گورکھپور: انجمن تعلیمات دین گورکھپور کے زیر اہتمام جلسہ تقسیمِ انعامات کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعہ پر پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے اسلامیہ انٹر کالج کے مینیجر محبوب سعید حارث نے دینی تعلیمی کونسل اور انجمن تعلیمات دین گورکھپور کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عدیل عباسی نے آزادی کے بعد بیڑہ اٹھایا کہ اردو کو اور عصری تعلیم کے ہمراہ دینی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے جگہ جگہ مکاتب کا جال بچھایا جائے اس کام میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور دیکھتے دیکھتے پورے پردیش میں مکاتب کا قیام عمل میں آگیا۔ آج ہمارا نعرہ ہے فروغ دو عصری تعلیم کے ہمراہ دینی تعلیم کو!

محترم عبد اللہ نے تلاوت کلام اللہ سے مجلس کا آغاز فرمایا جبکہ مولانا صابر نے نعت پاک سے سامعین کے دلوں کو جیت لیا۔ قاضی کلیم الحق نے انجمن تعلیمات دین گورکھپور کا تعارفی خاکہ مختصر انداز میں پیش کیا اور پوروانچل دستک گورکھپور کے کام سے لوگوں کو متعارف کرایا۔ مہمان خصوصی عالی جناب وصی اللہ عباسی عدیل نے دینی تعلیمی کونسل کے قیام اور اس کی تاریخی حیثیت پر مدلل اور مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قاضی عدیل عباسی، مولانا علی میاں ندوی، مولانا سالم قاسمی، مولانا منظور نعمانی جیسے بزرگوں کا احسان ماننا چاہیے کہ جن کی کوششوں سے آج جگہ جگہ مکاتب نظر آرہے ہیں۔

مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی صدر جمعیت علماء گورکھپور و آفس سکریٹری انجمن تعلیمات دین اردو زبان کی حیثیت اور اس کی بقا پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ۔ بھلا دیتی ہیں جو قومیں زبان مادری اپنی، وہ راہ زندگی میں اکثر و ناکام رہتی ہیں۔ میرے بھائی نئی نسلوں کو اردو کی کتابیں دے، ک اپنے ہر سبق میں زندگی کی راز رکھتی ہیں،۔۔ انھوں نے مجمع سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کس کس کے گھر اردو کے اخبار آتے ہیں؟ اگر کسی علاقے میں اخبار نہیں پہنچ رہا ہے، تھوڑی محنت کیجیے اور صرف پانچ خریدار بنا دیجیے اس علاقہ میں اخبار پہنچ جائے گا اور یہ بھی کار خیر میں شمار ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کریں روشن چراغ دین ہم لیکن ،۔ انھیں دینی مدارس میں نئی تعلیم بھی لائیں ،۔ کہیں ایسا نہ ہوجائے ترقی کی مسافت میں ہماری قوم کے بچے بہت پیچھے ‌نہ رہ جائیں۔۔۔ اپنی طبیعت کی خرابی کے باعث لوگوں سے دعاؤں کے طلب گار رہے۔

آخر میں آرگنائزر محمد سالم اور قاضی کلیم الحق نے مہمان خصوصی کے دست مبارک سے تقسیم انعامات کا سلسلہ شروع کیا۔ سب سے پہلے تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو وصی اللہ عباسی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کو صبور احمد محمد افراہیم اور الحاج اشرف علی خاں کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا، پھر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو جناب عبد اللہ سراج، چودھری قمر جمیل، جواد علی سبز پوش اور ڈاکٹر عبد الحئی کے دست مبارک سے تقسیم انعامات کیا گیا۔

اساتذہ کرام کے انعامات کے لئے مولانا آزاد ہائیر سکنڈری اسکول کی جانب سے عطا کردہ انعامات کو الحاج مسیح الدین عاصم گونڈوی کے دست مبارک سے دیا گیا۔ تنظیم کی طرف سے ٹیم مینیجر کی حوصلہ افزائی کی غرض سے آمد و رفت کے لئے ہدیہ پیش کیا گیا۔ فیضان سرور نے اردو زبان کی ترویج میں بہترین نظم پیش کیا۔ آخر میں ان طالبات کو انعامات سے نوازا گیا جنھوں نے ہائی اسکول اور انٹر کے امتحان میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی، جن کو محبوب سعید حارث نے اپنے دست مبارک سے انعامات سے نوازا۔ اسی درمیان اسلامیہ انٹر کالج کے استاد جناب طارق صاحب کی محنتوں اور کوششوں سے آل انڈیا سائنس کمپٹیشن میں پونہ کی سرزمین پر بہترین کامیابی حاصل کرنے والے کالج کے طالب علم کو بھی اعزاز دیا گیا۔

مولانا مفتی فہد کی دعاؤں سے مجلس کا اختتام ہوا۔ حاضرین میں مکاتب کے اساتذہ کے علاوہ ماسٹر شمشاد احمد ، کاشف احمد صدیقی ،سید نعیم الحسن ، ماسٹر نور الہدیٰ اور شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے