حیدر آباد 24/ جولائی (مشرقی آوازجدید): حضرت مولانا حافظ پرشبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دین اسلام کا منبع اور سر چشمہ وحی الہی ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، خواہ وہ وحی الہی قرآن کریم کی صورت میں ہو یا سنت رسول اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ہو ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وحی الہی اور دین اسلام کو لینے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ ہی نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسی مقدس جماعت کو حضور اکرم کی صحبت تعلیم اور تلقین کے لیے منتخب فرمایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا اسلام اور شریعت اسلام میں خاص مقام ہے۔ یہ ایک ایسی مقدس جماعت ہے جو رسول اللہ ﷺ اور عام امت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک واسطہ ہے۔ اس واسطہ کے بغیر نہ اُمت کو قرآن کریم ہاتھ آ سکتا ہے، نہ حدیث شریف اور نہ ہی رسالت اور اس کی تعلیمات کا کسی کو اس واسطہ کے بغیر علم ہو سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دنیا کی ہر چیز حتی کہ اپنی آل اولا داور اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو اپنی جانیں قربان کر کے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے قلب کو ان سب قلوب میں بہتر پایا، ان کو اپنی رسالت کے لیے مقرر کر دیا، پھر قلب محمدﷺ کے بعد دوسرے قلوب پر نظر فرمائی تو اصحاب محمد ﷺ کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا ، ان کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی صحبت اور دین کی نصرت کے لیے پسند کر لیا۔ حضرت امام احمد نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جو شخص اقتداء کرنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ ہے کی اقتداء کرے، کیونکہ یہ حضرات ساری امت سے زیادہ اپنے قلوب کے اعتبار سے پاک، اور علم کے اعتبار سے گہرے اور تکلف و بناوٹ سے دور اور عادات کے اعتبار سے معتدل ، اور حالات کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اقامت کے لیے پسند فرمایا ہے۔ تو تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے آثار کا اتباع کرو، کیونکہ یہی لوگ مستقیم طریق پر ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملے میں ، میرے بعد ان کو ( طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی ، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی، اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی ، اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑلے گا۔ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم ) میں سے کسی کی بھی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے، اس لیے کہ قرآن حق ہے ، رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) حق ہے، جو تعلیمات آپ ﷺ لے کر آئے وہ حق ہیں، وسلم) سے وہ اور یہ سب چیزیں ہم تک پہنچانے والے صحابہ کے سواکوئی نہیں، تو جو شخص ان کو مجروح کرتا ہے وہ کتاب وسنت کو باطل کرنا چاہتا ہے، لہذا خود اس کو مجروح کرنا زیادہ مناسب ہے، اور اس پر گمراہی اور زندقہ کا حکم لگا نا زیادہ قرین حق و انصاف ہے۔ ان آیات اور احادیث میں صرف یہی نہیں کہ اصحاب رسول کی مدح و ثناء اور ان کی رضوان الہی اور جنت کی بشارت دی گئی ہے، بلکہ امت کو ان کے ادب واحترام اور ان کی اقتداء کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی کو برا کہنے کی سخت وعید فرمائی ہے، ان کی محبت کو رسول اللہ ﷺ کی محبت ، ان سے بغض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی ہم کو حضرات صحابہ اکرام سے سچی محبت اور ان کی تعظیم کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے