ترتیب وپیشکش: ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن "حج” ہے، جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان دنیا کے مختلف خطوں سے حرمین شریفین کی جانب رُخ کرتے ہیں۔ اس عبادت کا وقت قمری تقویم (اسلامی کیلنڈر) کے مطابق متعین ہوتا ہے، جس کی بنیاد چاند کی گردش پر ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر موسمِ حج مختلف سالوں میں مختلف موسمی حالات میں آتا ہے۔
حال ہی میں سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات (National Center for Meteorology) نے اعلان کیا کہ 1446ھ (2025ء) موسمِ گرما میں حج کا آخری سال ہوگا، اور آئندہ چند عشروں تک حج نسبتاً معتدل یا سرد موسم میں واقع ہوگا۔
موسمی تبدیلی کی سائنسی بنیاد:
قمری سال شمسی سال کے مقابلے میں تقریباً 10 تا 11 دن چھوٹا ہوتا ہے، اس لیے ہر سال حج کی تاریخ میں شمسی تقویم کے لحاظ سے اتنا فرق آتا ہے، اور یوں ہر 33 سال میں حج تمام موسموں کا ایک مکمل چکر پورا کرتا ہے۔
اسی اصول کے تحت:
* حج کے آئندہ 8 سال (2026 تا 2033ء) موسم بہار (Spring) میں ہوں گے۔
* اس کے بعد 8 سال (2034 تا 2041ء) سردیوں (Winter) کے موسم میں۔
* پھر حج کا وقت خزاں (Autumn) کے دوران آئے گا۔
* اور بالآخر تقریباً 25 سال بعد حج ایک مرتبہ پھر موسم گرما (Summer) میں واپس آئے گا۔
(ماخذ: واس – سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ،Gulf News، SamaaTV)
حرارت کی شدت اور صحت پر اثرات:
موسمِ گرما میں حج ادا کرنا ہمیشہ سے جسمانی لحاظ سے ایک مشکل امر رہا ہے، خصوصاً منیٰ، عرفات اور مزدلفہ جیسے کھلے مقامات پر، جہاں سایہ دار جگہیں محدود ہیں۔
* حج 1445ھ (2024ء) میں درجہ حرارت 46 تا 51 درجۂ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
* صرف ایک ہفتے میں 2700 سے زائد زائرین شدید گرمی یا ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوئے۔
* طبی و احتیاطی تدابیر کے باوجود بڑی عمر یا بیمار افراد کے لیے موسمِ گرما ایک انتہائی خطرناک چیلنج بن جاتا ہے۔
آنے والے حج کے لیے امید افزا پیش رفت:
مرکزی موسمیاتی ادارے کے ترجمان حسین بن محمد القحطانی نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ آنے والے برسوں میں ایک ایسا دورانیہ ہوگا جہاں حاجیوں کو زیادہ معتدل، آرام دہ اور محفوظ موسم میسر آئے گا۔”
(ماخذ: واس – Saudi Press Agency)
* اس اعلان کے بعد سعودی حکومت اور ادارہ جات کو موسم کے لحاظ سے حج کی منصوبہ بندی میں تنوع لانے کا موقع ملے گا۔
* گرمی سے متعلقہ احتیاطی اخراجات، انتظامی مشینری اور ہنگامی طبی نظام میں وقتی کمی آئے گی۔
چونکہ موسم کی یہ تبدیلی حاجیوں کے لیے خوش آئند ہے اور اس سے حج کی ادائیگی نسبتاً آسان اور پر سکون ہوگی۔
1. اس لیے اس سیناریو میں حکومت سعودی عرب کو:
* ان موسموں میں حج کے مزید کوٹے کا جائزہ لینا چاہیے۔
* ماحولیاتی تحقیقی مراکز کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہیے تاکہ مستقبل کے حج موسمی اعتبار سے بہتر طریقے سے منظم کیے جا سکیں۔
2. اسلامی دنیا میں حج کے سلسلے میں عوامی آگاہی مہمات کو ان موسموں کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے۔
حج کا سفر محض ایک جسمانی عبادت نہیں بلکہ روحانی تجدید، اجتماعی وحدت، اور انسانی صبر و شکر کا عظیم ترین مظہر ہے۔ موسم کی شدت اگرچہ ہمیشہ اس آزمائش کو دوچند کرتی رہی، لیکن اب ایک نئی فضائے سکون، تازگی اور سہولت کی جانب ہم قدم بڑھا رہے ہیں۔ موسم بہار، سردی اور خزاں کی لطافتیں نہ صرف حجاج کے جسم و جان کو راحت بخشیں گی بلکہ ان کے روحانی تجربے کو بھی نئی گہرائی عطا کریں گی۔
یہ موسمی تبدیلی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت ایک متحرک دائرہ ہے، اور شریعت کی حکمتِ بالغہ ہر دور کے تغیر کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم ان سائنسی اشارات کو محض خبر کے طور پر نہ لیں بلکہ مستقبل کے حج انتظامات، تربیتی نظامات اور عوامی شعور کو نئے تناظر میں استوار کریں۔
شاید اگلی نسلیں حج کو جس آسانی، اعتدال اور آرام سے ادا کریں گی، وہ ہمارے لیے ایک خواب کی مانند ہو۔ لیکن وہ خواب اب حقیقت کے بہت قریب ہے… اور یہ صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ رحمت کا نیا دریچہ ہے جو آسمانِ عبادت پر کھلنے جا رہا ہے۔
