بیدر۔ 16؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): بیدر ضلع آج بھی اُردو زبان وادب کی نعمتوں سے مالا مال ہے۔ یہاں سینکڑوں سرکاری اور خانگی اُردو اسکول موجود ہیں۔ جن کا اپناتعلیمی مظاہرہ قابل قدر اور قابل تقلید بھی ہے۔ مثلاً بیدر کاشاہین ادارہ اُردو بنیاد ادارہ ہے۔ یہاں کے اردو طلبہ آج بھی ہندوستان کے علاوہ بیرون ملک میں اردو کانام روشن کررہے ہیں۔ اسی طرح بیدر ضلع کے سرکاری اُردو اسکولوں کے طلبہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات یہاں تک کہ آسٹریلیامیں اچھے عہدوں پرفائز ہیں۔ اسی بیدر میں جناب محمد نظام الدین اردو پینٹر بھی ہیں، جو اعلیٰ تعلیم یافتہ یعنی بی ایس سی ، بی ایڈ ہونے کے باوجود وہ اردو کی محبت میں دوکانوں کے بورڈ پر اردو لکھتے ہیں۔ پینٹ کے ذریعہ اردو لکھنے کارواج اردو تہذیب کو بڑھاوادے گا۔ جب کہ کمپیوٹر کے ذریعہ اردو لکھ کربورڈ بنانا عام بات ہے ۔ کمپیوٹر کی لکھائی بھی اردو زبان کے زندہ ہونے کاثبوت ہے لیکن اپنے ہاتھوں سے اُردو لکھنا ایک فن ہے ، آرٹ ہے۔اورا گر پینٹنگ کے ذریعہ اردو لکھی جائے تو یہ ایک نہایت مشقت کا کام ہے۔ جس شخص کو اردو سے واقعی محبت ہوگی وہی یہ مشقت بھرا کام کرسکتاہے۔ اردو پینٹنگ اور خطاطی جیسے آرٹ کو زندہ رکھنے کی آج سخت ضرورت ہے جس کی طرف اہل اردو ، اورمحبانِ اردو کوتوجہ دیناہوگا۔ اسی طرح حکومت کرناٹک کے محکمہ اقلیتی بہبود میں واقع کرناٹک اردو اکادمی کابھی فریضہ ہے کہ وہ ریاست کرناٹک کے اردو پینٹروں سے متعلق اپنالائحہ عمل بنائے اور ان کے کام اور فن کوہرسال ایوارڈ سے نوازتارہے۔ کہاجاتاہے کہ کرناٹک کی سدرامیاحکومت اقلیت نوازحکومت ہے ، دیکھنا ہے اس طرف اردو اکادمی کب متوجہ ہوتی ہے ؟اور اہل اردو بھی اردوپینٹروں کی طرف کتنا التفات کرتے ہیں؟ نوجوان پینٹر نظام الدین سے 7795803338پررابطہ کیاجاسکتاہے۔
