ڈاکٹر ثناء اُللہ شریف، بنگلورو
اڑائے کچھ ورق لالہ نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے داستان میری
کسی بھی معاشرے کی کامیابی و کامرانی، تعمیرو ترقی، عروج و زوال، پستی وبلندی میں تعلیم نے ہمیشہ نمایاں کردار اد ا کیاہے۔ اسلام نے روز ِ اول سے ہی اس کے حصول پر بے انتہا زور دیاہے۔ تعلیم اسلام کے نزدیک شاہراہ زندگی کا بنیادی سنگِ میل، کامیابی کا شاہ کلید اور مستقبل میں ہمارے وجود کی محافظ و امین ہے۔لہذا اس کی آگہی کے بغیر کسی سچے مسلمان کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن مجید میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور اس کے مقام و مرتبہ کو واضح کیا کہ ’’جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ (الزمر) کہیں یہ کہہ کر ترغیب دلائی ’’جو حصول ِ علم کیلئے سفر کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان کردے گا، فرشتے علم حاصل کرنے والے کے راستے میں اپنے پر بچھاتے ہیں اور سمند ر کی مچھلیاں اس کے حق میں مغفرت طلب کرتے ہیں۔ سب سے پہلی وحی الٰہی علم ہی سے متعلق ہے۔’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیداکیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی، پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتاتھا۔‘‘ (سورہ علق)
ان چھوٹی و مختصر مگر دلنشیں آیات میں براہ راست تعلیم پر زور دیا گیاہے۔ ہر آیت چار پانچ الفاظ سے زیادہ نہیں اور ہر لفظ صاف و دلآویز معنی کا گنجینہ، جس میں فرمایا کہ علم کا، پڑھنے کا سرچشمہ قلم کا مرہون ِ منت ہے۔ ایک نبی امّی کو جو مقصدِ زندگی کی تلاش وجستجو میں محوتھے کہ حقیت کیاہے،اور زمانے کے اسرار ورمو ز پر غور وفکر کرتے، ہم کون ہیں اور کیوں ہیں۔وحی الٰہی سے مضطرب وپریشان دل کو قرار آیا۔
دل منور ہوگیااور حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ اس علم کی ابتداء اور اس کا رشتہ ’’اسم رب‘‘ سے ہونی چاہیے۔ اس لئے کہ علم اسی کا عطاکردہ ہے، اسی کا دیاہواہے اور اسی کے طفیل ہر طرح کی ترقی ممکن ہے۔ زیادہ علم حاصل کرنے کی بھی اس ارشادِ ربانی سے ترغیب بھی دی گئی۔ ’’اے میرے رب! مجھے مزید علم عطاکر‘‘۔(سورہ طہ) اس آیت مبارکہ سے علم کی اہمیت و فضلیت واضح طور پر ثابت ہوتی ہیکہ رب کریم نے اپنے پیارے بنی ﷺ کو علم کے علاوہ کسی دوسری چیز کی زیادتی کی طلب کرنے کاحکم نہیں دیا۔ پیارے نبی ﷺ نے بھی اپنے ارشادات کے ذریعہ تعلیم کی افادیت پر روشنی ڈالی،’’عالم کو عابد پر اتنی ہی فضلیت، جتنی کہ چودہویں کے چاند کو ستاروں پر فضیلت۔ دوسری حدیث ہے: علم کا حاصل کرنا مرد وعورت پر فرض ہے‘‘۔
دورِ اول کے مسلمانوں نے جب ان پر عمل کیا اور علوم وفنون پر دسترس حاصل کی تو انہیں معلم عالم کہا گیا۔ جس زمانے میں قرطبہ کے اندر مسلمانوں کے بچے اسکول جاتے تھے۔یورپ کے بڑے بڑے لوگ اپنے نام کے دستخط بھی نہیں جانتے تھے۔ اب ہمارا کیا حال ہے؟ افسوس! آج کے اس پُر فتن دور میں یہ قوم سماجی، اخلاقی و تعلیمی اعتبار سے تنزلی کی طرف گامزن ہے۔ (سچر کمیٹی، اخباری رپورٹوں میں علاقائی کمیشنوں کی رپورٹ میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے) جس کا اہم سبب تعلیم کی کمی ہے، اس سے لاپرواہی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ چونکادینے والے ایک سروے کے مطابق کرناٹک کے ۵۱.۵۹فیصد مسلمانوں میں صرف ف۷.۱۱ فیصد دسویں پاس ہیں۔ کالجوں تک صرف ۵۵فیصد کی رسائی ہورہی ہے۔جب کہ ۳.۱ فیصد سرکاری اور ۹۳.۱ فیصد پرائیوٹ اداروں میں برسر روزگار ہیں۔غرض علم قوموں کے عروج و زوال میں اہم کردار ادا کرتاہے،کبھی کبھی اس کے حصول میں کچھ داخلی و خارجی عناصر جیسے گھر، اساتذہ، تعلیم اور ماحول بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ملکِ عزیز کی آب وہوا ان دنوں مسموم ہوتی جارہی ہے، منظم انداز میں نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ اس ملک کی سر سبز وشادابی، رنگینی و رعنائی کیلئے جنہوں نے اپنے لہو سے آبیاری کی تھی، ان کے عظیم کارناموں، ان کے احسانات و درخشاں تاریخ کو نظر انداز ہی نہیں بلکہ اسے مسخ کرکے پیش کیاجارہاہے۔چھپ کے بیٹھا ہوا ہے ہنگامہ ? محشر یہاں کے مصداق شب وروز کوئی نہ کوئی تنازعہ نظر آتے ہی رہتاہے۔ تین سال قبل حجاب کا معاملہ اس قدر طول پکڑا،جس کی وجہ سے باحجاب و باپردہ طالبات کی تعلیم متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ہماری بہنوں اور بچیوں نے حجاب ہماری پہچان، حجاب ہماری شان، حجاب ہماری آئڈنٹیٹی، حجاب ہمارا شعار، حجاب ہمارے سروں کا تاج جیسے نعروں سے لیس اسکولوں اور کالجوں کے کیمپس میں عہدیداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزم محکم کا جو ثبوت دیا وہ لائق تحسین و قابل ستائش رہا۔
ایک جانب حجاب کے فیصلے پر عزت مآب وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک کہہ دیا’’امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی‘‘ اور عزت مآب وزیر تعلیم نے بھی برملا کہا: ’’امتحان بائیکاٹ کرنے والوں کو دوبارہ امتحان منعقد نہیں ہوں گے‘‘۔ طالبات نے بھی علی الاعلان فیصلہ سنادیا تھا: ’’ہم اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو حجاب کے ساتھ‘‘۔اس طرح اصولوں اور اقدار کی حامل طالبات تعلیمی عصبیت اور انا کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ نشانِ منزل سے محروم چوراہے پر شش و پنج میں مبتلا سیاسی یتیموں کی مانند محو حیرت رہے۔غفلت اور سرشاری کے اس ماحول سے متاثر ہوئے بغیر چند معطر کلیاں ہواو?ں میں رس گھول کر یہ پیغام دیتی ہیں کہ ’’ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔ ’’کبھی گولڈن گرل، کبھی گولڈن بوائے‘‘ کے نام سے سکنڈری سے لے کر یونیورسٹی تک اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جگ مگ جگ مگ نظر آتیہیں، دل کو سرور، آنکھوں کو نور اور روح کو قرار آتا ہے۔
ماہ اپریل، مئی اور جون کی آمد آمد سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتاہے، ان مہینوں کو داخلوں کا موسم بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ اتفاق سے رمضان المبارک کے بعد مدارس ِ اسلامیہ جو دین کی بقا کے ضامن ہیں، احیائے علوم دین کے مراکز ہیں،یہاں بھی داخلوں کا آغاز ہواہے، شہر کی کسی بھی سڑک سے گزریں تو داخلہ برائے۔۔۔، ایڈمیشن اوپن۔۔۔۔کے دیدہ زیب پوسٹرس، بینرس نظر آتے ہیں،مزید اخبارات اور واٹس ایپ پر بھی کامیاب طلبہ کی تصاویرسے داخلوں کیلئے اپیل کرتے ہیں۔یہ دور تعلیم کا دور ہے، سائنٹفک دور ہے، بعض والدین کونہ تو اپنے حال کی خبر ہے نہ مستقبل کی فکر، نہ اپنے نونہالوں کی تعلیم کی خبر گیری اورنہ ان شاہین بچوں کی آبیاری اور ان کو منزل مقصود سے روشناس کرانے کی منصوبہ بندی اور تڑپ۔۔۔ یہ بچے ہماری قوم کے بچے، ملک و ملت کے بچے، بچے مستقبل کی امید، ماں باپ کی آنکھوں کے تارے، وہ چمن کے مہکتے، دمکتے پھول،مسکراتے غنچے اور لہلہاتے پودے ہیں ۔ ان کا مقصد واضح اورنصب العین مقرر ہوناچاہیے۔اگرمنزل کا متعین اور لائحہء عمل تیار ہوتو زندگی کامیابی سے ہم کنار ہوگی۔
یہ بھی ایک سچی حقیقت ہیکہ مسلمانوں کا ایک بڑاطبقہ اقتدار اور سیاسی اثر سے محروم،معاشی طورپر پچھڑے طبقوں سے کم تر تعلیمی پسماندگی کا شکار، بے ترتیب و بے جوڑ انسانوں کا گروہ جو جنگل میں اندھیروں میں بھٹکے مسافروں کی طرح منزل کی تلاش میں سرگرداں۔ غرض مقابلہ جاتی اور چیلنجز کے دور میں اعلیٰ و معیاری اسکول اور کالج کے انتخاب کیساتھ سبجیکٹ، کورس C.B.SE,IC.SE, State Board سے متعلق واقفیت ضروری ہے، بچوں کی تعلیمی صلاحیت و ذوق و شوق کی مناسب سے آرٹس، سائنس اور کامرس کے ساتھ میڈیسن، انجینئرنگ، اگریکلچر وغیرہ کا علم بھی ضروری ہوناچاہیے تاکہ اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں معاون ومددگار ثابت ہو، نیز کونسلر، پروفیسر،ڈاکٹراور تعلیمی ماہرین سے مشورہ بھی کرناچاہیے۔
مشنیری اسکولوں اور دیگر کالجوں کی بلند وبالا عمارتوں کے برعکس ہمارے تعلیمی اداروں کے معیار کو جانچ کر بھی داخلوں پر توجہ دیا جاسکتاہے۔ تہذیب و ثقافت کے ساتھ اردو جیسی من موہنی و شیریں زبان سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔ہمارے ایک رفیق کا یہ کہنا بجا ہے:’’۔۔۔مسلم کالجوں کا مستقبل اندھیرے کی جانب گامزن ہیں، اکثر والدین مسلم کالجوں میںپڑھانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ہمارے کالجوں کا تعلیمی معیارغیر مذہب کالجوں سے بھی بہت اچھاہے۔ جب کوئی مسئلہ کھڑا ہوتاہے تو گلہ کرتے نہیں تھکتے کہ ہمارے مسلمان تعلیمی ادارے نہیں بناتیاور ہماری لڑکیوں کو بے نقاب کررہے ہیں‘‘۔
غرض نئے تعلیمی سال کا آغاز ہورہاہے،ہم اپنی نسل کو تعلیم سے جوڑیں، علم سے آراستہ کریں، اولین ساعتوں میں اسکول اور کالج کا جائزہ لیکر داخلوں میں پہل کریں۔ تعلیم و تربیت کے ساتھ تہذیب و ثقافت، اصول و اقدار کی حفاظت وآبیاری کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں، اس بات کی طرف توجہ دیں، بچوں کا مستقبل تابناک ہو، روشن ہو، معزز شہری اور بہترین انسان بنیں، پھلے پھولیں، پروان چڑھیں اور ترقی کی دوڑ میں پیش پیش رہیں اورملک و ملت کا روشن ستارہ بن کر جگمگائیں۔
چہرہ آپ کا کھلا رہے گلاب کی طرح
نام آپ کا روشن ہے آفتاب کی طرح
٭٭٭
