جمعیت علماء کے اجلاس میں تحفظ مدارس پر غور و فکر
سہارنپور (احمد رضا): جمعیت علماء اتر پردیش کے زیر اہتمام تحفظِ مدارس کنونشن کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں مغربی اتر پردیش کے 10 اضلاع کے مدارس سے وابسطہ ممتاز دینی، علمی اور قانونی شخصیات نے شرکت کی اس اجلاس کا مقصد مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ، ان کے آئینی و قانونی حقوق اور موجودہ چیلنجز پر غور و خوض کرنا تھا دو روز قبل میرٹھ میں ہوئے پر وقار اجلاس کی صدارت حضرت مولانا عباس صاحب، مہتمم جامعہ محمودیہ میرٹھ و صدر جمعیت علماء ہند ضلع میرٹھ نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر حضرت مولانا سید اشہد رشیدی، صدر جمعیت علماء ہند اتر پردیش و مہتمم جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد نے شرکت فرمائی۔ اجلاس میں خصوصی خطاب ایڈوکیٹ مولانا سید کعب رشیدی لیگل ایڈوائزر جمعیت علماء اتر پردیش نے کیا اپنے جامع اور مدلل خطاب میں مولانا کعب رشیدی نے کہ۔۔۔۔ مدارس صرف دینی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت اور آئینی آزادی کی علامت ہیں ذ آج بعض طاقتیں مساجد، مدارس اور اسلامی شعائر کو نشانہ بنا رہی ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے !
مولانا كعب رشیدی نے آئینی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ آرٹیکل 25، 29، 30 مذہبی آزادی اور اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا مکمل حق فراہم کرتے ہیں۔
آرٹیکل 15 اور 21 کے تحت بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہیں، جن میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی اگر آئین کی بنیادی ساخت متاثر ہو۔
1991 کے Places of Worship Act کے مطابق، 1947 کے بعد مذہبی مقامات کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے آچاریہ پرمود کرشنم کیس 2023 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مسلمان اپنی ذاتی زمین پر مساجد تعمیر کر سکتے ہیں، اور اس میں حکومت کو مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ مدارس RTE (رائٹ ٹو ایجوکیشن) کے دائرے میں نہیں آتے اور NCPCR کی رپورٹ کہ مدارس بچوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں، سراسر حقائق کے منافی ہے۔ تعلیم کا حق دراصل Right to Choice کے اصول پر مبنی ہے۔
مدارس کی عمارتوں کے قانونی نقشے پر زور
اجلاس میں مدارس کے نقشہ جات اور ان کی قانونی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ علما و منتظمین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی مدرسہ عمارتوں کے نقشے مقامی بلدیاتی اداروں سے منظور کروائیں تاکہ آئندہ کسی قانونی رکاوٹ یا حکومتی مداخلت سے بچا جا سکے۔
اخیر میں حضرت مولانا سید اشہد رشیدی صاحب نے علماء و ذمے داران مدارس سے اصلاحی گفتگو کی ۔
اپنے رشتے کو اپنے رب سے مضبوط کر لیں پریشانیاں چھنٹ جائیں گی آسانیاں کامیابیاں قدم بوس ہوں گی اس موقعے پر مولانا مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نانکوی ناظم جمعیت علماء ضلع سہارنپور مولانا عبد الرحیم مولانا مفتی رضوان قاسمی ناشر العلوم پانڈولی مولانا مفتی عثمان قاسمی استاذ حدیث جامعہ رحمانیہ للبنات کا تعاون اور شرکت قابل ذکر رہی!

