مضمون نگار:……………ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی، استاد دارالعلوم ، ندوۃ العلماء لکھنؤ

عالم میں صحافت:دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہ انسانی معاشرے نے معلومات کی ترسیل، ابلاغ، اور خیالات کے تبادلے کے لیے ابتداء ہی سے مختلف ذرائع اختیار کیے۔ پتھروں پر کندہ تحریریں، غاروں کی تصویریں، بادشاہوں کے فرمان، درباری مؤرخین کی تحریریں، اور قصہ گوئی کی روایات دراصل ابتدائی صحافت کی شکلیں تھیں۔ صحافت انسانی تمدن کا ایک ایسا ستون ہے جس نے نہ صرف معلومات کی ترسیل کو ممکن بنایا، بلکہ عوامی شعور کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دنیا کی تاریخ میں جب کسی انقلاب کی بنیاد پڑی،اس کے پس پردہ صحافت کی طاقت کار فرما رہی۔ اگرچہ آج صحافت جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوچکی ہے لیکن اس کے آغاز وارتقاء کی تاریخ طویل ہے ۔ اس تناظر میں جب ہم عالمی سطح پر صحافت کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ’’حضرت مسیحؑ سے کوئی ۷۵۱ برس پہلے رومن راج میں روزانہ ایک قلمی خبرنامہ جاری کیاجاتاتھا جس میں سرکاری اطلاعات نیز میدان جنگ کی خبریں بھی ہوتی تھیں۔ اس قلمی خبرنامے کو ایک ٹاڈیورینا کہتے تھے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جو Actaاور Durinaسے مرکب ہے۔ اول الذکر کے معنی ہیں کارروائی اور مؤخر الذکر کے معنی ہیں روزانہ‘‘۔
۱۴۳۶ء؁ میں ایک جرمن سائنسداں گوٹن برگ (Guten Berg) نے چھاپہ خانہ ایجادکیا۔ صحافت اپنی جدید اصطلاح کے اعتبار سے پریس کی رہین منت ہے۔ مواصلات اور وسائل نقل وحمل کی ایجادات نے صحافت کو وقت کی ضرورت اور ہرانسان کے لئے قابل حصول بھی بنادیاہے ۔ اگرچہ پریس کا استعمال فورًا صحافت کے لئے نہیںہوا۔ ابتدا میں اس سے محض کتابوں کی اشاعت کا کام لیاگیا۔ لیکن بعد میں پریس اور صحافت کا تعلق ایسا قائم ہوا کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیںکیاجاسکتا۔ سولہویں صدی عیسوی میں انگلینڈ ، فرانس اور ہالینڈ سے مطبوعہ اخبارات نکلنے لگے۔ چرچ اور اسٹیٹ کے اختلافات اور نوابوں کی باہمی رقابت میں صحافت کا آزادانہ استعمال کیاگیا۔ ایک وقت آیا جب حکومت نے پریس کی آزادی پر پابندیاںعائد کیں۔ انگلینڈ میں ۱۶۹۳ء؁ میں ملکہ الزبتھ کے عہد میں پریس کی آزادی بحال ہوگئی اور مطبوعات کا قانون واپس لے لیاگیا۔ ملکہ الزبتھ کا عہد صحافت وادب کی ترقی کا روشن دور سمجھا جاتاہے۔ (مصرکی عربی صحافت، ص: ۳۴)
پہلا مطبوعہ خبرنامہ ۱۶۰۹ء؁ میں جرمنی میںجاری کیاگیا۔ اس کا نام تھا ’’اویسا ریلیشن اڈرزینٹنگ Avisa Relation Order Zeitungاور پھر دوسال بعد اسی طرح کا ایک چھپاہوا خبرنامہ انگلستان میں پہلے ۱۶۱۱ء؁ میں نیوز فروم اسپین News from Spainکے نام سے شائع ہوا۔ لیکن اس کی شکل وصورت اور اس کا رنگ ڈھنگ اخباری نہ تھا۔ پہلا باضابطہ اخبارانگریزی زبان میں ۱۶۲۰ء؁ میں شائع ہوا۔ اس کا نام ویکلی نیوز تھا اور اس کے ایڈیٹر نے تھانیل بٹلرNathanail Buttlerتھے۔ اس کے بعد ۱۶۳۱ء؁ میں فرانس سے ’گزٹ دا فرانسے‘ Gaztte de Franceجاری ہوا۔امریکا کا پہلا اخبار’’پبلک آکرنسزPublic Occurancesتھا جس کا ۱۶۹۰ء؁ میں بوسٹن سے اجراء ہوا۔ (اردو صحافت ،ص: ۱۲)
عربی صحافت کا آغاز:۱۷۹۸ء؁ کو جنرل نپولین بوناپارٹ کا حملہ مصر پر ہوا۔ نپولین کے حملے سے پہلے عرب دنیا صحافت سے واقف نہ تھی ۔ ۱۸۲۸ء؁ میں مصر سے پہلا اخبار ’’الوقائع المصریۃ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ پروفیسر عبد الحلیم ندوی لکھتے ہیں:- ’’مصر پر نپولین کا ۱۷۹۸ء؁ میں حملہ اور اس ملک پر ا س کا قبضہ تو برقرار تو رہا محض تین سال لیکن اس نے مصر ہی کی علمی ، ادبی، فکری اور فنی قسمت نہیں بدل دی بلکہ پورے عالم عرب پر اس کے بہت دوررس اور مفید اثرات پڑے‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیںکہ ’’نپولین اپنے ساتھ علماء ، انجینیر ، کاریگر، ماہرین صنعت وحرفت کی ایک ٹیم لایاتھا ، جن کی مدد سے اس نے مصر میں مکاتب ومدارس کھولے، کارخانے قائم کئے، اور مشرقی مصر میں پہلا پریس لگایا، جس نے ۱۷۹۸ء؁ میں عربی، فارسی اور ترکی کے حروف تہجی کا قاعدہ چھاپا، اس کے بعد ’’القراء ۃ العربیۃ‘‘ کے نام سے عربی لغت چھاپی، اور پہلی دفع اس سرزمین پر اخبار نکالاگیا‘‘۔ (عربی کی تاریخ ، جلد چہارم، ص: ۱۵)
ہندوستان میں صحافت کا آغاز:ہندوستان میں صحافت کا آغاز انگریزی صحافت سے ہوتاہے ۔۱۹؍جنوری ۱۷۸۰ء؁ کو کلکتہ سے جیمس آگسٹس ہکی نے انگریزی زبان کا ہفت روزہ ہکیز گزٹ یا کلکتہ ایڈورٹائزر شائع کیا۔ اس طرح ہندوستان میں ’’انگریزی زبان‘‘ سے صحافت شروع ہوئی۔ کلکتہ ہی سے راجا رام موہن رائے نے سب سے پہلے بنگلہ زبان میں سمبد-کاومودی(Sambad-Kaumudi) ۱۸۲۱ء؁ کو نکالا۔ اس کو ہندوستانی زبان کا پہلا اخبارا سمجھاجاتاہے۔کلکتہ ہی سے اردو کا پہلا اخبار’’جام جہاں نما‘‘ مئی ؍۱۸۲۲ء؁ کو جاری ہوا۔ اس کے مدیرمنشی سداسکھ تھے۔ اسی طرح ۳۰؍مئی ۱۸۲۶ء؁ کو ہندی کا اخبار اونت مارتنڈ کلکتہ ہی سے شائع ہوا، اس کے ایڈیٹر پنڈت جوگل کشور شکلا تھے۔
ہندوستان میں عربی صحافت : عربی صحافت کا آغاز لاہور سے ہواتھا۔ عربی کا پہلا جریدہ ’’النفع العظیم لأھل ھذا لاقلیم‘‘ کے نام سے مشہور ادیب وشاعر مولوی مقرب علی لدھیانوی نے ۱۷؍اکتوبر ۱۸۷۱ء؁ کو نکالاتھا۔
صحافت کی تعریف:’’صحافت کے لغوی معنی تحریر یا رسالے کے ہیں۔ مصنف ’’لسان العرب‘‘ بیان کرتے ہیں کہ ’’صحف صحیفہ کی جمع ہے، صحیفہ وہ ہے جس میں قرآن کریم لکھاجاتاہے:- ’’ان ھذا لفی الصحف الأولی ، صحف ابراھیم وموسی‘‘۔ (الاعلی، ۱۸-۱۹)(یہ باتیں پہلے صحیفوں میں بھی ہیں، یعنی ابراہیم اور موسی کے صحیفوں میں)۔
مصنف ’’اساس البلاغۃ‘‘ لکھتے ہیں:- ’’صحیفہ صحف یا صحائف وہ کھال یا کاغذ کاٹکڑا ہے ، جس پر لکھاجاتاہے‘‘۔معجم ’’متن اللغۃ‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’’صحافت خبروں کے نشر کرنے اور اس میں کام کرنے کے پیشے کو کہتے ہیں ۔ اس کی نسبت صحافت ہے، جو زیادہ بہتر ہے اور صحیفہ معرب ہے‘‘۔ (ہندوستان میں اسلامی صحافت کی تاریخ اور ارتقاء، ص: ۴۵)
’’صحافت کا لفظ صحیفہ سے نکلا ہے اور صحیفہ کے لغوی معنی کتاب یا رسالہ کے ہیں۔ بہرحال عملًا ایک عرصۂ دراز سے مراد ایک ایسا مطبوعہ مواد ہے ، جو مقررہ وقتوں پر شائع ہوتاہے۔ چنانچہ تمام اخبارات ورسائل صحیفہ ہیں‘‘۔ (فن صحافت، عبد السلام خورشید، ص: ۹)
لفظ ’جرنلزم‘ (Journalsim) کی اصطلاح لاطینی زبان کے لفظ Actaاور Diurnaسے مستعار ہے۔ اک ٹا (Acta) کے معنی ’’کاروائی‘‘اور ڈیورینا(Diurna) کا مفہوم روزانہ ہے۔ (Colliers Encyclopedia-Vol. 14, pp-264) Journalismکی تشریح Websterڈکشنری میں یوں ملتی ہے:-
"According to Webster’s Thirds International Dictrionary Journalism means "the collection and editing of material of current interest for presentation, publication or broadcast”.
صحافت وقت کی اہم ترین ضرورت:آج صحافت انسانی زندگی کا ایک حصہ بن گئی ہے۔ تمدنی زندگی کے لئے صحافت ناگزیر ہے۔ مشہور شاعر اکبر الہ آبادی کے شعر سے صحافت کی اہمیت اور خوبصورتی کی وضاحت ہوتی ہے:-
نہیںابشیخ صاحب کی وہ عادت
وضو کی اور مناجات سحر کی
مگر ہاں، چائے پی کر حسب دستور
تلاوت کرتے ہیں وہ پائنیر کی
صحافت کا تذکرہ مختلف پہلوؤں سے کیاجاسکتاہے۔ صحافت بحیثیت رہنما، صحافت بحیثیت معلم، صحافت بحیثیت تعمیر قوم وملت کے قومی ہتھیار، صحافت بحیثیت ناقد، صحافت بحیثیت مبلغ وداعی، صحافت بحیثیت قوم کی طاقت کا سب سے بڑ اسرچشمہ، صحافت بحیثیت مصلح وریفارمر، صحافت بحیثیت عوام کی آواز، صحافت بحیثیت نقیب، صحافت بحیثیت قوم وملت کا پاسبان، صحافت بحیثیت قوم وملت کا دھڑکتاہوا دل، صحافت بحیثیت غریبوں اور دکھیاروں کا سچا مسیحا وغیرہ۔
’’آج دنیا بھر میں صحافت کو مملکت کے چوتھے ستون (Fourth Estate) کے امتیازی لقب سے موسوم کیاجاتاہے ۔ سب سے پہلے یہ لقب برطانوی پارلیمان لارڈ میکالے نے اخباری نامہ نگاروں کو دیاتھا۔ کسی بھی ملک میں سب سے نمایاں مقام حکمراں طبقے کا ہوتاہے۔ دوسرا دینی پیشواؤں کا تیسرا عوام الناس اور چوتھا صحافت کو دیاگیا‘‘۔ (ابلاغیات ص: ۴۶)
’’جدید دور میں عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ کی طرح صحافت کو بھی ایک جمہوری ملک میں طاقت کا عظیم سرچشمہ قراردیاجاتاہے ۔ آزاد صحافت کی ذمہ داری رائے عامہ کی ترجمانی کرناہے اور رائے عامہ طاقت کا سرچشمہ ہوتی ہے ۔ عربی زبان نے صحافت کی اس قوت وتسلط کو محسوس کرتے ہوئے اسے صاحبۃ الجلالۃ (Her Majesty) کاخطاب دیاہے۔ صحافت ایک آئینہ ہے جس میں انسان مختلف جماعتوں ، گروہوں کی تصویر اور مختلف خیالات کا عکس دیکھ سکتاہے ۔ ایک جمہوری ملک میں آزاد صحافت کی حیثیت حکومت پر عوام کی چشم نگراں کی ہوتی ہے‘‘۔ (مصر کی عربی صحافت ص: ۸)
امریکہ کے تیسرے صدر ٹامس جیفرسن ( Thomas Jafferson) نے کہاتھا:- ’’اگر اس بات کا فیصلہ صرف مجھ پر چھوڑا جائے کہ کیا ہمیں بغیر اخباروں کے حکومت منظور ہے یا کوئی ایسی صورت کہ جس میں اخبار موجود ہوں اور حکومت نہ ہو ، تو میں دوسری صورت کے حق میں فیصلہ سنانے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیںکروں گا……‘‘۔
ٹامس جیفرسن کے اس خیال کے پیچھے یہ احساس ضرور پوشیدہ رہا ہوگا کہ صحافت نہ صرف ملک وقوم کی آئینہ دارہوتی ہے بلکہ سیاسی وسماجی ، معاشرتی، ثقافتی، اقتصادی، تہذیبی اور تمدنی قدروں کی ترجمان بھی ہوتی ہے۔ اور چونکہ ترقی یافتہ ملکوں میں رائے عامہ منظم ہے ، اس لئے ان تمام قدروں کی افادیت ، رائے عامہ کے خوف سے بھی ہوتی ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ رائے عامہ ہی کسی ملک کی حکومت کی سچی اور کھری پہچان ہے۔ حکومتیں کتنی ہی مضبوط اور مستحکم کیوں نہ ہوں، ان کا وجود اور ان کی بقاعوامی رائے عامہ پر منحصر ہوتی ہے اور عوامی رائے عامہ کو ترتیب دینے میں صحافت کا رول اہم ہوتاہے‘‘۔ (اردو صحافت بہارمیں، ص: ۲۴)اسی طرح نپولین نے کہاتھا:- ’’چار مخالف اخبار ایک ہزار بموں سے زیادہ خطرناک ہیں‘‘۔ صحافت کی اسی مقناطیسی طاقت کو دیکھ کر اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہاہے :-
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
ڈاکٹر سید احمد قادری نے اپنی کتاب ’’اردوصحافت بہار میں ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ صحافت کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا ذکر بڑی خوبصورتی سے مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نے مشہور صحافی رضوان احمد کے نام ایک خط مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۸۴ء؁ میں کیاتھا۔ وہ لکھتے ہیں:- ’’صحافیوں کی ذمہ داری بہت زیادہ اور نازک ہے۔ ان کے قلم کی ذرا سی لغزش سے بعض اوقات قوموں اور ملکوں کے متعلق بڑے بڑے فیصلے ہوجاتے ہیں اور ان کی کی تحریریں ہزاروں لاکھوں افراد کو صحیح یا غلط خطوط پر سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ میراخیال ہے کہ قلم کی طاقت تلوار سے کہیں زیادہ مؤثر اور کارگر ہوتی ہے اور اس کے پیداکردہ اثرات کہیںزیادہ دوررس اور دیر پا ہوجاتے ہیں‘‘۔
الغرض صحافت سماج کی ناہمواریوں اور کھردرے پن کر ختم کرنے کے لئے آئی ہے۔ ایک صحت مند سماج کی تعمیر تبھی ممکن ہے جب ذرائع ابلاغ کا استعمال صحیح ہو۔ سچی صحافت ہی سے حقیقی جمہوری ملک کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے