نمایاں طلبہ و طالبات میں انعامات و اسنادات کی تقسیم

ظہیرآباد، 30 جون (مشرقی آواز جدید): مدرسہ عائشہ نسواں ظہیرآباد کے زیرِ اہتمام "مقابلہ دینیات” کی پُروقار اختتامی تقریب برائے تقسیمِ انعامات و اسنادات منعقد ہوئی، جس میں مختلف مدارس و اداروں کے منتخب طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی مولانا ڈاکٹر ایاز حسین سبیلی صاحب کے ہاتھوں اسنادات کی تقسیم عمل میں آئی، جبکہ حافظ عبدالقادر ناظم مدرسہ، مفتی نذیر احمد حسامی اور محمد یونس بھائی نیال کل کی جانب سے کامیاب طلبہ و طالبات میں خصوصی انعامات تقسیم کیے گئے۔
تقریب میں گروپ A کے طلبہ و طالبات میں عبدالملک اطہر ولد محمد لئیق احمد (اسکول کوہیر) نے انعام اوّل، امت الرحمن سلمیٰ بنت محمد لئیق احمد (مدرسہ عائشہ نسواں کوہیر) نے انعام دوم، اور عبدالرحمن ولد محمد صلاح الدین (مدرسہ ظہور العلوم، علی پور) نے انعام سوم حاصل کیا۔ اس گروپ میں مہوین فاطمہ بنت محمد قاسم علی (مدرسہ حسین دارالتجوید، ظہیرآباد) اور سدرہ تمکین بنت محمد ذاکر (جامعہ حبیبہ نسواں، جھرہ سنگم) کو ترغیبی انعامات دیے گئے۔ گروپ B میں امت الکریم فاطمہ بنت محمد لئیق احمد (مدرسہ عائشہ نسواں) نے انعام اوّل، محمد انصار ولد محمد عظمت علی (مدرسہ اسلامیہ اکبر العلوم، ظہیرآباد) نے انعام دوم حاصل کیا، جبکہ انعام سوم حاصل کرنے والوں میں محمد فیض الدین ولد محمد فخر الدین مدرسہ اسلامیہ اکبر العلوم ظہیر اباد، صائمہ اقرا بنت محمد زاہد علی (حنفیہ للبنات، ظہیرآباد)، سمینہ فاطمہ بنت محمد غلام دستگیر (مولانا آزاد ماڈل اسکول، بیدر)، اور ارم فاطمہ بنت محمد علیم الدین (مدرسہ حسین دارالتجوید، ظہیرآباد) شامل رہیں۔ اسی گروپ میں خضرا بیگم بنت محمد اسماعیل (مدرسہ عائشہ نسواں، پستہ پور) کو ترغیبی انعام دیا گیا۔ گروپ C میں سمیہ فاطمہ بنت عبدالرحیم (مدرسہ عائشہ نسواں، کوہیر) نے انعام اوّل، صوفیہ بیگم بنت محمد منصور (مدرسہ عائشہ نسواں، کوہیر) نے انعام دوم، جبکہ عشرت بیگم بنت عبدالرحیم (مدرسہ عائشہ نسوان ، کوہیر)، روبینہ بیگم بنت محمد ساجد علی (مدرسہ علوم القرآن، ظہیرآباد)، اور روضہ رحمت بنت عبدالولی (گورنمنٹ ڈگری کالج، ظہیرآباد) نے انعام سوم حاصل کیا۔
طلبہ و طالبات نے اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دینیات کے اس مقابلے نے ہماری تعطیلات کو ضائع ہونے سے بچا کر ایک قیمتی روحانی تجربے میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی نذیر احمد  کی ترتیب دی گئی دینیات کی کتاب نے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو دین کی بنیادوں سے جوڑ دیا، اور ہمیں یہ سکھایا کہ دینِ اسلام نہایت آسان اور قابلِ عمل ہے۔ تقریب کی نظامت مولانا محسن اشاعتی  نے کی، اور حافظ جنید احمد خیری  نے نعتِ رسول ﷺ پیش کر کے روح پرور فضا قائم کی۔
مفتی نذیر احمد حسامی  نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اس مقابلے میں انصاف کا مکمل خیال رکھا گیا، کسی بھی قسم کی جانبداری نہیں کی گئی، اور ہر طالب علم کو اس کی محنت کے مطابق نمبرات دے کر انعامات دیے گئے۔ اس بابرکت موقع پر حافظ لئیق احمد کوہیر، حافظ فہیم الدین علی پور، مفتی عبید الرحمن قاسمی، حافظ محمد اکبر، عبدالقدیر اکبر بھائی (پستہ پور) سمیت دیگر معزز شخصیات کی موجودگی نے تقریب کو مزید مؤثر اور یادگار بنا دیا۔ مقابلے کے تمام سوالات عالمہ حبیب النساء اور عالمہ ضوفشاں نے ترتیب دیے تھے، اور اورل ایگزام عالمہ صفورہ صدیقہ عالمہ سمیہ عالمہ ثنا اور عالمہ شاہین نے لیا تھا، جبکہ گوگل میٹ کے ذریعہ آن لائن تیاری حافظ محمد فہیم الدین اور عالمہ سمیہ فاطمہ  کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ آخر میں مفتی نذیر احمد  اور ناظم مدرسہ حافظ عبدالقادر  خیری نے تمام اساتذہ، معاونین، سرپرستوں، علماء اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دینی روایت کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے