غزل

اکتوبر 28, 2025

میرؔبیدری، کرناٹک

ہم ستاروں سے آگے چلے آئے ہیں
اوربنا سوچے سمجھے چلے آئے ہیں

بے خودی چھائی ہوگی ، تبھی تو میاں
رب کے ہاں تیرے سجدے چلے آئے ہیں

جن کو عورت کا دربار اچھالگا
اُن کی آنکھوں پہ پردے چلے آئے ہیں

جوبھی لکھو ، وہیں ایکس (X) تک کیلئے
وال تک میری، چرچے چلے آئے ہیں

جنگ لڑنی ہے ٹیپو کو ، جس کے لئے
گویا گودی کے بیٹے چلے آئے ہیں

اک نشہ ہے ، عجب سی ریاضت ہے یاں
ملکی چاہت میں دنگے چلے آئے ہیں

بکھرامنظر اُحدکا نظر میں ہے میرؔ
ہاتھ اُٹھالے جو ایسے چلے آئے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے