مضمون نگار:……………ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

علم و فن اور درس و تدریس کی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے وجود سے درسگاہوں کو وقار ملتا ہے اور جن کے فیضانِ علم سے نسلیں سنورتی ہیں۔ ان کے علم کا نور صرف درس و تدریس کے دائرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کی علمی و روحانی تاثیر طلبہ کے قلوب و اذہان پر اس طرح مرتسم ہوجاتی ہے کہ وہ عمر بھر ان کے فیضانِ صحبت کو یاد رکھتے ہیں۔ مولانا برہان الدین سنبھلی ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ہے جو فن تدریس میں کمال رکھتے تھے۔
مولانا محمد برہان الدین سنبھلی، ایک مشہور اسلامی اسکالر، فقیہ، ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سابق شیخ التفسیر، سابق صدر قاضی کونسل مرکزی دارالقضاء اتر پردیش، سابق صدر مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ۔وہ 5 فروری 1938 کو سنبھل ضلع مرادآباد، یو پی میں پیدا ہوئے، طویل عرصہ تک علمی، فقہی، دینی و اصلاحی میدان میں خدمات انجام دیں۔ بالآخر 17 جنوری 2020 کو 83 برس کی عمر میں لکھنؤ میں وفات پائی۔ مولانا سنبھلی کی شخصیت ہمہ جہت تھی- وہ تقریر، تحریر، اور تجوید پر ید طولیٰ رکھتے تھے- وہ بیک وقت مفسر قرآن، محدث، فقیہ، مقرر اور مجود بھی تھے- مولانا ایک جید حافظ اور عمدہ مقری تھے-مولانا ہر بات مدلل طریقے سے پیش کرتے تھے۔
تعلیم: انہوں نے بنیادی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور 1957 میں دارالعلوم دیوبند سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ ان کے والد قاری حمید الدین، ایک معروف اسلامی اسکالر تھے۔ ہندوستان کے ممتاز عالموں کی ایک کہکشاں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا سید فخرالدین احمد، علامہ ابراہیم بلیاوی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب، مولانا معراج الحق، مولانا حبیب احمد اسرائیلی سنبھلی، مولانا سنبھلی کے روحانی اساتذہ تھے۔
درس و تدریس: دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی میں استاد مقرر ہوئے۔ اور انہوں نے وہاں تقریباً 12 سال خدمات انجام دیں۔ 1970ء میں مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی دعوت پر استاد کی حیثیت سے ندوہ آئے، یہاں تقریباً پانچ دہائیوں تک درس و تدریس کی خدمات انجام دیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک باکمال استاد ثابت کیا۔ ان کے پڑھانے کا انداز قابل تعریف تھا۔ لیکچرز کے دوران وہ ایسے باریک نکات کی نشاندہی کرتے تھے کہ طلباء متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے . انہوں نے تدریس کے شعبے میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ علوم شریعہ کے بارے میں اپنے غیر معمولی معلومات اور عمیق مطالعہ کی وجہ سے وہ طلباء کو بہت اچھی طرح سے مطمئن کیا کرتے تھے- ان کے زیادہ تر شاگردوں نے ان کے پڑھانے کے طریقے کو اپنایا اور اب وہ ہندوستان کے اندر اور باہر درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ راقم الحروف کو بھی مولانا سے براہ راست پڑھنے اور استفاہ کرنے کا موقع ملا- راقم نے مولانا سے بخاری شریف کی کتاب الوحی پڑھی- مولانا کا تدریس کا اسلوب بھی نرالا تھا- مولانا درجے میں حاضری پابندی کے ساتھ لیتے تھے اور مجال نہیں کوئی طالب علم بلا عذر درجے سے غائب رہے- حاضری کے بعد مولانا فورا الگ الگ طالب علم سے عبارت پڑھنے کے لئے کہتے تھے اور دریافت کرتے کہ یہ لفظ منصرف یا غیر منصرف یا یہاں پیش ہے تو کیوں ہے- مولانا عبارت خوانی کے درمیان ہمیشہ کہتے کہ آخری اعراب ظاہر کرکے پڑھا کرو- مولانا کا گھنٹہ پتہ نہیں چلتا تھا -ایسا لگتا تھا مولانا تو ابھی تشریف لائے اور گھنٹہ ختم ہو گیا- مولانا ہمیشہ ایسے سوالات کرتے تھے اور باریک نکات بتاتے تھے جس سے طلباء کا ذہن کھلے- مولانا باریک نکات کے لئے ندوہ میں مشہور تھے- بلا شبہ مولانا صرف استاد نہیں بلکہ استاد گڑھ تھے-
بحیثیت ایک باکمال مصنف: مولانا ایک تجربہ کار استاد کے ساتھ ساتھ وہ ایک ممتاز مصنف بھی تھے- آپ نے نہ صرف درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا بلکہ اپنے گراں قدر علمی و تحقیقی بے لوث خدمات سے اہل علم کو متاثر بھی کیا- انہوں نے اردو اور عربی میں کئی کتابیں تصنیف کیں۔جن کے مطالعہ سے ان کا علمی و ادبی فضل و کمال نمایا ہوتا ہے- ان کی کتابیں زیادہ تر فقہی مسائل اور ان کے حل پر ہیں۔ ان میں سے کچھ معروف اشاعتیں حسب ذیل ہیں۔ 1. قضایا فقہیہ معاصرہ (عربی)۔ 2. یکساں سول کوڈ اور عورت کا حق۔3. معاشرتی مسائل 4. رویت ہلال کا مسئلہ۔ 5. چند اہم دینی مباحث۔ 6. جدید طبی مسائل۔ 7. موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حال۔ 8. نفقہ – مطلقہ۔ 9. جہیز۔10. اصلاح معاشرہ۔ 11۔ موجودہ دور ميں کار نبوت انجام دینے والے۔ 12. مسلمانو کی پریشانیوں کے حقیقی اسباب اور علاج۔ 13. بینک انشورنس اور سرکاری قرضے 14. دو ابدار موتی۔ 15. چند اہم کتب تفسیر اور قرآن کریم کے ترجمے۔ 16. خواتین کے لیے اسلام کے تحفے۔
مولانا کئی اہم عہدوں پر فائز رہے اور انہیں صدر جمہوریہ ایوارڈ سمیت کئی باوقار اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
عہدے: 1. ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ۔ 2. ممبر دینی تعلیم کونسل اتر پردیش۔ 3. نائب صدر اسلامی فقہ اکیڈمی۔ 4. صدر قاضی کونسل مرکزی دارالقضاء اتر پردیش۔ 5. صدر مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء،لکھنو۔ 6. شیخ التفسیر ندوۃ العلماء۔ 7. ممبر اسلامی کیلنڈر ملائیشیا بورڈ۔ 8. رکن اسلامی انسائیکلوپیڈیا (ملیالم)۔ 9. دارالعلوم دیوبند کی سلیبس کمیٹی کے رکن۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ۔
مولانا سنبھلی نے مختلف قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کی۔ انہوں نے سعودی عرب، امریکہ، انگلینڈ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ وغیرہ کا دورہ کیا اور وہاں اپنی علمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔بلاشبہ مولانا وسیع مطالعہ رکھتے تھے ان کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس علم وادب کا بےپناہ ذخیرہ موجود تھا- اس کے ساتھ ساتھ مولانا بلا کے ذہین اور غیر معمولی قوت حافظہ کے مالک تھے- مولانا سنبھلی کی جامع علمی اور فکری ذہانت کا اعتراف ان کے معاصرین نے بھی کیا ہے ۔
مولانا سنبھلی معاصرین علماء کی نظر میں: مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ” مولانا برہان الدین سنبھلی کا حدیث و فقہ کا مطالعہ وسیع بھی ہے اور گہرا بھی انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے بڑے امتیاز کے ساتھ فراغت حاصل کی، پھر سالہا سال مدرسے فتحپوری دہلی میں تدریس کی خدمات انجام دی اس زمانے میں فقہ سے ان کی مناسبت اور اصابت رائے اور اعتدال و توازن کا اظہار ہوا پھر دار العلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے لیے ان پر نظر انتخاب پڑی اور وہ دارالعلوم میں آگئے اب کئی سال سے وہاں حدیث و تفسیر کی اونچی کتابوں کی تدریس کا فرض انجام دیتے ہیں ان کے اس امتیاز کو دیکھ کر ان کو مجلس تحقیقات شرعیہ کا ناظم بھی بنایا گیا” (معاشرتی مسائل دین فطرت کی روشنی میں ص 2) مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ ایک ممتاز اسلامی اسکالر تھے۔ اور علمی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی، پرنسپل دارالعلوم ندوۃ العلماء فرماتے ہیں کہ مولانا سنبھلی علم و عمل کا مکمل مجموعہ تھے۔ انہوں نے ایک مثالی زندگی گزاری۔ ان کی تعلیم ایک مشترکہ مشن اور تحریک تھی۔ وہ حضرت شاہ ولی اللہ کی شاہکار کتاب حجتہ اللہ البالغہ طویل عرصہ تک پڑھاتے رہے۔ اور اپنے آخری ایام تک وہ تدریب افتاء کے طلباء کو بھی پڑھاتے رہے- مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء لکھتے ہیں کہ شیخ التفسیر مولانا برہان الدین سنبھلی علمائے سلف کی مثال تھے۔ وہ اسلامی شریعت کی تمام شاخوں پر عبور رکھتے تھے۔ ان کے شاگردوں نے کئی دہائیوں تک ان کی شاندار اور بے مثال درس و تدریس سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔
مولانا برہان الدین سنبھلی کا مولانا سید ابو الحسن علی ندوی سے تعلق: مولانا برہان الدین سنبھلی کا مولانا علی میاں سے گہرا اور درینہ تعلق تھا- 1970 میں مولانا علی میاں کی دعوت پر ندوہ تشریف لائے- ندوہ کے ہر پروگرام میں مولانا سنبھلی مولانا علی میاں کے ساتھ ہوتے تھے- ہر دن عصر بعد مہمان خانہ کے سامنے لان میں مولانا علی میاں صاحب کی مجلس لگتی تھی وہ مولانا علی میاں کے بغل میں بیٹھتے تھے اور مختلف موضوعات پر سوالات بھی کرتے تھے- یہاں تک کہ مہمان خانہ میں ہر کھانے کے وقت وہ مولانا علی میاں کے ساتھ شریک ہوتے – اس وقت الگ ایک روحانی ماحول ہوتا تھا- اور یہ سلسلہ مولانا علی میاں کی وفات 1999 تک قائم رہا۔
مولانا برہان الدین سنبھلی رحمہ اللہ علم و عمل کے میدان میں ایک بحر بے کراں تھے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی زندگی میں علمی و دینی خدمات انجام دیں، بلکہ اپنے بعد بھی ایک علمی ورثہ چھوڑا۔ مولانا سنبھلی کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جن میں ان کے بڑے صاحبزادے مولانا محمد نعمان الدین ندوی عربی زبان کے ممتاز اسکالر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے قلم سے متعدد گراں قدر تصنیفات منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو علمی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔”
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عظیم المرتبت شخصیت کی یاد میں کوئی سمینار منعقد کیا جائے اور ان کی حالات زندگی اور ان کی علمی و تحقیقی کارناموں کا بھر پور جائزہ لیا جائے تاکہ ان کا علمی مقام و مرتبہ ہمارے سامنے آسکے اور ہم انہیں اپنی علمی زندگی میں مشعل راہ بنا سکیں۔

