از قلم: امام علی فلاحی
ریاست گجرات کا قدیم دارالحکومت شہر احمدآباد، جو کبھی امن و تجارت اور تہذیب کے گہواروں کی وجہ سے اخباروں کی سرخیوں میں ہوا کرتا تھا، وہی شہر احمد آباد آج کل خبروں میں کسی اور وجہ سے بھی ہے۔
احمد آباد کا وہ گوشہ، چنڈولا، جہاں کبھی اذان کی صدا گونجتی تھی، جہاں بچوں کی ہنسی گلیوں میں بکھرتی تھی، آج وہی گلیاں خاموش ہیں، گرد و غبار میں چیخیں لپٹی ہیں، اور زمیں پر بکھری ہوئی امیدیں ہیں، کیونکہ آج اسی احمد آباد کے گوشہ (چنڈولا علاقے) میں غریبوں کے گھروں کو بلڈوز کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ گذشتہ روز منگل کو پولیس نے گجرات کے احمد آباد کے چنڈولا علاقے میں غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے لیے مہم کا دوسرا مرحلہ شروع کیا اور ڈھائی لاکھ مربع میٹر سے زیادہ کے علاقے میں مسماری شروع کی گئی۔
چنڈولا، جو کہ ایک قدیم اور گنجان آباد علاقہ ہے، جہاں برسوں سے لوگ آباد تھے، جن میں سے اکثر کا تعلق کمزور طبقوں سے تھا، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر چھوٹے چھوٹے مکانات بنائے تھے۔ اچانک انتظامیہ کی جانب سے بغیر کسی پیشگی نوٹس یا مناسب قانونی کارروائی کے گھروں کو بلڈوز کر دینا نہ صرف غیر انسانی قدم ہے بلکہ آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک تقریباً 7000 مسلمانوں کے گھر مسمار کردیے گئے صرف اس الزام میں کہ وہ سب بنگلہ دیشی تھے۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ صرف اینٹوں، لکڑیوں یا صرف چھتوں کی ہی تباہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ امیدیں، خواب، اور انسانی وقار بھی زمین بوس ہو گئی ہیں۔
ذرا سوچو تو سہی! ایک ماں جس کی آنکھوں کے سامنے اس کا آشیانہ مٹی کا ڈھیر بن جائے، ایک بچہ اپنی کتابیں ملبے سے نکالنے کی کوشش کرے، ایک بوڑھا باپ اپنی چھت کے بغیر مسجد کے سائے میں بیٹھ کر آسمان کی طرف تکتا رہ جائے تو پھر یہ مناظر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں رہ جاتے۔
جون ایلیا کے الفاظ یاد آتے ہیں کہ:
"گھر کی تباہی دیکھ کر، کچھ لوگ خاموش ہو گئے،
کچھ نے کہا، یہ حادثہ ہے، کچھ نے کہا، یہ سازش ہے”
ارے! ان ماؤں کا دکھ کون سمجھے گا جو اپنے بچوں کو لے کر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ گئیں؟ ان بزرگوں کے آنسو کون پونچھے گا جنہوں نے جوانی کی عمر ان دیواروں میں گزاری تھی؟ یہ دیواریں صرف اینٹ اور گارے کی نہیں تھیں یہ خوابوں، دعاؤں، اور سجدوں کی گواہ تھیں۔ جنہیں بلڈوزر نے بےرحمی سے روند دیا۔
"ہم کو اُن سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے”
(فیض احمد فیض)۔
آج عدالت خاموش ہے، سیاست بے نیاز ہے، میڈیا مصروف اور انسانیت شرمندہ ہے۔
یاد رکھو اگر آج چنڈولا کی مسماری پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کوئی اور محلہ، کوئی اور گھر اسی طرح مٹ جائے گا۔
