سید شاہ حافظ علی الحسینی نے دیاتصوف پرچلنے کا پیغام 

(محمد یوسف رحیم بیدری) 

ترقی پسندافراد، ترقی پسند تنظیموں اور ترقی پسند سماج کے کئی ایک طبقات میں مذہب بیزاری عام ہے ۔ اسی مزاج کے بہت سے لوگ اس پرچار میں لگے رہتے ہیں کہ عوام میں جوکچھ انتشارہے وہ مذہب کی وجہ سے ہے۔ مذہبی لوگ سائنٹفک طریقے سے سوچ نہیں سکتے وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک الحادی اور مادی سوچ ہے۔اورمذہب پسند افراد پر بہتان ہے۔ ان الزامات کے بالمقابل  تاریخ گواہ ہے کہ سینکڑوں سال سے مذہب پسند افراد جیسے صوفیوں اور سنتوں نے ہندوستان کو گہوارہء محبت بنانے میں اپناشاندار رول اداکرتے رہے۔ اور آج بھی صوفیوں کی جا اور سنتوں کے ٹھکانے انسانی بھائی چارہ ،اور آپسی محبت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔ صوفی سنتوں کی مشترکہ کاوشوں کی ایک دنیا قائل ہے۔اور ہندوستانی میں گنگاجمنی تہذیب کابہتادھارا ان ہی صوفی سنتوں کی دین ہے۔ اسی سلسلتہ الذہب کو آگے بڑھانے کے لئے ریاست کرناٹک کی جونی ہبلی میں ایک صوفی سنت کانفرنس 26؍جولائی 2025؁ء کی شام منعقد کی گئی۔ جس کے مہمان خصوصی پیرطریقت شہزادہء قطب دکن ، آل ِ نبی اولادِ علی ؓ حضرت حافظ سید شاہ محمد علی الحسینی سجادہ نشین ومتولی حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ ، چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ اور چیرمین ریاست کرناٹکا بورڈآف اوقاف ، حکومت کرناٹک تھے۔ جب کہ اس عظیم الشان صوفی سنت کانفرنس کی نگرانی پیر طریقت نبیرہء غوث اعظم ؒحضرت سیدحیدرولی اللہ نبیرہء قادری صاحب قبلہ سجادہ نشین بارگاہ حضرت سید حیدرولی اللہ قادری نیلنگا شریف (مہاراشٹر) نے کی جب کہ حضرت سیدشاہ محمد تاج الدین قادری صاحب قبلہ الحسنی والحسینی الجیلانی کسیر مروڑی صاحب قبلہ تمنکٹہ ، کوٹہ ، پالا وہبلی کی بابرکت صدارت رہی۔ حضرت ڈاکٹر سید شاہ مرتضی حسینی ہاشمی المعروف بہ مرشد پیراں بیجاپور نے اس صوفی سنت کانفرنس کی قیادت کی۔ جس کی حمایت مالاپور دھارواڑکے حضرت سید شاہ ولی اللہ حسینی قادری الحسینی اشرفی القمیصی صاحب قبلہ نے کی۔ بیچاپور کی بارگاہ سید عبدالرحمن صبغتہ اللہی کے سجادہ نشین ڈاکٹر سید شاہ روح اللہ حسینی المعروف تقی پیراں صاحب قبلہ کی زیرعاطفت صوفی سنت سمیلن (کانفرنس) منعقد ہوئی۔ محبوب باشاہ پیرزادے قادری (دھارواڑضلع) ، سید شاہ شمس الحق چشتی القادری نظامی (شاہ نور) ، محمد عشاق قادری لطیفی (چپگیری) ، منورحسینی البخاری لکشمیشپور ،علی حسینی باشیبان( بلگام )،سیدولی اللہ شاہ قادری المعروف باشاہ پیراں ، سید اشرف قادری سجادہ نشین حضرت غوث شاہ قادری بھاگویری ، صوفی مقصود میاں چشتی القادری دھارواڑ، سید شاہ ضمیر حسینی توکلی ، ستور ، دھارواڑ، کے علاوہ ہبلی ، دھارواڑ، انیگیری ، سالگندہ ، کوتالم (آندھراپردیش)، مہاراشٹر ، بنکاپور ، بلگام ، باگیواڑی کی درگاہ اور خانقاہوں کے کئی سجادہ نشین بھی صوفی سنت کانفرنس میں بحیثیت مہمان شریک رہے۔صوفی سنتوں سے معتدل مزاج سیاست دانوں کی قربت جگ ظاہر رہی ہے۔ لہٰذا اس کانفرنس میں ریاست کرناٹک کے کئی ایک وزراء شریک رہے جن میں ستیش جارکی ہولی ، لکشمی ہبالکر، جناب رحیم خان، شیوانند پاٹل، کے علاوہ ایم ایل سی میں جناب سلیم احمد، شاکرسندی ، این ایچ کون ریڈی ، انجمنوں اور اداروں سے تعلق رکھنے والوں میں ایم سی ساونور، سی ایم فیض احمد ، الطاف حسین ہل اُور، انیل کمار پاٹل وغیرہ شریک رہے۔ کہاجاتاہے کہ اس صوفی سنت کانفرنس کو آل کرناٹکا سنی مشائخ کونسل ہبلی اور فقیرسوامی ، شرہٹی مٹھ ضلع گدگ کے اشتراک سے منعقد کیاگیاتھا۔ اوربھائی چارہ اور عالمی محبت کے پیغام کے ساتھ ساتھ حافظ سید علی الحسینی چیرمین کرناٹکا اسٹیٹ بورڈ آف اوقاف ، حکومت کرناٹک کی تہنیت بھی مقصود تھی۔ بارگاہ حضرت سیدنا خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین بنائے جانے کے بعد حضرت سید علی الحسینی پہلی دفعہ ہبلی تشریف لارہے تھے۔
حضرت علی الحسینی چیرمین کرناٹکا اسٹیٹ بورڈ آف اوقاف نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہمارے دل اور ہماری نیتیں صاف ہوں اور ہم آج یہ عہد کرلیں کہ ہماری جانب سے کسی کو تکلیف نہیںپہنچے گی تو ہم پورے ہندوستان کو بچاسکتے ہیں۔ان کی اس بات کو تالیوں کی گونج میں ہزاروں افراد نے گویاشرف ِ قبولیت سے نوازا۔ موصوف نے تصوف سے متعلق کہاکہ ’’حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمتہ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ اپنی زندگی کومنظم طریقے سے گزارنے کا طریقہ ہی تصوف ہے۔اورتصوف میں خاص چیز اپنی انا کومارناہے۔ دوسری چیز خدمت خلق ہے ۔ خدمت خلق میں افضلیت ایک انسان کادوسرے انسان کی مدد کرنا ہے۔ تیسری چیز اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھنا اور دل کوصاف ستھرا رکھناہے۔ دراصل زندگی کاسارا معاملہ درجات کی بلندی کاہے۔ لوگ کس طرح اپنے خدا کے قریب پہنچیں اور ہردین ومذہب خداتک پہنچنے ہی کی بات کرتاہے۔‘‘ حضرت حافظ علی الحسینی نے آخر میں کہاکہ نوجوان آج زور میں ہیں۔ اورہم پر آنیو الی نسل کی بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہیں لہٰذ اٹی وی اور موبائل سے بچوں کوبچایاجائے۔ صحبت بڑی چیز ہے۔ ہم عمروں کے بجائے نوجوان اپنے سے بڑوں کی صحبت میں رہیں اور سیکھیں ‘‘۔
لنگلیشور سوامی شرہٹی مٹھ نے تقریر کرتے ہوئے ایک تفصیل اولیائے کرام کی سنائی اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس کس طرح صوفیا کا فیض سنتوں تک پہنچا۔ ایک لنگایت میاں بیوی کی بات سنائی کہ وہ بیجاپور کی درگاہ خواجہ امیرالدین پہنچ کر اپنے لئے لڑکے کی منت مانگی ۔ او روہ لڑکاتولد ہوا۔ اس کانام چن ویرسوامی رکھاگیا۔ وہ بچہ درگاہ میں لنگ پوجاکرتاتھا۔ اس پر اعتراض ہوتاہے تو خواجہ امیرالدین درگاہ میں اس کو لنگ پوجا کی اجازت دے دیتے ہیں۔ دوسری طرف شرہٹی کے فقیریشور کی بات بتائی کہ وہ پانی پر مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھتے ہیں۔جناب محمد اظہر الدین سابق کپتان ہندوستانی کرکٹ اور سابق MPنے کہاکہ تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کر کام کریں گے تو ملک کے حالات بہتر ہوجائیں گے۔ دوسری طرف دیکھاگیاہے کہ ہم اہل ِ بیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ میں جناب حافظ علی باباکو مبارک باد دیتاہوں اللہ نے انہیں اعزاز سے نوازا۔ جناب اظہر الدین صاحب نے یہ بھی کہاکہ آج ہم حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز ؒ کی وجہ سے مسلمان ہیں۔جناب ناصر حسین MPبرائے راجیہ سبھااور رکن CWCنے اپنے تیزرفتار خطاب میں کہاکہ ہندوستان کے تمام بڑے چھوٹے شہروں میں صوفیائے کرام ہیں۔ ہمیں ان ہی کے دکھائے راستے پر چلناہے۔ جو تعلیمات مہاتمابسونا ، خواجہ بندہ نوازاور بہت سارے صوفی سنتوں نے دی ہیں وہی تعلیمات ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ہندوستان کے دستور میں سموئے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مساوات کاسلوک کرنا چاہیے۔ حضرت سیدحیدرولی اللہ نبیرہء قادری صاحب قبلہ سجادہ نشین نیلنگہ شریف (مہاراشٹر) نے اپنے خطاب میں کہاکہ وقف بورڈ کے چیرمین بن کر دراصل حافظ محمد علی الحسینی نے وقف ادارہ پر احسان کیاہے۔ جب انہیں چیرمین بنایاجارہاتھاتب اوقافی اراضی کو فروخت کرنے والوں کو نہایت ہی تکلیف ہورہی تھی۔ خالص شریعت کو جاننے والا ہی وقف کی نشست پر بیٹھنا چاہیے۔ میں اس موقع پر ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے اور پرینک کھرگے دونوں قائدین کاشکریہ اداکرتاہوں کہ انھوں نے حافظ علی الحسینی کو وقف بورڈ کاریاستی صدر بنانے میں تعاون کیا۔ موصوف نے حاجی الطاف ، یوسف سونور، انیس نائیکوڑی اور ان کے پورے خاندان اور شازمان مجاہد وغیرہ کا شکریہ اداکیااو رکہاکہ ان ہی کی مسلسل محنت کی بدولت یہ کانفرنس اس مقام تک پہنچی ہے۔ اس کانفرنس کی خوبی یہ بھی تھی کہ اردو کے علاوہ کنڑی زبان میں کارروائی چلائی گئی۔ بلکہ تقاریر بھی ہوئیں۔ سنتوں کے علاوہ غیرمسلم سیاستدانوں نے بھی کنڑامیں تقریر کی تو ایسا لگ رہاتھاجیسے ان کی باتیں سیدھے سامعین کے دل میں اتر رہی ہوں۔ ریاستی وزیر ستیش جارکی ہولی نے کہاکہ ’’ صوفی سنتوں نے دیش کی رہنمائی کی ہے۔ سماجی ، مذہبی اور ہر طر ح کی رہنمائی صوفیوں اور سنتوں کی جانب سے ہوتی رہی ہے‘‘ انھوں نے مسلمانوں سے متعلق کہاکہ ’’مسلمانوں کو صرف انتخابات میں ملنا نہیں ہے۔ مسلم بھائی ہمیشہ ملتے رہیں۔ اپنا دکھ سکھ ہم سے بانٹیں۔ اورمسلمانوں کادر دکیاہے یہ سبھی کو پتہ چلناچاہیے‘‘۔ایک صوفی مقرر نے صاف کہاکہ عالم کے تمام لوگوں کو خواجہ بندہ نوازرحمتہ اللہ علیہ نے انسانیت کاسبق دیاہے۔
نیست کعبہ در دکن جز درگاہ ِ گیسودرازؒ
بادشاہ دین ودنیا تاابد بندہ نوازؒ
وزیر حج جناب رحیم خان ، ایم ایل سی جناب سلیم احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ شہ نشین کوسجانے میں ترنگے کے تینوں رنگوں کااستعمال شہ نشینی کے پیچھے کی دیوار پر کیاگیاتھا۔ جس کے سبب وطن سے محبت کاجذبہ شرکاء میں پیدا ہونے کاامکان تھا۔ بارش کے پیش نظر واٹرپروف ٹینٹ کا اہتمام کیاگیاتھا۔ اور شومئی قسمت سے اس دن بارش بھی بہت ہوئی لیکن کانفرنس میں شریک رہنے کاجوش اس قدر تھاکہ ایک اندازے کے مطابق 25ہزار سے زائد صوفی سنت کوماننے والے محبان صوفی وسنت اس ایک روزہ کانفرنس میں شریک رہ کر انسانیت نوازی کاپیغام اپنے ساتھ لے گئے۔اور اپنے ملک کے تمام افراد کوبلالحاظ مذہب وملت انسانیت پر چلنے کا پیغام دیا۔ ٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے