مسجد رحیم بسوا کلیان میں مولانا سید کلیم اللہ صاحب کا خطاب

بسوا کلیان: عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی سیکھنا ہوگا, اور دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا سیکھنا لازم و ملزوم ہے مولانا سید کلیم اللہ صاحب نے مسجد رحیم بسوا کلیان میں جمعہ کی نماز سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا
القرآن – سورۃ نمبر 96 العلق
آیت نمبر 1
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ,
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌ۚ ۞
ترجمہ:پڑھو اپنے ربّ کے نام کے ساتھ  جس نے پیدا کیا،
انہونے قرآن پاک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو علم سے آراستہ ہو کر,  دنیا کی حقیقت سے واقف بھی ہوں, اور نئی نسل  کو دنیا کے علوم سے آراستہ کراتے ہوئے علم کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے, اس کے علاوہ
علوم سائنس, ریاضی, سماجیات اور معاشیات کو تحقیقی انداز میں حاصل کریں, موجودہ صورت حال پر نظر رکھتے ہوئے کہا کہ ریاست کرناٹک میں حال ہی میں دسویں جماعت کے نتائج بہت ہی کمزور آئے ہیں اس طرف بھی توجہ دینا ہے انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے نہالوں کو دینی و اخلاقی ماحول سے بھی آراستہ کرنا ہوگا  ہمارا بچہ ڈاکٹر, انجنئیر, کمپیوٹر آپریٹنگ,اور پروفیسر ہوں اور دینی تعلیم اور اخلاقیات سے ناواقف ہوں، ہم کو چاہیئے کہ سماج سے اس خرابی کو دور کریں۔
مسجدِ رحیم بسوا کلیان میں عربی خطبہ مفتی شاہد صاحب امام و خطیب نے ادا کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے