میرؔبیدری، کرناٹک
ہم ستاروں سے آگے چلے آئے ہیں
اوربنا سوچے سمجھے چلے آئے ہیں
بے خودی چھائی ہوگی ، تبھی تو میاں
رب کے ہاں تیرے سجدے چلے آئے ہیں
جن کو عورت کا دربار اچھالگا
اُن کی آنکھوں پہ پردے چلے آئے ہیں
جوبھی لکھو ، وہیں ایکس (X) تک کیلئے
وال تک میری، چرچے چلے آئے ہیں
جنگ لڑنی ہے ٹیپو کو ، جس کے لئے
گویا گودی کے بیٹے چلے آئے ہیں
اک نشہ ہے ، عجب سی ریاضت ہے یاں
ملکی چاہت میں دنگے چلے آئے ہیں
بکھرامنظر اُحدکا نظر میں ہے میرؔ
ہاتھ اُٹھالے جو ایسے چلے آئے ہیں

