بیدر ضلع برہمن مہا سنگھ کے صدر رمیش کلکرنی کی مردم شماری کولے کر اپیل

بیدر۔ 12؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): ریاست کرناٹک پسماندہ طبقات کمیشن کی جانب سے ہونے والی سماجی و تعلیمی ذات پات مردم شماری 22؍ ستمبر کی صبح 7 بجے سے شروع ہوگی۔ مردم شماری کرنے والے اہلکار گھر گھر جاکر 60 سوالات پر مبنی فارم کے مطابق معلومات درج کریں گے۔اسی تناظر میں برہمن برادری سے خصوصی اپیل کی گئی ہے۔ کسی بھی ذیلی فرقے کا ذکر کیے بغیر، ہر شخص ایک ہی آواز میں صرف — ”بھارتی ہندو برہمن” لکھوائے، اس بات پر تنظیموں نے زور دیا ہے۔گزشتہ مردم شماری میں برہمنوں کی تعداد 14 لاکھ درج کی گئی تھی لیکن معاشرتی، تعلیمی اور معاشی میدانوں میں برادری کو درپیش پسماندگی کے سبب، اس بار اصل صورتِ حال کو سامنے لانے کے لیے متحدہ اندراج ضروری قرار دیا گیا ہے۔برہمن برادری صدیوں سے وید، شاستر، دھرم اُپدیش، ثقافت، ادب، موسیقی، کلاسیکی فنون، فلسفہ اور روحانی روشنی کی علمبردار رہی ہے۔ مہارشی ویاس سے لے کر آدی شنکراچاریہ تک، مدھو آچاریہ سے لے کر لوری سنانے والے گویّے تک، وید پاٹھ کرنے والے رشیوں سے لے کر جدید زمانے کے گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ مصنفین تک— بے شمار عظیم شخصیات نے اس برادری کا وقار بلند کیا ہے۔آج برہمن برادری ملازمت، معیشت، تعلیم اور سماجی خدمت جیسے کئی میدانوں میں پسماندگی کا شکار ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔ لہٰذا اصل حقیقت کو حکومت کے سامنے پیش کرنے کے لیے اتحاد ہی واحد راستہ ہے۔برادری کا اتحاد ہی ہماری شناخت، خودداری اور حقوق کا تحفظ ہے۔ آئندہ نسل کے روشن مستقبل کے لیے آج کا فیصلہ انتہائی اہم ہے۔بیدر ضلع برہمن مہا سنگھ کے صدر رمیش کلکرنی نے اپنی بات دوہراتے ہوئے کہاکہ ’’ برہمنوںمیں موجودہر ذات کے افراد ذیلی فرقوں کو چھوڑ کر صرف ‘بھارتی ہندو برہمن’ درج کروائیں۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری طاقت ہے، اور ہماری آنے والی نسل کا مستقبل ہمارے آج کے فیصلے میں پوشیدہ ہے‘‘یہ پریس نوٹ جناب رمیش کلکرنی صاحب نے اردو زبان میں جاری کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے