بسوا کلیان میں ناقص انتظامات کی وجہ سے کسانوں, تجارت پیشہ عوام اور غریب عوام کو نقصانات اس کا ذمےدار کون?
بسوا کلیان: (محمد نعیم الدین کی خُصوصی رپورٹ): بسوا کلیان میں زوردار بارش سے نالے اور چھوٹے نالیاں کچرے سے بھر گئے ۔
جس کی وجہ سے بارش کا پانی روڈ پر جمع ہوا, اور محلوں کے چھوٹی چھوٹی گلیوں اور گھروں میں تالاب کی شکل بن گیا, حالات ایسے بن گئے کہ راہگیروں اور عوام کو راستے سے گزرنا بہت مشکل ہوا ۔یہ ہر سال ایسا ہوتاہے جب بھی زوردار بارش ہوتی ہے ایسا ماحول بن جاتاہے ۔۔ بسوا کلیان شہر کے مین راستے اللہ نگر کراس روڈ، اور بس اسٹینڈ کا مُکمل علاقہ بارش کے پانی سے تالاب اور جھیل شکل ہوگیا تھا ۔بس اسٹینڈ کے پیچھے کی کالونی کے رہائشیوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ بن جاتاہے, کیونکہ پانی کا نکلنا ہی نہیں تھا اسلئے گھروں میں پانی بھر گیا تھا ۔ اسکے علاوہ شاہ حسین و محبوب نگر کے عوام کو بھی گھر سے نکلنا انا و جانا دشوار تھا ۔ مسجد رحیم و مدرسہ عربیہ اِبراھیم کے اطراف علاقہ بھی پانی سے بھر گیا تھا عوام اپنی گاڑیوں کے ساتھ روڈ کے دونوں جانب ٹھرے رہے, تین چار گھنٹے انتظار کے بعد پبلک کو گزرنا پڑا ۔
آپ کو جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ بسوا کلیان شہر ایک تاریخی شہر ہے یہاں پر مذہبی شخصیات نے سماجی اور مذہبی ماحول بنانے میں بہت ہی اچھا رول کیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست کرناٹک میں بسوا کلیان کا بہت بڑا مقام ہے اور مقدس مقام کی حیثیت ہے۔ اس کے علاوہ
دُنیا کی عظیم پارلیمنٹ بسوا کلیان میں 650کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہورہی ہے اور شہر بسوا کلیان کو بہت ہی پاک و صاف کے علاوہ روڈ, نالیاں, ڈرینج, لائٹ اور راستے سب کُچھ ٹھیک ٹھاک سے ہونا چاہیئے مگر سونچنے اور غور کی ضرورت ہے کہ اس کا ذمےدار کون?
سرکاری تعلقہ انتظامیہ, بلدیہ بسوا کلیان کا عملہ, اور نمائندہ منتخب شخصیات جس کو عوام الناس اپنا حق رائے دہی دے کر چن کر لاتے ہیں, جو ذمےدار ہیں رکن اسمبلی, کونسلرز, انکی ذمےداری بھی عین الیقین ہے اسکے علاوہ بسوا کلیان کی معزز مذہبی ,سیاسی ,سماجی حضرات جو اپنے تقاریر سے عوام کو ترقی اور صفائی کے لئے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ آخر میں عام جنتا بھی ذمےدار ہیں جس کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں کا ماحول کیسا ہوں, نظم و ضبط اگر بگڑ جاتا ہے قانون کے تحت کیا کرنا ہوتاہے , اس معاملے کو لیکر اگر بلدیہ کا عملہ روز کے معمول کے ساتھ اگر صفائی و ستھرائی کا نظم کرتا ہوتا۔ اور نالی, بڑے نالے, بریج وغیرہ سے کچرا نکالا جاتا اور گھروں سے نکلنے والے کچرے کو روزآنہ اٹھایا جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ بارش کا پانی آسانی سے به کر گزرتا ہے ۔اس کے لیۓ بلدیہ کے منتخب نمائندوں کو چاہیئے کہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے بہتر کام کی طرف توجہ دیں ,
بسوا کلیان کی عوام کی طرف سے ضلعی انتظامیہ, اور تعلقہ آفیسرز, اور بلدیہ کے ذمےدار افراد سے مطالبہ کیا جاتاہے کہ اس طرف توجہ دیں اور بسوا کلیان کے عوام کو بہتر نظم کے ساتھ ماڈل سٹی کا ماحول دیں۔

