محمد سعید گورکھپوری
یکے از ابنائے قدیم ریاض العلوم گورینی ،جونپور ( یوپی )

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس وقت ہمارے ملک کے حالات بہت نا گفتہ بہ ہیں اس میں نہ ہماری عزت وآبرو محفوظ ہے اور نہ ہماری جان اور ہمارا ایمان محفوظ ہے ۔باطل طاقتیں ہر اعتبار سے اور ہر طرف سے ہمارے اوپر حملہ آور ہیں ۔فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے اور مخصوص تنظیموں کے کارندے ہمارے ملی وجود و ملی شناخت کو ہر طرح سے ختم کرنے کے لئے پوری منظم پلاننگ کے تحت پس پردہ لگے ہوئے ہیں ۔آئے دن نہ صرف یہ کہ ہمارے ایمان وعقیدے پر ڈاکہ ڈالنے کی ناجائز کوششیں کر رہے ہیں بلکہ اپنی کوششوں میں بہت حد تک کامیاب بھی ہو رہے ہیں ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ دور میں ہماری جان سے زیادہ ہمارا ایمان خطرے میں ہے -اگر ہمارا ایمان لٹ گیا تو ہمارا سب کچھ لٹ جائے گا ہم کہیں کے نہیں رہیں گے ہماری دین و دنیا دونوں برباد ہو جائے گی اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے و اپنےاہل و عیال کے ایمان و قیدے کی ہر طرح سے حفاظت کریں کیوں کہ ایمان ہی ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے -ہمارے لئے دین ودنیا کی کامیابی اسی ایمان پر منحصر ہے –
آج ہمارے سماج و معاشرے میں خصوصا لڑکیوں میں ارتداد کا فتنہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔پہلے کبھی کبھار اکا دکا ارتداد کی خبریں آتی تھیں لیکن ادھر چند سالوں سے آر ایس ایس اور دیگر باطل طاقتوں کی باضابطہ منظم پلاننگ کے تحت مسلم لڑکیوں کو ارتداد کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے اور ہم سب کی لاپرواہی و غفلت اور خواب خرگوش میں مدہوش ہونے کی وجہ سے مرتد ہونے والی لڑکیوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں اتنی تیزی کے ساتھ مرتد ہو رہی ہیں ؟
آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں دنیا کے سب سے اچھے ، سب سے سچے ، سب سے مہذب واعلیٰ دین کو چھوڑ کر غیروں کے اس دین میں شامل ہو رہی ہیں جس میں گائے کے پیشاب اور گوبر کی نہ صرف یہ کہ پوچا کی جاتی ہے بلکہ اسے پیا اور کھایا جاتا ہے ۔آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں اپنی عفت و عصمت اور حیا کی قیمتی چادر کو غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ ہوٹلوں ، پارکوں میں اور سوشل میڈیا پر سر عام نیلا م کر رہی ہیں ؟آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب و تمدن کو چھوڑ کر کفر و شرک کا راستہ اختیار کر رہی ہیں ؟آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں نہ صرف یہ کہ غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں بلکہ پورے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادیاں بھی کر رہی ہیں ؟آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں اپنی دنیا و آخرت دونوں خراب کر رہی ہیں ؟ آخر کیا وجہ ہے جو مسلم لڑکیاں کفر کے دلدل میں پھنستی چلی جا رہی ہیں ؟آج کل جب ہم کسی بڑے عالم دین ، کسی مفکر ، کسی مبصر ، یا کسی قوم و ملت کا درد رکھنے والے سے ارتداد کی وجہوں کے بارے میں معلوم کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ لڑکیوں کے مرتد ہونے کی بہت سی وجہیں ہیں جس میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو صحیح ودینی تعلیم وتربیت نہیں دیتے ہیں –
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو بچپن سے ہی ایسے اسکولوں اور کالجوں میں ڈال دیتے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ بے مخلوط تعلیم ہوتی ہے بلکہ اس میں بے حیائی ، بے غیرتی بے شرمی سکھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں کے اندر شرم و حیا نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی پھر وہ اسکول و کالج میں پڑھنے جانے کے بجائے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہوٹلوں ، پارکوں اور نائٹ کلبوں میں چلی جاتی ہیں اور وہاں رنگ ریلیاں مناتی ہیں –
تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم وقت پر ان کی شادی نہیں کرتے ۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کی شادیوں میں اپنی جھوٹی شان و شوکت دکھانے کے چکر میں اور اپنی انا کی تسکین کے لئے اپنے مال ودولت کو پانی کی طرح بہا دیتے ہیں جس کی وجہ سے غریبوں کی بچیوں کی شادیاں نہیں ہو پاتی-
جوتھی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں لڑکیاں فلمیں ، ڈرامے ، سیریلز و ویب سیریز بہت زیادہ دیکھتی ہیں جس سے وہ متاثر ہوکر ہو بہو وہی کام کرتی ہیں جو ان میں دکھایاجاتا ہے ، بلا شبہ یہ سب وجہیں لڑکیوں کے مرتد ہونے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن ۔۔ہماری ناقص سمجھ کے مطابق لڑکیوں کے مرتد ہونے کی ایک اہم وجہ اور ہے جس کی طرف عام طور سے ہم میں سے کسی کا ذہن نہیں جاتا –
وہ وجہ یہ ہے کہ انسان فطری طورپر خاص طور سے لڑکیاں عزت ، پیار ، محبت ، دولت ، اور اپنے پن کے احساس کی بھوکی ہوتی ہیں انہیں جہاں کہیں بھی یہ سب چیزیں ملیں گی وہ اسی طرف جائیں گی چاہے وہ اپنے ہوں یا غیر اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے گھر کی بہن بیٹیوں اور عورتوں کو عزت دیں ، پیار دیں ، محبت دیں ، وقت دیں ، انہیں اپنے پن کا احساس دلاتے رہیں ،اگر ہم نے ایسا کیا تو یقین مانئے ان شاءاللہ ہماری کوئی بہن ، بیٹی ، بچی غیروں کے ساتھ بھاگنا تو بہت دور کی بات ہے اس کی طرف مڑ کر دیکھے گی بھی نہیں ،وہ غیروں کے منہ پر تھوکنا تو گورا کر لیں گی لیکن غیروں کے ساتھ جانا گورا نہیں کریں گی ، لیکن افسوس صد افسوس !
آج ہمیں اپنی بہن بیٹیوں کو ارتداد سے بچانے کی کوئی فکر نہیں ہے ہم خود تو دن بھر کام وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں لیکن جب شام کو گھر آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ہم اپنے گھر والیوں کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑا وقت گزاریں ، ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں ، ہنسی مذاق اور دل لگی کریں ، ان کے جزبات کو ، ان کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوشش کریں ،کھانا کھا کر گھر سے باہر نکل جاتے ہیں اور اپنے دوستوں ، محلے والوں کے ساتھ پانچ دس منٹ نہیں پورے ایک ایک دو دو گھنٹے گپ شپ کرتے ہیں ، ہنسی مذاق کرتے ہیں ،دنیا بھر کی باتیں کرتے ہیں پھر گھر آکر کے سو جاتے ہیں ،ہم اپنے گھر والیوں کو عزت ، پیار ، محبت ،اپنے پن کا احساس اور تھوڑا بھی وقت نہیں دیتے ہیں ،ہم اپنے گھر والیوں کو ایک نوکرانی اور دھوبن سے زیادہ کی حیثیت نہیں دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری بہن بیٹیاں غیروں کے ساتھ بھاگ کر کے اپنی عزت وآبرو اور اپنے ایمان کا سودا کر رہی ہیں کیوں کہ غیر ہماری بہن بیٹیوں کی کمزوری کو سمجھ کر انہیں عزت ، پیار ، محبت اپنے پن کا احساس اور وقت دے رہے ہیں ان کو مال ودولت کی لالچ دیکر ان کی ہر خواہش کو پورا کر رہے ہیں جس کا فائدہ انہیں مل رہا ہے ،اس لئے خدا را ابھی بھی وقت ہے ہم اس پر عمل کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب ارتداد کی آگ ہمارے گھروں میں بھی پہونچ جائے گی پھر ہم افسوس کریں گے مگر اس وقت افسوس کرنا بھی کچھ کام نہیں آئے گا !
اگر ہمیں اپنی بچیوں و بچوں کو ارتداد سے بچاناہے تو پھر سنجید گی سے اس کے اسباب وعوامل پر غور وفکر کرنا ہوگا اور باضابطہ کوششیں کرنا ہوگا اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان چیزوں کو معاشرہ سے دور کرنا ہوگا جن کی وجہ سے ہمارے بچے و بچیاں ارتداد کا شکار ہورہے ہیں ،اگر ہم ہوش میں نہیں آئیں گے اور ان حالات پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر حالات مزید سنگین ہوں گے اور اس وقت اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا ،اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی رضاء والی زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائیں ،اور ہم سب کا ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے