غزہ کے قاتلوں سے اربوں ڈالر کی ڈیل اور مظلوم فلسطینیوں کو طواف کعبہ کا لالی پاپ
عبدالغفار صدیقی
کل الیکٹرانک میڈیا اور آج (21.05.25) پرنٹ میڈیا پر مسلم دنیا کے تعلق سے ایک خبر بریکنگ نیوز کی طرح گردش کررہی ہے ۔خبر یہ ہے :۔’’سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شہید فلسطینیوں کے ایک ہزار پسماندگان کو مفت حج کرائے گی ۔‘‘ اس خبر کا حسب روایت مسلم دنیا نے خیر مقدم کیا ہے اور شاہ سعود کی شان میں قصیدے لکھے جارہے ہیں ۔اول تو مملکت سعودیہ اکثرہی بعض غریب ممالک کے لوگوں کوحج کراتی ہے اس لیے اس میں بریکنگ کچھ بھی نہیں ہے،دوسرے یہ کہ جن لوگوں کو امن و سلامتی کی ضرورت ہے ،جو بھوک سے مررہے ہیں ،جن کے اسپتالوں اور اسکولوں کو مسمار کردیا گیا ہے ،جن کے سر پر آسمان کی چھت کے سوا کچھ باقی نہیں ،جہاں متاثرین کی تعداد ایک دو نہیں ،بلکہ پچیس لاکھ ہے ،جہاں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ شہید ہوچکے ہیں جن میں نصف بچے ہیں، جہاں معصوم بچے گھاس کھانے پر مجبور ہیں ،تازہ رپورٹ کے مطابق اگر انھیں مد نہیں ملی تو چودہ ہزار بچے لقمہ اجل بن جائیں گے۔ ان میں سے ایک ہزاربھوکے ،ننگے ،غریب،مجروح ،زخموں سے چور چور لوگوں کوآپ حج کرائیں گے ۔اس لیے کہ آپ اس کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔آپ نے چند دن پہلے دنیا کے سب سے بڑے قاتل اور ظالم اسرائیل کے سرپرست کی جس انداز میں میزبانی کی وہ انداز غلامی مسلمانوں کا سر شرم سے جھکانے والا تھا ۔آپ نے قاتل کے ساتھ اربوں ڈالر کی ڈیل کی ،آپ نے اسرائیل کو تسلیم کرلینے کے بدلے شام پر پابندیاں ہٹوائیں ،آپ نے ظالم کے سامنے اپنی خواتین کو بے نقاب کیا ،کلچر کے نام پر ڈانس کیا ،لیکن آپ کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ آپ اپنے ظالم مہمان سے کہتے کہ پہلے فلسطین میں جنگ بند کرائیے تب ہمارے یہاںتشریف لائیے ۔کیا ایک ہزار فلسطینیوں کو حج کرانے سے آپ کے گناہ دھل جائیں گے ۔کیا غزہ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ان کو حج کرادیا جائے ،کیا اللہ تعالیٰ نے ان پر حج فرض کیا ہے ؟جب اللہ نے ہی ان پر حج فرض نہیں کیا۔ان کو صاحب استطاعت نہیں بنایا تو آپ یہ مہربانی کیوں فرمارہے ہیں ۔ارے جو لوگ شہید ہوکر جنت جارہے ہوں ،وہ آپ کے مشکوک پیسے سے حج کرکے گناہ گار کیوں بنیں گے ؟تعجب ہوتا ہے ان دانشوروں پر جو اس قدام کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے ۔ہر سال ہر ملک سے سیکڑوں لوگوں کو سرکاری حج کا دعوت نامہ دیا جاتا ہے ،ان میں حکومت کے ذمہ داران بھی ہوتے ہیں ،ان میں صحافی بھی ہوتے ہیں اور علماء کرام بھی ۔ان کی پرتکلف ضیافت کی جاتی ہے ،حکومت کے کارناموں سے واقف کرایا جاتا ہے ،سوال کرنے کی اجازت کم ہی ہوتی ہے ،تنقید کرنے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ایسے میں اگر ایک ہزار مظلوموں کو دس پندرہ دن آپ مہمان بنالیں گے تو کون سا احسان کریں گے ۔حج کو جس طرح آپ نے سعودی معیشت کے استحکام کے لیے استعمال کیا ہے،حج جس سے آپ کھربوں ڈالڑ کمارہے ہیں ،اس میں سے چند سکے نان و شوربہ پر خرچ کرہی دیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔اس سے زیادہ تو آپ کے حمام کا خرچ ہے۔اہل غزہ کے حج کا اعلان کرکے آپ اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں ۔اور عام مسلمانوں پر اپنے تقویٰ ،پرہیز گاری ،فلسطین سے اظہار ہمدردی جتانا چاہتے ہیں ۔مظلوم فسلطینوں کے حج کا اعلان تو ایک ماہ قبل بھی کیا جاسکتا تھا ،اس لیے کہ حج کا پروسس لئی ماہ قبل شروع ہوچکا ہے اور غزہ میں شہداء کے وارثان بھی گزشتہ ایک سال سے بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔لیکن ٹرمپ کے جانے کے بعد جس طرح حق پرستوں کی دنیا میں آپ کی رسوائی ہوئی اس خفت کو مٹانے کے لیے آپ نے یہ اعلان اپنی دانست میںمناسب وقت پر کیا ہے ۔
آخر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ عرب دنیا کھل کر فلسطین کے حق میں کیوں نہیں کھڑی ہوتی ۔چند دن پہلے 23ممالک نے اسرائیل کے خلاف ایک قرارداد پاس کی ہے ،جس میں سخت الفاظ میں اس سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ،لیکن ان میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے ۔غزہ کے مظلومین دانے دانے کو محتاج ہیں ،ہمارے ستاون اسلامی ممالک گندم کا ایک دانہ بھی ان تک پہنچانے سے کیوں قاصر ہیں ؟کیا ان کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر وہ فلسطین کی حمایت کریں گے تو امریکہ ناراض ہوجائے گا اور ان پر بمباری کردے گا ۔یہ خطرہ لبنان کے حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں کو کیوں نہیں ،یہ خطرہ ایران کو کیوں نہیں ہے ،یہ خطرہ یورپین ممالک کو کیوں نہیں ہے ؟یمن کے حوثیوں نے امریکہ کے مظالم برداشت کیے ،اس کے جدید جنگی طیاروں کا مقابلہ کیا ،لیکن فلسطین کی حمایت سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے اور تاریخ کی آنکھوں نے دیکھا کہ دنیا کی سپر پاور نے ایک قلیل گروہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور بغیر اسرائیل کو اعتماد میں لیے حوثیوں سے سیز فائر کرلیا گیا۔جس اسرائیل کی حمایت میں امریکہ نے حوثیوں پر بمباری کی تھی ،آج اسی اسرائیل پر حوثیوں کے میزائل اور بم گرتے دیکھ رہا ہے لیکن کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔
درا صل عرب حکمرانوں کو خطرہ امریکہ یا برطانیہ سے نہیں ہے بلکہ اسلام کے جہادی نقطہ نظر سے ہے ،اسلام کے سیاسی نظام کی باز گشت سے ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر فلسطین میں حماس ،یمن میں حوثی ،لبنان میں حزب اللہ ،مصر و شام میں اخوان المسلمین بر سر اقتدار آگئے تو ان کی ظالمانہ شہنشاہیت بحیرہ عرب میں ڈوب جائے گی ۔اسی لیے وہ کسی ایسی جدوجہد کی حمایت نہیں کرتے جس کا منتہا خلافت راشدہ کا احیاء ،یا اسلام کے سیاسی جمہوری نظام کو قائم کرنا ہو۔اپنے اس جرم عظیم کا ازالہ وہ قرآن پاک تقسیم کرکے ،لوگوں کو مفت حج کراکے ،یا غریب ممالک میں قربانی کا گوشت پہنچا کرکرتے ہیں ۔ ان کے دل میں نفاق ہے ۔یہ اسلام کا نام اپنے مفاد کی خاطر لیتے ہیں ۔یہ اسلام دشمن طاقتوں کے جگری دوست ہیں ۔اس لیے کہ وہ اسلام پسندوں کو کچلنے میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔ورنہ اور کون سی وجہ ہے جو ان کو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت سے روکے ہوئے ہے ۔عرب ممالک کے پاس فضائی جنگی طیارے بھلے ہی نہ ہوں لیکن ان کے پاس مال بردار طیارے تو ہیں ،جن کے ذریعہ وہ غزہ میں خوردنی اشیاء کے پیکٹ گراسکتے ہیں ۔
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ فلسطینیوں نے ایسا کونسا گناہ کرلیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم نہیں کررہا ہے ،ان کی دعائیں قبول نہیں کررہا ہے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حماس نے سات اکتوبر 2023کو اسرائیل پر حملہ کرکے بڑی غلطی کی تھی ۔یہ دونوں باتیں غلط انداز فکر کا نتیجہ ہیں ۔حماس نے قابض مملکت کے سو سالہ مظالم کے بعد پہلی بار اقدامی پوزیشن اختیار کی تھی ،ورنہ اس سے پہلے آزادی فلسطین کی تحریک کے جیالے دفاعی جنگ ہی لڑتے آئے تھے ،وہ بھی توپوں اور گولیوں کے جواب میں پتھر مارتے تھے ۔اگر حماس یہ اقدام نہ کرتا تو عرب ممالک بشمو ل سعودی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے والے تھے اور فلسطین کے قضیہ سے دست بردار ہونے والے تھے ۔جس کاثبوت ان کا حالیہ رویہ ہے ۔اگر ایسا ہوجاتا تو پھر تاقیامت قبلہ اول کی آزادی مشکل تھی (مستقبل کا درست علم تو اللہ ہی کو ہے )۔غزہ کے حریت پسندوں کو اللہ کی تائید و حمایت حاصل ہے ،مگر ہمیں اس کا شعور نہیں ہے ۔جو اللہ شہداء کو رزق پہنچاتا ہے ۔وہ بھلا اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کی پشت پناہی سے پیچھے کیسے ہٹ سکتا ہے ۔وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا-بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ(آل عمران۔169)’’اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘‘اٹھارہ ماہ بعدبھی مجاہدین کی فعال موجودگی ،اللہ کی تائید کے بغیر ممکن نہیں ۔اسرائیل اور اس کی حمایتی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود اپنے قیدیوں کا پتہ نہ لگاسکے ،یہ اللہ کی مدد کی کھلی ہوئی دلیل ہے ۔سپرپاور امریکہ کا براہ راست حماس کے ساتھ بات چیت کرنا ،اگر اللہ کی نصرت نہیں تو اور کیا ہے ۔پچیس لاکھ نہتے انسانوں اور صرف پچیس کلومیٹر مربع پر قائم غزہ پٹی پر تمام مظالم کے باوجود قبضہ نہ کرپانا ،کیا اسے آپ اللہ تعالیٰ کی حمایت نہیں کہیں گے ؟اسرائیل کے مظالم کا پردہ فاش ہونا ،اس کے دفاعی نظام کی کمزوریوں کا اجاگر ہونا ،عالمی عدالت سے اس کے خلاف فیصلہ آنا ،پوری دنیا میں اس کے خلاف مظاہرے ہونا ،اس کے دوست ممالک کا ساتھ چھوڑنا اور قضیہ فلسطین کا زندہ ہوجانا کیا فتح کا اشارہ نہیں کررہے ہیں ۔میں پورے حزم و یقین سے کہتا ہوں کہ فلسطین ایک دن آزاد مملکت بنے گی اور بیت المقدس کے دروازے تمام مسلمانوں کے لیے ضرور کھلیں گے ۔ان شاء اللہ
امتحان و آزمائش صرف اہل فسلطین و اہل غزہ کی نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کی ہے ۔ابھی فتح مبین اس لیے رکی ہوئی ہے کہ بہت سے چہرے بے نقاب ہونے باقی ہیں ۔آل سعود بے نقاب ہوگئے ،امارات کے سلطان کا پردہ فاش ہوگیا ۔لیکن مصر اور اردن کا سکوت نہیں ٹوٹا،شام کے نئے حکمرانوں کے نیتیں کھل کر سامنے نہیں آئیں،ابھی مزید ممالک کے چہرے کھلنے باقی ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں ،اہل غزہ کو حج کی نہیں غذا اور تحفظ کی ضرورت ہے ۔ضرورت ہے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کی جائے ،ظالموں سے ہر قسم کے رابطہ منقطع کیے جائیں ۔منافقانہ رویہ ترک کرکے خالص اسلام کی علم برداری کی جائے ۔موت بستر پر آئے یاجدو جہد کے میدان میں ،ایک دن توضرورآنی ہے ،کیا ہی اچھا ہو کہبستر کے بجائے میدان میں آئے تاکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سرخ رو ہواجاسکے ۔ میں اہل غزہ اور مظلوم فلسطینیوں سے پر امید ہوں کہ وہ خادم الحرمین کے اس آفر کو ٹھکراکر غیرت و حمیت کا ثبوت دیں گے ۔
