بیدر۔ 10؍جون (پریس نوٹ): اُردوادب کی تین کتابوں دکنی زبان کا شعری مجموعہ ’’دکنی‘‘، حضرت رشید احمد رشید ؔ کے فکروفن پر کتاب ’’لَے‘‘ اور افسانچوں کامجموعہ ’’واخا‘‘ کے منظرعام پر آنے کی مسرت میں مذکورہ کتابوں کے شاعر، محقق ومرتب اورافسانچہ نویس محمدیوسف رحیم بیدری کوآج 10 ؍جون کو تہنیت پیش کی گئی ۔ تفصیلا ت کے بموجب ایم آرپلازا، تعلیم صدیق شاہ بیدر میں محب ِ اردو جناب محمدایوب علی ماسٹرنیڈس نے اپنی جانب سے جناب محمدیوسف رحیم بیدری کی شالپوشی اور گلپوشی کرتے ہوئے تہنیت پیش کی ۔ اور کہا کہ ’’محمدیوسف رحیم بیدری ہمارے علاقے کا ایک معتبر نام ہے۔ اردو کا ایک ایسا جہدکار ہے جس کی خدمات کا اعتراف کرناٹک کے تمام اردو اداروں کوکرنا چاہیے۔خصوصاً دکنی زبان پر میربیدری کی تازہ تناظر والی شاعری ایک نیاباب ہے جس کی طرف پرانی نسل کے ساتھ ساتھ نئی نسل بھی فوری متوجہ ہوگی، میں میربیدری کو مبارک باد پیش کرتاہوں اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے نیک تمنائیں پیش کرتاہوں‘‘جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے جناب محمد ایوب علی ماسٹرنیڈس کا شکریہ اداکیا۔
اس موقع پر شیرینی کی تقسیم عمل میں آئی۔ جناب محمدعمران خان سکریڑی کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بیدر ، محترمہ پریملابائی سکریڑی یاران ِ ادب بیدر ، جناب محمد ابرارالدین اور دیگر موجودتھے۔
