)، اور اقلیتوں کے حق خودارادیت کے اصولوں سے متصادم ہیں۔بتی گل احتجاج کی علامتی اہمیت”بتی گل” (بجلی بند) جس میں گھروں، مساجد، مدارس اور دفاتر میں ایک مخصوص وقت کے لیے بجلی بند کرکے وقف جائیدادوں کی لوٹ مار، ریاستی مداخلت، اور اقلیتی حقوق کی پامالی کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی ظہیرآباد کا دفتر اس حوالے سے فعال کردار ادا کررہا ہے تاکہ عوام میں بیداری پیدا ہو۔ نوجوانوں کو وقف کے تاریخی، دینی اور قانونی پس منظر سے آگاہ کیا جائےحکومت کو ایک پرامن مگر مضبوط پیغام دیا جا سکےہندوستانی آئین اور وقف کا تحفظ ہندوستانی آئین کی درج ذیل دفعات وقف کے حق میں قانونی پشت پناہی فراہم کرتی ہیں: آرٹیکل 14 اور 15عوام میں مساوات کا حق آرٹیکل 25: مذہبی آزادی کا حق آرٹیکل 26: مذہبی اداروں کو چلانے کا حق آرٹیکل 30: اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق ان دفعات کی روشنی میں وقف بورڈز اور جائیدادوں کی خودمختاری برقرار رکھنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ وقف کی آزادی کو محدود کرنا دراصل آئینی ڈھانچے کو متزلزل کرنا ہے۔
وقف کا تاریخی پس منظر وقف کا آغاز خلافتِ راشدہ کے زمانے سے ہوا، اور برصغیر میں مغل دور سے یہ ایک مضبوط ادارہ رہا ہے۔ مسلمانوں نے تعلیمی ادارے، ہسپتال، مسافر خانے، اور مساجد وقف کے ذریعے قائم کیے۔ ظہیرآباد اور اس کے اطراف میں کئی تاریخی اوقاف آج بھی موجود ہیں جو مقامی تہذیب و ثقافت کا اہم جزو ہیں۔آبا و اجداد کی امانت اور ہماری ذمہ داری ہماری گذشتہ نسلوں نے وقف کی صورت میں ہمیں جو امانتیں دی ہیں، ان کی حفاظت صرف قانونی نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ یہ صرف جائیدادیں نہیں بلکہ تہذیبی ورثہ، تعلیمی سلسلہ، اور سماجی خدمات کا ذریعہ ہیں۔”وقف اور دستور بچاؤ مہم ” ایک بیداری کی تحریک ہے جو قانونی شعور، دینی حمیت، اور اجتماعی اتحاد کو فروغ دیتی ہے۔ بتی گل احتجاج جماعت اسلامی ظہیرآباد اور مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستانی مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن، آئینی اور مؤثر انداز میں میدان میں موجود ہیں۔ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کا خاتمہ صرف اقلیتوں کی جیت نہیں بلکہ آئین ہند کی بالادستی کی بحالی بھی ہو گی۔ اس موقع پر محمد معین الدین معاون امیر مقامی جماعت اسلامی ،محمد قیصر غوری، خواجہ نظام الدین، محمد، اعظم علی، سید اظہر الدین، عبدالمجید، محمد شہباز الدین، عبدالغفار کے علاوہ دیگر موجود تھے۔۔۔۔
