بیجاپور کے عادل شاہی حکمرانوں نے دکنی زبان کو راج بھاشا کا درجہ دیاتھا
بیدر۔ 29؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): یہ اطلاع سوشیل میڈیا پر دی گئی ہے کہ’’ ڈاکٹر عمارہ علی کشمیری زبان میں امریکہ سے Phdکرنے والی پہلی خاتون بنیں‘‘اہل ِ دکن کیا اس اطلاع سے کچھ نصیحت اور سیکھ لے سکتے ہیں ؟کیاوہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ وہ بھی امریکہ سے کشمیری نہ سہی دکنی زبان میں Phdکرنا پسند کریں گے ؟اگرذہن میں یہ منفی سوچ ہے کہ دکنی زبان کاقطعہ چھوٹا ہے تو بتلادوں کہ کشمیری زبان تو ایک ہی ریاست کشمیر میں سمٹی ہوئی ہے جب کہ دکنی زبان ایک پورے علاقہ دکن پر آج بھی چھائی ہوئی ہے۔پورے کروفر کے ساتھ بولی جاتی ہے۔ جس کی اپنی پہچان ہے ۔سوچئے کہ ۔۔۔۔۔ امریکہ سے نہ سہی ،آپ اور مجھ میں سے کوئی خود’’ دکن‘‘ سے دکنی زبان میں Phdکرنے کی سوچ سکتاہے ؟ جب کہ دکنی ہمارے علاقے کی مادری زبان ہے۔ بیجاپور کے عادل شاہی حکمرانوں نے دکنی زبان کو اپنی راج بھاشا کا درجہ دیاتھا۔ آج بھی دکنی زبان شعراء کے یہاں لکھی جاتی ہے ۔ جبکہ دکنی زبان کو بولنے والی عوام کثرت سے ہے۔ اور بلاشبہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ دکنی بولتے ہیں اور اس زبان پر فخر کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔کسی شاعر نے کیاخوب کہاتھا (ترمیم کے ساتھ) ؎
تو دکنی ہے نا دکنیچ بول
تجھے کیا پڑی تو اپنیچ بول
ہم دکن کے مسلمانوں نے شمالی ہند کے مسلمانوں کی طرح رومن انگریزی کواپنالیا۔ یہ مسلمانوں کی ایک نئی زبان ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ بقول شخصے پبلشروں نے پیسے کمانے کی نیت سے رومن انگریزی میں قرآن کاترجمہ بھی شائع کردیا۔ روزنامہ ’’سیاست ‘‘ حیدرآباددوراندیشی دکھاتے ہوئے رومن انگریزی کے لئے پوراایک صفحہ مختص کئے ہوئے ہے۔اب اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوکہ مسلمانوں میں تیزی سے پلنے بڑھنے والی سوشیل میڈیائی زبان رومن انگریزی ہے، (انگریزی نہیں )۔ دوسری جانب دکن میں قریب قریب ایک ہزار سالہ دکنی زبان بولی تو جاتی ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہایت ہی کم ہے۔ ہماری اہل دکن کے دانشوروں، سیاست دانوں ،اور ارباب مجاز سے گزارش ہے کہ وہ دکنی زبان کو فروغ دیں۔ دکن کے اردو اخبارات اپنے یہاںروزانہ ایک یاآدھا صفحہ دکنی زبان کے لئے مختص کریں۔ مصنفین ، شعراء اور ادیب دکنی زبان میں اپنی نگارشات اور انشاء پردازاپنی انشاپردازی کے جوہر دکھائیں۔ آج کا پیغام یہی کچھ ہے ؎
شہد سی بولی ہے دکنی بھی
لکھنا خود اور لکھوا دینا

