محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
۱۔ ریسرچ
سماج بے حد سخت اور بدتمیز ہوتاجارہاتھااور اپنے چاہنے والوں کوبدتمیزی کرنے پر مجبور کررہاتھا۔ جس کانتیجہ یہ ہے کہ رام نارائن ، ابوبشر اور یویوسنگھ کامنہ بھی گالیوں سے بھرا ہواہے۔سناہے کہ وہ بھی گالیاں دینے اور انتہائی گھٹیا قسم کی بدتمیزی پر اُتر آئے ہیں۔ سماج میں جس طرف دیکھیں ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں بھری ہوئی ہیں۔پڑھالکھاآدمی کم پڑھے لکھے کو برداشت کرنے تیارنہیںہے۔ اونچا طبقہ نچلے طبقہ کے سیاسی حقوق کو برداشت نہیں کررہاہے۔تعلیمی کاروبار کرنے والے ہر اصول توڑنے پر آمادہ ہیں۔ لیکن ان بے اصولوں کاتوڑ کس کے پاس ہے ؟اور وہ توڑ کیاہے ؟ اسکی بابت ریسرچ کی ضرورت ہے۔
۲۔ابتری
انھوں نے اپناوہ اسلام چھوڑ دیاہے ، جو وہ پڑھ کر آئے تھے ، جس کی پریکٹس پچھلے چار پانچ دہوں سے کررہے تھے۔اس پڑھے لکھے ، ہوم ورک کئے گئے اسلام کوترک کرنے کے بعد اب وہ ڈکٹیشن لے رہے ہیں۔ بارہ پندرہ ایگزیکٹیوافراد کی میٹنگ سے قبل ایک لیٹر آجاتاہے جس میں لکھاہوتاہے کہ انھیں اسلام کے نام پر کتنے نئے نئے پروگرام کرنے ہیں۔
خواتین کے چہرے کھول دینے ہیں ،نوجوانوں اور طالب علموں کومخلوط محفلوں کے ساتھ اسلام کاکام کرواناہے، حکومت کی فوری اور ہرقدم پر تائید کرنی ہے، ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کے ساتھ جانا ضرورہے لیکن قانونی طورپر کمزور ایشوز کے ساتھ جانا ہے، اس کے علاوہ خود کوطاقتور سیاسی شعور والاگروپ ثابت کرناہے۔ اور بھی دیگر نکات پر کام ہورہاہے مگر اتناکچھ دیکھنے کے بعدوہ لوگ سن سے ہوکر رہ گئے ہیں۔
یہ وہ مخلص لوگوں کاگروہ ہے ، جو ملک میں اسلام کے پائیدار نقوش اوراس کی برتری چاہتاہے۔ رب ہی جانے کے یہ کب ہوگا،اس مخلص گروہ کاخیال ہے کہ اب تک کی بنی بنائی صفوں کوحکومت نے الٹ دیاہے۔ آگے کابہتر حال کون سی نسل دیکھے گی ؟ابتری تو ملاحظہ کرہی رہے ہیں ہم۔
۳۔ برخواست ہو
جیسے ہی بلاک ایجوکیشن افسر کے معطل کئے جانے کی اطلاع ملی ، رابعہ صدف خان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو نکل پڑے۔ ساتھی ٹیچرس خصوصاًسودہ عنبرین نے افسوس کااظہار کیا۔ کہاکہ اچھے افسر کے معطل کئے جانے کی خبر تکلیف لے آتی ہے۔ اپناخیال رکھوخان صدف۔ رابعہ صدف خان نے کچھ نہیں کہا۔ اپنے آنسو پونچھ لئے ۔
رابعہ صدف خان کے آنسو کی حقیقت خود رابعہ صدف خان ہی جانتی تھی۔ بلاک ایجوکیشن افسر نے اس سے 10؍ہزار روپئے رشوت لے کر جو تکلیف پہنچائی تھی،وہ ناقابل بیان تھی۔ اس نے کہابھی تھاکہ سر، میری والدہ بیمار ہیں۔ چھوٹے بھائی کی فیس جمع کرنی ہے لیکن اس افسر نے مان کر نہیں دیا۔
ٍ اس کے تبادلہ پر رابعہ صدف خان سے زیادہ دوسروں کو خوشی نہیں تھی۔ اس نے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا’’رشوت خوربی ای او۔۔۔۔۔ تیری زندگی پر تُھو ہے، صرف معطل ہی نہیں تجھے تو برخواست کردیناچاہیے، حرام خوری میں تجھ سے بڑھ کر اب تک کوئی افسر نہیں آیا‘‘
۴۔ بند کان
مختلف جہتوں سے تھپڑ کی گونج سنائی دے رہی تھی لیکن وہ انکاری تھا۔ بلکہ بہر ابن گیاتھا۔ کئی طرح سے سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ تمہیں تھپڑماراگیاہے ، لیکن وہ مان کرنہیں دیا۔
اس کے قریبی دوستوں کومعلوم ہواکہ کسی نے بہت زور سے تھپڑ ماراہے تووہ اس کو کان کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے ۔ کان کے ڈاکٹر نے بتایاکہ’’ آپ کے ساتھی بہرے ہوچکے ہیں، کسی نے انہیں زورد ار طریقے سے تھپڑ ماراہے‘‘۔
دوستوں نے بھی کہاکہ’’ اس کی حرکتوں سے ہمیں شک ہوااسلئے ہی آپ کے پاس دکھانے لائے تھے، ہمار اشک صحیح نکلا۔شکریہ ڈاکٹر صاحب ‘‘
کان کے ڈاکٹر نے کہا’’دس پندرہ دِن تک یہی حال رہے گا۔ دوائی لکھ چکاہوں ، کان میں ڈالتے رہیں۔ دس پندرہ دن بعد بھگوان نے چاہاتو کان کھل جائے گاورنہ مزید کئی ہفتوں تک دوائی ڈالنی پڑے گی‘‘
وہ ابھی بھی کہتاہے کہ مجھے کسی نے نہیں مارا۔ مشکل یہ ہے کہ تھپڑکے وقت کسی نے ویڈیوکلپ نہیں بنائی۔ ورنہ وہ مان جاتا۔
