مہراجگنج: جامعہ عربیہ صادقیہ کے ارکان کی میٹنگ جامعہ کے صدر الحاج اقبال احمد خان کی صدارت میں جامعہ کی نئی عمارت بسمل نگر کے دار القرآن جدید میں منعقد ہوئی۔ جامعہ کے متعلم محمد اکمل نے تلاوت کلام اللہ سے مجلس کا آغاز کیا۔ ناظم جامعہ اور جمعیت علماء گورکھپور کے صدر مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی نے میٹنگ میں قابل غور امور سے حاضرینِ محفل کو با خبر کیا اور سابقہ کارروائی کو پڑھ کر سنایا، جس کی حاضرین نے توثیق کی۔
مہراج گنج کے چوراہے پر واقع جامعہ کی قدیم عمارت کے تعمیر نو پر مشورہ طلب کرتے ہوئے بتایا کہ نقشہ پاس ہوچکا ہے اس لیے تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے جس پر حاضرین نے متفقہ طور پر فیصلہ لیا کہ ماہ نومبر 2025 سے اس کام کی شروعات کی جائے۔ جامعہ کے خازن ڈاکٹر احسن نذیر صدیقی نے مشورہ دیا کہ اس کے لئے الگ سے فنڈ اکٹھا کیا جائے اور احباب کی توجہ مبذول کرائی جائے جس کو حاضرین نے پسند کیا۔
نئی عمارت کی چھت پر ریلنگ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے گرنے کا خطرہ بنا رہتا ہے، اس سلسلہ میں حاجی چھیدی قانون گو کے مشورہ کو تقویت دیتے ہوئے تعمیری کاموں کی منظوری دی اور طے پایا کہ ماہ جنوری 2026 سے اس کام کی بھی شروعات کی جائے۔
ناظم جامعہ نے کہا کہ مدارس کے کام توکل علی اللہ ہوتے ہیں، اللہ کی مدد سے سارے کام پایہ تکمیل کو پہونچتے ہیں۔ ذمہ داران ارادہ کریں تو اللہ کی مدد شامل ہوتی ہے بشرطیکہ خلوص نیت سے کام کی نیت کی جائے۔
تعلیمی معیار کو بلند اور بہتر بنانے پر قاسم العلوم گنیش پور کے ناظم مولانا مظفر حسین نے صدر مدرس مولانا شبیر احمد قاسمی کو ذمہ دار بناتے ہوئے کہا کہ آپ اس کی ذمہ داری بخوبی انجام دیں، کسی دقت کے لئے اساتذہ سے بشکل تحریر جواب حاصل کرکے مجلس عاملہ کی میٹنگ میں پیش کریں۔ سال گزشتہ کے مقابلے میں طلباء کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کے مد نظر مولانا صدر الدین اور حاجی صدر الحق کے صاحبزادے نائب ناظم مولانا سراج الدین نے اظہار افسوس کیا جس پر اساتذہ نے بشکل تحریر جواب دیا کہ جلد ہی اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
گوشوارہ آمد و خرج سے حاضرین کو باخبر کیا گیا جس کی پہلے کی طرح پذیرائی ہوئی۔ دیگر امور میں طے پایا کہ اساتذہ اپنی اپنی باری کے مطابق رات کے قیام کو یقینی بنائیں ورنہ تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی طے پایا کہ جو ممبران لگاتار جامعہ کی میٹنگوں میں شامل نہیں ہورہے ہیں انہیں آئین جامعہ کے اصول و ضوابط کے مطابق کارروائی کرکے ان کے نام کو ہٹا دیا جائے۔ ڈاکٹر احسن نذیر صدیقی اور صدر محترم نے تعلیمی اور مطبخی نظام کو چست درست رکھنے کی ہدایت دی جس پر مولانا صدر الدین نے کہا کہ مطبخی نظام بہت بہتر ہے۔ حاضرین میں زاہد علی خاں، علیم اللہ قانون گو، سہیل ابن حاجی ضمیر احمد، جامعہ کے نائب صدر ڈاکٹر ابرار احمد ابن ڈاکٹر محمد مستقیم مرحوم وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
آخر میں طے پایا کہ تعمیراتی کاموں کی نگرانی حاجی اقبال احمد خان، ڈاکٹر احسن نزیر صدیقی، سہیل احمد چھیدی قانون گو کرتے رہیں گے۔ ان کے معاون جامعہ کے پرنسپل مولانا شبیر احمد قاسمی اور حافظ رضوان ہوں گے۔ جامعہ صادقیہ کے ناظم مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی کی دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔
