بیدر۔ 9؍جون (پریس نوٹ): یاران ادب بیدر اور کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کی پریس نوٹ کے مطابق اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، افسانہ نویس، افسانچہ نگار، نقاد اور خاکہ نویس جناب محمدیوسف رحیم بیدری (شاعرانہ نام میرؔبیدری) کی بیک وقت تین کتابیں شعری مجموعہ ’’دکنی‘‘ ، حضرت رشید احمد رشید ؔ کے فکروفن پرمشتمل مختلف تحریریں بنام ’’لَے‘‘ اور افسانچوں کامجموعہ ’’واخا‘‘ عیدالاضحی کے تیسرے دن یعنی آج 9؍جون کو بفضلِ الٰہی منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ شعری مجموعہ ’’دکنی‘‘ دراصل دکنی زبان کا میرؔبیدری کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔جس کاانتساب دکنی شعراء حضرت سلیمان خطیبؔ، دیسی بخاری، بگڑرائچوری، ڈھکن رائچوری، فرید ؔانجم ، پاگل عادل آبادی ، سرورڈنڈاؔ، حمایت اللہ ، علی صائب میاں ، گلیؔ نلگنڈوی، عظمت بھلاواں ؔ، مرزا اٹکلیؔ، پرویزدھمڑی، فیض الرحمن فیض ؔ، شمشیرکوڑنگلی اور یوسف بنگلوروی جیسے مرحوم شعراء کی دکنی شاعری کے نام کیاگیاہے۔ جس کا مقدمہ ڈاکٹر ماجد داغی ؔ نے تحریر کیاہے۔ دیگر لکھنے والوں میں علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے مایہ ناز شاعر اور افسانہ نگار ڈاکٹر انجم شکیل احمد (مدینہ منورہ)، ملک گیرشہرت یافتہ افسانہ نگارمحترمہ رخسانہ نازنین ،جواں سال انشائیہ نگار سخاوت علی نظامی، جناب عارف مرزا گلبرگہ شریف، اور جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ شامل ہیں۔ اس شعری مجموعہ میں دکنی حمد، دکنی نعت، دکنی منقبت، دکنی غزل اور دکنی نظموں کے علاوہ دکنی قطعا ت اور بیت شامل ہیں۔ 160صفحات کی اس کتاب میں دکنی لغات بھی شامل کی گئی ہے۔ شاعرحیات، فخرِ کرناٹک اور استاد الشعراء حضر ت رشید احمد رشید ؔ کی وفات 3؍جنوری 1986؁ء کو بیدر ہی میں ہوئی ۔ بیدر کا یہ باکمال شاعر گذشتہ 39سال سے یادرکھاگیاہے۔ موصوف کاایک شعر زبان زد خاص وعام ہے ؎

مرقد پہ بن رہے ہیں گراں قدر مقبرے
شاعر کو زندگی میں کہاں پوچھتے ہیں لوگ

ان کی وفات کے 39؍سال بعد ان کے فکروفن پر پہلی کتاب ’’لَے‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے جس کے محقق ومرتب محمدیوسف رحیم بیدری ہیں۔ اس کتاب کا انتساب حضرت رشید احمد رشید ؔ سے وابستہ ان کے مرحوم مردان کارجناب سید اسداللہ علوی ، حکیم مرزا محمد بیگ محمودی رمزؔ، جناب محسن کمال ؔ، جناب محمدظفراللہ خان مرحوم اورجناب توفیق احمد مرحوم کے علم اور اخلاص کے نام کیاگیاہے۔ 160صفحات کی اس کتاب میں رشید احمد رشید ؔ کی نثری تحریریں شامل ہیں ۔اسی طرح دیگر لکھنے والوں میں مرحوم محسن کمال، نثاراحمد کلیم ، ڈاکٹر انیس ہاشمی ، محمدیوسف رحیم بیدری ، ڈاکٹر حشمت فاتحہ خوانی ، صابر ؔرشیدی وغیرہ کی تحریریں شامل ہیں۔ تیسری کتاب محمدیوسف رحیم بیدری کے افسانچوں کا مجموعہ ’’واخا‘‘ ہے۔جس کاانتساب اردو کے خاموش خدمت گار محمد نعیم الدین چابکسوارکی اردو شخصیت کے نام ہے۔ جس کامقدمہ ڈاکٹر محمد شمس الدین حکیم لیکچرر گورنمنٹ کالج چنچولی نے تحریر کیاہے۔ لکھتے ہیں۔ ’’واخا‘‘ یوسف رحیم صاحب کے افسانچوں کاتیسرامجموعہ ہے۔ واخا فنی خوبیوں کے اعتبارسے عمدگی اور پختگی کامظہر ہے۔ ’’واخا‘‘ میں موضوعات کا تنوع ہے جس کااحاطہ کرنا ناممکن ہے۔ یہ کتاب بھی 160 صفحات ہی کی ہے۔ جس میں محمدیوسف رحیم بیدری کے ڈھیروں افسانچے پڑھنے کوملیں گے۔
تینوں کتابوں کے حصول کے لئے ذکریٰ بک ڈپو بسواکلیان ۔ 8217736313 اور الجمیل پرفیومری رٹکل پورہ بیدر 8867818382 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے